کسی بھی سیاسی نظام کی مضبوطی کی جانچ عہدوں کی تبدیلی کے وقت نظم ونسق کے انتظام کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں بدھ کی صبح یہی کچھ ہوا ہے جب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے محمد بن نایف کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن نایف نے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارک باد پیش کی اور ان کی نئی منصبی ذمے داریوں کے حوالے سے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔موخر الذکر کو کثرت رائے کے بعد نیا منصب سونپا گیا ہے۔

مبصرین یہ دیکھ سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور وہ حکمراں انتظامیہ سے اس بات کی متقاضی ہیں کہ وہ ان تبدیلیوں کے عین مطابق توقعات پر پورا اترے۔تاہم تبدیلی استحکام کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔محمد بن سلمان سےبطور ولی عہد بیعت سیاسی نظام کے فریم ورک اور اس کی روایات کے عین مطابق ہوئی ہے۔یعنی شاہ نے شاہی خاندان کی حمایت سے انھیں ولی عہد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور پھر معاشرے کے مختلف طبقات نے ان کی بیعت کی ہے۔

اس فیصلے کا اعلان بدھ کی صبح کیا گیا تھا اور اس وقت ہر کام معمول کے مطابق ہورہا تھا۔یہ چیز مشرق وسطیٰ میں عام نہیں ہے کیونکہ اس خطے میں تبدیلی ہمیشہ ہی مشکلات کے ذریعے اور مشکلات کے ساتھ آتی ہے۔سعودی عرب میں گذشتہ 80 سال کے دوران میں سیاسی نظام مستحکم ہوا ہے اور شاہ کی قیادت میں انتقال اقتدار کا عمل بڑی خوش اسلوبی سے طے پاتا ہے۔

ہم نے گذشتہ سات سال کے دوران میں سعودی عرب میں انتقالِ اقتدار کے عمل کو بڑی خوش اسلوبی سے طے پاتے ہوئے دیکھا ہے۔اس عرصے میں پانچ ولی عہد مقرر ہوئے ہیں۔ کسی ولی عہد کے انتقال یا اس کی سبکدوشی کے بعد نئے ولی عہد کا تقرر نظام ِحکمرانی اور شاہی خاندان کی روایات کے عین مطابق کیا جاتا ہے جبکہ بہت سے دوسرے نظاموں میں اس کے بالکل برعکس معاملہ ہوتا ہے۔

محمد بن سلمان کی بطور ولی عہد انتخاب میں جو چیز امتیازی ہے ،وہ ان کی عمر اور جدید نظام حکمرانی میں ان کا تجربہ ہے اور یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔وہ جدت پسند ذہن کے مالک ہیں اور سعودی عرب کو اپنے منصوبوں میں جدت لانے کے لیے اسی طرح کی صلاحیت درکار ہے۔انھوں نے اپنی براہ راست نگرانی میں سعودی عرب کے مختلف شعبوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بہت سے منصوبے شروع بھی کیے ہیں۔

تسلسل اور جدیدیت

1970ء کے عشرے کے بعد سعودی عرب کی تبدیلیوں کے عمل کا ساتھ دینے کی صلاحیت کے حوالے سے بہت سے تحقیق ہوئی اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں وقت کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں ، مختلف نسلوں اور کم ہوتے یا سکڑتے ہوئےمعاشی وسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔اس پر مستزاد تسلسل اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج ہے ۔

جو لوگ بادشاہی نظاموں اور بالخصوص سعودی عرب کے شاہی نظام کی نوعیت سے آگاہ ہیں۔ وہ مؤخر الذکر کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور اختیار کرنے کی سب سے اہم صلاحیت کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔ شاہ سلمان نوجوانوں کو آگے لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ معاشرے سے ہم آہنگ ہوں اور اس کی خدمت کریں۔

سعودی عرب کی آبادی کا کثیر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں 60 فی صد کی عمریں تو 30 سال سے بھی کم ہیں۔وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے اور ان کا ادراک بھی کرے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں جدیدیت کے حوالے سے شروع کیے گئے بیشتر منصوبے نوجوانوں سے ہی متعلق ہیں۔

ایک مشکل ورثہ پانے والی حکومت کے پاس کوئی بہت زیادہ آپشن نہیں تھے کیونکہ اس کے ترقیاتی منصوبوں اور نظم ونسق کا بنیادی انحصار تیل کی آمدن پر تھا۔تیل کی آمدن پر ایک مخصوص وقت تک ہی انحصار کیا جاسکتاہے لیکن اگر مسلسل آمدن کے صرف اسی ایک ذریعے پر انحصار کیا جائے تو یہ قومی معیشت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے اور یہ امر نئی نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

اس کا متبادل یہ ہے کہ ریاست کی انتظامی صلاحیت کو ترقی د ی جائے اور اس کے فرائض کا از سرنو تعیّن کیا جائے۔اس کا خلاصہ شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں جدیدیت کا تصور ہے۔

نئے ولی عہد کے تقرر سے ریاست ،شاہی خاندان ،ولی عہد کے عہدے اور سیاسی مستقبل سے متعلق وقتاً فوقتاً اٹھائے جانے والے سوالات کا بھی اب خاتمہ ہوجانا چاہیے۔اس سے اس ملک میں استحکام آئے گا حالانکہ اس کے سوا باقی خطہ تو اس وقت اتھل پتھل کا شکار ہے۔

ہم سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کے سعودی عرب کے سکیورٹی اداروں کی ترقی اور بہتری کے لیے اقدامات کو بھی فراموش نہیں کرسکتے۔ان کے اقدامات کے نتیجے ہی میں سعودی عرب میں 2003ء میں بم دھماکوں سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکی ہے۔شہزادہ محمد بن نایف کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار پر ہمیشہ احترام کیا جاتا ہے۔

حرفِ آخر یہ کہ سعودی عرب کا استحکام پورے خطے کے استحکام کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور یہ خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور ان ممالک کے بھی مفاد میں ہے جو شاید سعودی عرب کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی سعودی عرب کے استحکام سے مضبوطی پکڑ سکتے ہیں۔طوائف الملوکی ایک وبا ہے اور یہ وبائی امراض کی طرح پھیل سکتی ہے۔یہی بات استحکام پر بھی صادق آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے