نام نہاد عرب بہاریہ تحریک کے دوران میں ’’ چھوڑیے‘‘ (ارحل) کا نعرہ بڑا مقبول ہوا تھا۔جس پارٹی نے یہ نعرہ وضع کیا تھا،اس کے بارے میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کے لیے یہ ایک درست اصطلاح ہے۔ہم سب عرب بہاریہ تحریک کے اس مرحلے کے مضمرات کے بارے میں آگاہ ہیں کیونکہ عرب دنیا میں اس کے نقصان دہ اور تکلیف دہ نتائج وعواقب کے سامنے آنے میں کوئی زیادہ سال نہیں لگے تھے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2011ء کے اوائل میں متعدد نعروں میں یہ چبھتا ہوا لفظ ’’ چھوڑیے‘‘ استعمال کیا جاتا تھا۔یہ عوام کے جوش وجذبات کا ترجمان تھا اور عوامی آوازوں کو بھی مہمیز دے رہا تھا۔ یہ پیش رفت ایک چھوٹے ملک تیونس تک محدود نہیں رہی تھی اور سیاسی اور تاریخی وزن رکھنے والے ایک بڑے عرب ملک میں بھی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔

شاید اس بات کی توقع نہیں کی جارہی تھی کہ اس کی شاہراہوں پر بھی کسی بڑے ہلے گلے کی راہ ہموار ہوجائے گی اور ایک بے کار طریقے سے کسی حقیقی ’’ عرب انقلاب‘‘ کی راہ ہموار ہوگی یا ہم اس کو ایک حقیقی انقلاب تصور کریں گے۔ پھرعرب بہار کی آگ مصر میں پہنچ گئی۔جن لوگوں نے اس ’’ انقلاب‘‘ میں شرکت کی یا اس کو اڑالیا،انھوں نے بعد میں مصر اور ریاست ہی کو تہس نہس کرنا شروع کردیا ۔

مصر اخوان المسلمون کے لیڈرو ں کا وطن اور ان کی اصل آماج گاہ ہے۔انھیں اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک امیر ترین خلیجی ریاست میں دوستانہ ماحول مل گیا تھا۔

اس موخر الذکر ریاست نے اخوان المسلمون کو ٹھوس حوالے مہیا کرنے کے لیے برسوں کام کیا تھا۔اس نے اخوان کو اس کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت مہیا کی اور اس کو اس کے مقاصد کے حصول میں بھی مدد دی اور ان میں سب سے بڑا مقصد ’’ عرب مصر‘‘ کے لیڈروں کے وطن کو تباہ کرنا تھا۔

اخوان المسلمون

میں اخوان المسلمون کے بارے میں بات نہیں کروں گا بلکہ اس عرب بہار کے آخری نتائج کے بارے میں گفتگو کروں گا۔عرب بہار عرب دنیا پر مسلط کی گئی تھی اور عالمی سیاسی حافظے کو پتا ہے کہ اس کے لیے بے مثال حمایت مہیا کی گئی تھی۔عرب دنیا میں جو کچھ ہوچکا ہے اور آج جو کچھ ہورہا ہے ،اس سفاکیت کو مہمیز دینےکے لیے بھی امداد مہیا کی گئی ہے۔

ہم اس آخری نتیجے کے بارے میں پیشین گوئی کرسکتے ہیں اور اس وقت ان لوگوں کے خلاف ایک محاذ آرائی چل رہی ہے جنھوں نے تیونس ، لیبیا ، عراق ،شام اور فلسطین میں اس تخریب کے بیج بوئے تھے۔

عرب بہار کا منبع اور اس سے متعلقہ ہر چیز کی اصل ایک ہی جگہ تھی اور وہ تھا دوحہ۔ قطر آج ان ممالک میں تباہ کاریوں کے ذرائع کے دفاع یا ان کا جواز پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔اس کی رعونت کا یہ عالم تھا کہ اس کی وجہ سے اس نے ایسے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جن کی ٹھوس مذہبی شناخت قطر ایسی ہی تھی اور ان کے اس خلیجی ریاست کے ساتھ ثقافتی تعلقات بھی استوار تھے۔

قطر کے ’’ جنرل فادر‘‘ نے اپنے ہی مرحوم باپ خلیفہ ثانی کے خلاف 1995ء میں بغاوت برپا کردی تھی اور وہ تخت شاہی پر فائز ہوگئے تھے۔انھوں نے نئے ’’ مرشد‘‘ کے نظریے کو جنم دیا اور ’’عرب بہار کو پھیلنے کے لیے ایک زرخیز ماحول مہیا کیا تھا۔اس کا مقصد بعض بلاکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا۔ مصر اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کو نشانہ بنانا اس ’’ نئے‘‘ دوحہ کا براہ راست ہدف تھا۔

تب قطر ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے چھپ جایا کرتا تھا۔ان میں غیرملکی سرمایہ کاری ،جدید انفرااسٹرکچر کے منصوبے اور وسیع تر مالیاتی صلاحیتوں سےاستفادے ایسے منصوبے شامل تھے۔ اس نے بین الاقوامی منظرنامے میں موجود رہنے کے لیے صورت حال سے فائدہ اٹھایا۔تاہم ’’ جنرل فادر‘‘ کے وضع کردہ منصوبے کے مطابق اس کا خفیہ ایجنڈا عرب اتحاد کو پارہ پارہ کرنا تھا۔’’ جنرل فادر‘‘ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کے لیے بھی ایسی اسکیمیں وضع کی تھیں۔

سادہ نعرہ

عرب بہاریہ تحریک کے دوران احتجاجی مظاہروں میں سب سے سادہ نعرہ یہ لگایا جاتا تھا : ’’چھوڑو‘‘۔ یہ ایک عام اصطلاح تھی جو لوگ اپنے صدور کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ہم نے اس کو لیبیا اور تیونس میں سنا تھا ۔تاہم دوحہ کے لیے ’’ چھوڑو‘‘ کی آواز پوری دنیا میں گونجی تھی۔

جب قاہرہ کے میدان التحریر میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا تو قطر کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا نے علانیہ اور خفیہ طور پر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم انھوں نے ایسا مصری عوام کی محبت میں نہیں کیا تھا کیونکہ انھوں نے تو تحریک کے تاریک دور میں انھیں تنہا چھوڑ دیا تھا اور پھر وہ اخوان المسلمون کو اقتدار میں لے آئے تھے۔

انھوں نے مصر کی جدید تاریخ کے تمام لیڈروں کی کردار کشی اور توہین کی اور ان کا نعرہ ’’ چھوڑو‘‘ سے آگے نہیں بڑھا تھا۔یہ ایک مشکل جنگ تھی اور دوحہ بڑے خفیہ طریقے سے اس کی قیادت کررہا تھا۔اس کا مقصد مصری ریاست کا انہدام اور سعودی اتحاد میں دراندازی کرکے اس کو کم زور کرنا تھا لیکن یہ سب منظر آج آ کر رُک سا گیا ہے۔’’ جنرل کی خواہشات‘‘ کے سامنے اس کا مکمل دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔خاص طور پر دوحہ میں جو اس طرح کی ناکام مشقوں کا عادی ہوچکا ہے۔سچائی کے سامنے ہر چیز منہدم ہورہی ہے۔

دوحہ کے معاملے پر سرزنش اور غصہ بظاہر فرو ہونے والا ہے کیونکہ یہ قطر اور اس کے تسلسل کے مفاد میں ہے۔اب نعرہ کچھ یوں بنتا ہے:’’تمیم چھوڑ دیجیے ، اپنے باپ ،جنرل کے ساتھ چھوڑ دیجیے اور اپنے ساتھ ان کی تاریخ بھی لے جائیے کیونکہ ہم اس کو بالکل بھی فراموش نہیں کریں گے‘‘۔
_________________

فارس بن حزام العربیہ ٹی وی چینل کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے