الریاض میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے حال ہی میں یورپی یونین کی سیاسی اور سکیورٹی کمیٹی کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی ہے۔اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی میں برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفراء اور یورپی خارجہ ایکشن سروس کے نمائندے شامل ہیں۔

یہ کمیٹی یورپی یونین کی مشترکہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی اور مشترکہ سکیورٹی اور دفاعی پالیسی کو وضع کرنے کی ذمے دار ہے۔اس طرح کے اجلاسوں کی مندرجہ ذیل نکات کے ذریعے اہمیت واضح کی جاسکتی ہے:

اول : جی سی سی خطے میں استحکامی عامل ہے اور ای یو کی پالیسی سکیورٹی کمیٹی کے چئیرمین سفیر والٹر اسٹوینز نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’ جی سی سی کے ساتھ شراکت داری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔کویت اور الریاض کے دورے جی سی سی کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے فریم ورک کے تحت کیے جاتے ہیں اور جی سی سی خطے میں ایک اہم استحکامی عامل ہے‘‘۔

جی سی سی کا استحکام

چناں چہ جی سی سی صرف تیل کی ایک مارکیٹ نہیں ہے بلکہ وہ امن ،سلامتی اور استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا :’’ کونسل نہ صرف دنیا کو تیل برآمد کرتی ہے بلکہ وہ امن اور سلامتی بھی برآمد کرتی ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ نام نہاد عرب بہار کے بعد مشرق وسطیٰ نے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا ہے او ر دہشت گردی اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد دو ایسے ایشو ہیں جو خطے کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ دونوں چیلنجز یورپی یونین کو بھی درپیش ہیں۔

دوم: جی سی سی یورپی یونین کی اہم شراکت دار ہے۔ای یو اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر طویل مذاکرات ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود دونوں بلاکوں کے درمیان 2015ء میں تجارت کا حجم 155 ارب یورو تک پہنچ گیا تھا۔

یورپی یونین جی سی سی کی پہلے نمبر کی کاروباری شراکت دار ہے جبکہ جی سی سی یورپی یونین کی پانچویں نمبر کی کاروباری شراکت دار ہے۔اس لیے جی سی سی کےعلاقائی استحکام سے ان دونوں بلاکوں کا مشترکہ مفاد وابستہ ہے۔اب دونوں بلاکوں کے الریاض میں ای یو ،جی سی سی آیندہ بزنس فور م میں بہت سے معاشی اقدامات متوقع ہیں۔

بغاوتیں اور دہشت گردی

سوم: دہشت گردی دنیا کے تمام ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔خطے میں عوامی بیداری کی تحریکوں اور دہشت گرد گروپوں میں اضافے کے درمیان قریبی تعلق ہے۔سیاسی استحکام نہ ہونے اور سلامتی اور فوجی اداروں کی نااہلی اور کمزوریوں کی وجہ سے عراق ، شام ،لیبیا اور یمن کی سرحدوں کا تحفظ نہیں کیا جاسکا ہے اور ان ممالک میں ابتر حالات بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

دہشت گردی جی سی سی اور یورپی یونین کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے زیادہ کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تمام دہشت گرد تنطیموں کو شکست دی جاسکے اور انتہا پسندانہ نظریے کا مقابلہ کیا جاسکے۔

حرفِ آخر یہ کہ جی سی سی اور یورپی یونین کے درمیان بہت سے ایشوز پر مشترکہ مفادات اور یکساں نقطہ نظر مضبوط تزویراتی تعلقات کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بن سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں دونوں بلاکوں میں متوازن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں گے۔
_______________________
ڈاکٹر ابراہیم العثیمین الریاض میں مقیم مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر اور سکیورٹی تجزیہ کار ہیں۔ان سے اس ای میل پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے: Ibrahim.othaimin@gmail.com.
اورTwitter @Alothaimin.
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے