دنیا بھر میں سعودی سفارت کار ان حقائق کو واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کو قطر چھپا رہا ہے اور ان کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔جب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے یہ کہا کہ شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد اور ریلیف قطر کی امداد کے لیے تیار ہے تو وہ دراصل قطر کی ناکا بندی سے متعلق کذب بیانیوں کا پول کھولنے کی کوشش کررہے تھے۔

انسانی امداد کی شکل میں ریلیف ان ممالک کو بہم پہنچائی جاتی ہے جو محاصرے اور منظم قحط کا شکار ہوتے ہیں لیکن قطر نے ’’ ریلیف‘‘ کی اصطلاح سے انکار کیا اور مسلسل لفظ ’’محاصرے‘‘ کا استعمال جاری رکھا۔ کیا ریلیف سے مراد وہ ممالک نہیں ہوتے جو محاصرہ زدہ ہوں۔

قطری غوغا آرائی بحران کے آغاز کے بعد سے الجھاؤ کا شکار ہے۔اس کے پیش کردہ جواز ، شواہد اور دلائل ٹھوس نہیں ہیں۔

متضاد بیانات

قطر مسلسل متضاد بیانات جاری کررہا ہے اور اس کا آغاز نے اس نے اس بیان سے کیا تھا کہ اس کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی تھی۔

لیکن عملی طورپر قطری جو کچھ کررہے ہیں ،اس سے تو قطری خبررساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیانات کی تصدیق ہی ہوتی ہے اور قطریوں کا تمام سیاسی کردار ان بیانات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

قطری شور وغوغا سے پیدا ہونے والے الجھاؤ سے اس صورت حال کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے جس میں دوحہ نے خود کو دوچار پایا ہے اور یہ سب دراصل اس کی رعونت بھری اور غیر لچک دار پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے