'شکریہ رمضان'، 'اگر یہ رمضان کا مہینہ نہ ہوتا اور مسلمان جاگ نہ رہے ہوتے تو ہم میں سے کئی لوگ آج زندہ نہ ہوتے'، 'یہ مسلمان نوجوان لڑکے ہی تھے، جو قریبی مساجد سے بھاگتے ہوئے آئے اور ہماری مدد کی ۔۔۔۔، اگر میڈیا ان میں سے کچھ کی غلط حرکات دکھاتا ہے تو آج ان کا مثبت کام بھی دکھانا چاہیے۔'

یہ ہیں وہ الفاظ جو مغربی لندن کے علاقے کینسنگٹن کی 24 منزلہ بدقسمت رہائشی عمارت کے مکینوں نے ادا کیے، اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی سنے جاسکتے ہیں۔ گرینفل ٹاور میں منگل کی شب اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس نے آناً فاناً پوری عمارت کو اپنے حصار میں لے لیا۔ اب تک اس افسوسناک واقعے میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

اس افسوسناک واقعے کی ہولناکی اور انسانی جانوں کے زیاں کا دکھ اپنی جگہ لیکن برطانوی میڈیا میں اس وقت واقعے کی جن پہلوؤں کا ذکر ہو رہا ہے ان میں سے ایک برطانوی مسلمانوں کا حیرت انگیز اور مثبت کردار بھی ہے۔ عموماً برطانیہ میں رہنے والی مسلم کمیونٹی اس بات سے شاکی رہتی ہے کہ ان میں سے کچھ بھٹکے ہوئے اور بے راہ رو نوجوانوں کے انفرادی افعال کا ملبہ بھی پوری مسلم کمیونٹی کے سر پر تھوپ دیا جاتا ہے اور دہشت گردی یا اس سے منسلک کسی جرم میں مسلمان نوجوان کے ملوث ہونے کے بعد برطانوی میڈیا خصوصی طور پر مسلم اقدار اور شناخت کو نشانہ بناتا ہے۔

لیکن اس بار ایسا نہیں، گرینفل ٹاور واقعے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے مواد میں برطانوی مسلم کمیونٹی اپنے بھرپور مثبت کردار کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے اور اب اس کا اقرار برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا بھی کر رہا ہے۔

ہفنگٹن پوسٹ آگ سے متاثرہ عمارت کے رہائشی 20 سالہ خالد سلمان احمد کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وہ رمضان کی وجہ سے بیدار تھا اور سحری کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اسے عمارت میں آگ کا شک گزرا، اس نے فوراً پڑوسیوں کے دروازے کھٹکٹانا شروع کردیے اور یوں آٹھویں منزل پر رہنے والے بہت سے خاندانوں کی جان بچائی۔

معروف برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ لکھتا ہے کہ جب ایک 33 سالہ رہائشی سے صورتحال پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا تو اس نے بتایا کہ 'مسلمانوں نے لوگوں کو باہر نکالنے میں نمایاں کردار ادا کیا، میں نے وہاں کئی مسلمانوں کو دیکھا۔ وہ خوراک اور کپڑے بھی فراہم کر رہے تھے۔' اخبار مقامی مسلمانوں کی فوری امدادی کارروائیوں پر مزید لکھتا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان سب سے پہلے یہاں پھنسے لوگوں کی مدد کو پہنچے، جیسے کہ برطانوی مسلمانوں کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم اسلامک ریلیف کے ذمہ داران اور امدادی کارکن۔ انہوں نے ہی یہاں پہنچ کر پریشان حال لوگوں کی خبر گیری کی اور انہیں خوراک، پانی اور کپڑے مہیا کیے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ مقامی مساجد نے اپنے دروازے متاثرہ خاندانوں کے لیے کھول دیے ہیں تا کہ بے سہارا خاندان یہاں وقتی طور پر پناہ لے سکیں۔ این بی سی نیوز مقامی مسجد "المنار مسلم کلچرل سینٹر" کے مناظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسجد کے باہر اور اندر، ہر طرف لوگوں کی جانب سے لائے گئے امدادی سامان کا ڈھیر لگا ہے، جن میں کپڑے، اشیائے خوردونوش اور پانی شامل ہیں۔ متاثرین کے لیے شروع میں صرف ایک ٹیبل پر کھانے پینے کا سامان رکھا گیا تھا لیکن جلد ہی ان ٹیبلز میں اضافہ ہو گیا کیونکہ مقامی لوگوں کی جانب سے کھانے پینے کا سامان مسلسل بڑی تعداد میں فراہم کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے حادثے کی جگہ کے قریب مقامی مسلمانوں کی جانب سے سڑک پر منعقد کیے جانے والے افطار کی کوریج کی جس کا مقصد گرینفل ٹاور کے متاثرین کو افطار کی خوشیوں میں شریک کرنا اور ان کا دکھ بانٹنا تھا۔ اس موقع پر مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد جمع تھی جنہوں نے سڑک پر ہی افطار کرنے کی جگہ بنائی اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کو خوراک مہیا کی۔ بی بی سی لندن کے نامہ نگار نے بھی ایسے ہی ایک اسلامک سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں مقامی افراد کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کیں۔

یوں برطانوی میڈیا میں اس وقت بطور خاص مسلم کمیونٹی کے مثبت اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور ان کوششوں کو دنیا بھر کے ناظرین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ برطانوی مسلمان، برطانوی معاشرے کا اہم حصہ ہیں، اس وقت برطانیہ میں 30 لاکھ کے قریب مسلمان آباد ہیں اور برطانوی معاشی و معاشرتی زندگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرر ہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ برطانیہ میں ہونے والی 2011 کی مردم شماری کے مطابق، اسلام برطانیہ کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ گزشتہ برس ہی، برطانیہ میں فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کو مانیٹرنگ کرنے والے ادارے 'چیریٹی کمشن' نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صرف رمضان کے مہینے میں برطانوی مسلمانوں نے دس کروڑ پاؤنڈز سے زائد رقم مختلف خیراتی و فلاحی اداروں کو دی۔ اس رپورٹ کے مطابق ماہِ رمضان کے ہر ایک سیکنڈ میں 38 پاؤندز عطیہ کیے گئے جو کہ بذات خود برطانیہ میں رہنے والی مسلم کمیونٹی کی دریا دلی اور انسانیت کے لیے ان کی تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

گرینفل ٹاور میں رونما ہونے والے اندہوناک واقعے کے بعد جس مستعدی سے برطانوی مسلم کمیونٹی نے آگے بڑھ کر متاثرین کو سنبھالنے کی ذمہ داری ادا کی ہے وہ یقیناً قابل تحسین ہے اور رمضان المبارک کے اصل پیغام اخوت و یگانگت کے عین مطابق ہے، 'شکریہ رمضان'۔ بشکریہ ڈان اردو

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے