یہ سوال اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت ہی خوف ناک ہے اور وہ یہ کہ کسی فرد کا دین خواہ کچھ ہی ہو ،کیا وہ کعبۃ اللہ کو اپنے کسی حملے میں ہدف بنا سکتا ہے؟ وہ دنیا کی سب سے پُرامن اور روحانی جگہ میں موجود فرزندانِ توحید کو کیسے نشانہ بنا سکتا ہے؟

یہ سوال اس وقت اور زیادہ پراسرار اور اہم بن جاتا ہے جب حملہ آور نے اسلام کا جھنڈا تھام رکھا ہو۔ وہ قرآن مجید کا حوالہ دے رہا ہو اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کا بھی دعوے دار ہو۔

جس ریاست ،گروپ یا فرد نے اسلام کو ایک پُرامن دین کے طور پر قبول کررکھا ہو ، وہ رمضان المبارک کے دوران میں قرآن مجید کے نزول کے مہینے میں اللہ کے گھر، الحرم الشریف میں مسلمانوں کو کیسے نشانہ بنا سکتا ہے۔

ان سوالوں کا بالکل سیدھا سا جواب ہے ۔وہ یہ کہ ایسے افراد کا اسلام یا کسی بھی اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے والا تو محض آلہ کار ہے۔وہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنے ذہن ، روح اور انسانیت کو کھو چکا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد سیدھا جنت میں جائے گا اور وہ مسجد نبوی یا مسجد حرام میں عبادت میں مصروف افراد اور زائرین کو قتل اور خوف زدہ کرکے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے حوض الکوثر کا جام پیے گا۔

جہاں تک دہشت گردوں کو تحریک دینے ، ان کی رہ نمائی اور ان کی مدد ومعاونت کرنے والوں کا تعلق ہے تو مجھے اس بات میں شک نہیں ہے کہ وہ یہ سب جانتے ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔وہ اپنے بچوں اور خاندانوں کے ساتھ محفوظ گھروں میں بیٹھتے ہیں۔وہ اپنے مذموم عالمی سیاسی ایجنڈوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں۔انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ کتنے بے گناہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے یا مجروح ہوں گے اور اس سے اسلام کا تشخص کتنا مسخ ہوگا۔جہاں تک ان کے مقصد کا تعلق ہے تو اس کا ان کے دین یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اہم مقصد

میرے خیال میں ان کا سب سے اہم اور بڑا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ سعوی عرب الحرمین الشریفین اور ان کے زائرین کو تحفظ مہیا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔اس لیے حج اور عمرے کے لیے انتظام کو بین الاقوامی بنایا جانا چاہیے اور ایران ہمیشہ سے یہی مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے۔

ان کا ایک مقصد نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی ناکام بنانا تھا۔انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور انھیں اس میں نمایاں کامیابیاں ملی ہیں۔

عرب اور مسلم ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف حالیہ کامیابیوں سے بھی ان کے اسپانسروں کو غیظ وغضب کا شکار ہونا چاہیے۔چناں چہ اس کے ردعمل میں انھوں نے ہمارے خلاف وسیع تر اثرات کے حامل حملوں کی سازش تیارکی تھی۔ان کے ذہنوں میں اپنے مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تراویح میں ختم قرآن سے بہتر کوئی لمحہ نہیں ہوسکتا تھا۔اس وقت چالیس لاکھ زائرین اور عبادت گزار ایک جگہ پر ایک امام کے پیچھے صف آراء تھے ۔اس روح پرور منظر کو کم وبیش ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمان براہ راست دیکھ رہے تھے۔

اس سے زیادہ آسان اور موثر حملہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ پہلے ایک خودکش حملہ کیا جائے۔ وہاں اس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ جائے ۔ پھربڑی تعداد میں لوگ اس بھگدڑ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور افراتفری کا ایسا سماں ہو کہ اس پر قابو پانا مشکل ہوجائے۔اس سے بہتر اور کیا پلیٹ فارم ہوسکتا ہے کہ یہ سب کارروائی سعودی قیادت اور ان کے مہمانوں ،عرب اور مسلم لیڈروں کی آنکھوں کے سامنے ہو کیونکہ وہ مسجد الحرام کے نزدیک ہی واقع صفہ محل میں عبادت کررہے تھے۔

یہ لوگ شاید یہ بات بھول گئے تھے کہ اس گھر کے تحفظ کی ذمے داری خود اللہ نے لے رکھی ہے ۔ سعودی عرب کی ریاست رحمان کے مہمانوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیےتمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے اور ہر سعودی شہری بھی ان دہشت گردوں کا دشمن ہے۔ہمیں ان سماج دشمن عناصر کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ان کو نشانہ بنایا اور ان کا پیچھا کیا جارہا ہے۔وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے عزم کی تلوار ان کا پیچھا کرے گی خواہ یہ ایران ہی کیوں نہ ہو۔

اسلامی قوم اور عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششیں تیز کرنی چاہییں۔ دہشت گردوں کی تمام مذموم اسکیموں کو ناکام بنانا چاہیے اور دہشت گردی کے تمام اسپانسروں کو ہدف بنانا چاہیے۔

قصہ مختصر یہ کہ ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے ۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ ہماری نگراں آنکھیں اور ٹھوس ڈھالیں ہیں۔اللہ کے مہمانوں اور الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات اور کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دہشت گردوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کے دوران میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کی اور انھیں خصوصی خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اللہ ان سب پر رحم فرمائیں۔
_____________________
ڈاکٹر خالد ایم بطرفی ایک سعودی صحافی اور لکھاری ہیں۔وہ جدہ میں مقیم ہیں۔ان سے اس برقی پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
kbatarfi@gmail.com
اور ٹویٹر  @kbatarfi
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے