ناراض ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کے بعد قطر چاروں طرف سے نرغے میں آئی ہوئی بلی کی طرح ہاتھ پاؤں ماررہا ہے تاکہ وہ صورت حال سے باہر نکل سکے۔وہ بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی حقیقی معاملہ کرنے اور یہ تسلیم کرنے کے بجائے کہ وہ خطے میں ایک خطرناک اور سنجیدہ مسئلے کا نمائندہ ہے،اپنے سابقہ حربے ہی آزما رہا ہے۔

ہم قطری بلی سے یہ کہہ سکتے ہیں:’’ کھڑکیوں سے کودنے کی کوشش ترک کردو کیونکہ بحران سے نکلنے کا ایک ہی دروازہ ہے ۔آپ کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچنا ہوگا۔ایران کے روحانی پیشوا آپ کو نہیں بچا سکیں گے۔ترکی کے فوجی یا امریکی حلقے بھی نہیں جو نصف حل تجویز کررہے ہیں۔جرمنوں کے بیانات یا دوسرے ممالک کے بیانات بھی آپ کو نہیں بچا پائیں گے‘‘۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک ( سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،مصر اور بحرین) نے تیرہ مطالبات پیش کیے ہیں لیکن دراصل وہ صرف ایک ہی مقصد پر مشتمل ہیں اور وہ یہ کہ قطر ی رجیم خطے کے دوسرے ممالک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کردے۔اگر قطر اپنا سخت موقف جاری رکھتا ہے تو اول الذکر چاروں ممالک اس کو روکنے کی کوشش کریں گے کیونکہ انھوں نے اب یہ تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور بقاکو درپیش خطرات پر خاموش نہیں رہیں گے۔چناں چہ وہ اس کو اس وقت تک روکیں گے جب تک وہ خود اپنی دوائی کا مزا نہیں چکھ لیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ ممالک اپنے مطالبات پر مصر کیوں ہیں؟ مصر گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے قطری رجیم پر یہ زوردے رہا ہے کہ وہ مسلح یا سول حزب اختلاف کی حمایت سے دستبردار ہوجائے کیونکہ مصری امور کو نمٹانا مصری عوام ہی کا کام ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی قطر سے یہی چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ قطر ان ممالک کے اندرون اور بیرون انتہا پسند حزب اختلاف کو رقوم مہیا کرنا بند کردے اور یمن اور دوسرے علاقوں میں ان کے خلاف مسلح گروپوں کی حمایت سے بھی دستبردار ہوجائے۔ چوتھے ملک بحرین کو قطر کی جانب سے مسلح اور سول حزب اختلاف کو رقوم کی فراہمی کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

جھوٹ بے نقاب

یہ ممالک ان تیرہ مطالبات یا شرائط پر اصرار کیوں کررہے ہیں؟انھوں نے اس ملک کے ساتھ ماضی میں بھی مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے تھے اور قطر نے کذب بیانیوں کا سہارا لیا تھا مگر بعد میں اس کے یہ سب جھوٹ بے نقاب ہوگئے تھے۔

2013ء میں الریاض میں قطری رجیم نے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے تھے اور اس میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ہمسائے سعودی عرب کے خلاف کسی بھی سرگرمی میں فریق نہیں بنے گا۔

جب ان ممالک نے احتجاج کیا کہ قطر اپنے وعدوں کو ایفاء نہیں کررہا ہے تو اس نے پھر یہ دعویٰ کیا کہ اس نے تو کسی چیز کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔اس لیے وہ کوئی اقدام کیوں کرنے لگا؟ اس کا یہ انکار کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔مصالحت کرانے والے ممالک نے بعد میں قطر کے وعدوں کی پاسداری کے جائزے کے لیے ایک میکانزم تجویز کیا تھا لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے میں انھیں یہ پتا چلا کہ انھیں جس بھی بحران کا سامنا ہوا ہے،اس میں قطر کا ہاتھ کارفرما رہا ہے۔

انھیں یہ بھی پتا چلا کہ دوحہ تو انھیں اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے کے درپے ہے اور اس سے بھی بڑی بات یہ تھی کہ وہ جھوٹ کا بھی سہارا لے رہا تھا۔قطر نے یہ دعویٰ کیا کہ اس سے جو کچھ کہا گیا ،وہ اس کی پاسداری کا پابند تھا۔اس نے عملی طور پر الریاض معاہدے کی پابندی کرنے کے نام پر دھوکا دہی پر مبنی حربہ اختیار کیا۔ اس نے دوحہ میں حزب اختلاف کی انتہا پسند شخصیات کی میزبانی کا سلسلہ تو روک دیا لیکن انھیں ترکی ، برطانیہ اور امریکا ایسے ممالک میں منتقل کردیا تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر اپنے ممالک کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

قطر نے انھیں وہاں اپنے اخراجات پر منتقل کیا اور ٹھہرایا ۔ پھر انھیں رقوم بھی مہیا کیں۔ان میں سے بعض شخصیات کو قطر کی بھی شہریت دی گئی تاکہ وہ یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ مصریوں یا سعودی انتہا پسندوں کو تو رقوم مہیا نہیں کررہاہے۔

اس نے الجزیرہ چینل کو بھی پابند کیا کہ وہ سعودی عرب کے نزدیک نہ پھٹکے اور اس کے ذریعے اس نے دہشت گردوں کی ریکارڈنگ کو نشر کرنے کا سلسلہ بھی بند کردیا۔ تاہم وہ اس کے بجائے متعدد میڈیا نیٹ ورکس کو یہی کردار نبھانے کے لیے میدان میں لے آیا۔ ان نیٹ ورکس میں ترکی اور برطانیہ میں اس کے فنڈز سے چلنے والے ٹیلی ویژن چینلز بھی شامل ہیں۔

بحران میں شدت

قطر اب یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایک مختلف حربے کے ذریعے بدستور دھوکا دے سکتا ہے۔تاہم اب بحران میں شدت آچکی ہے۔مصر کا یہ کہنا ہے کہ قطر کے اقدامات سے اس کی سلامتی کو نقصان پہنچاہے۔خاص طور پر اس کی جانب سے لیبیا میں مسلح دہشت گرد گروپوں کو رقوم کی فراہمی سے مصر کی قومی سلامتی خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔

ان گروپوں نے الجزیرہ کی تقریبات کے نام پر مصر پر حملہ کیا تھا اور اس کے خلاف جذبات کو ابھارا تھا۔سعودی عرب بھی یمن کے حوثیوں کی جانب سے اپنے سرحدی شہروں پر گولہ باری پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔وہ ایرانیوں اور قطریوں کی جانب سے ملنے والی امداد کی بدولت ہی سعودی شہروں کی جانب حملے کررہے تھے۔

سعودی عرب قطر کی جانب سے گم کردہ راہ سعودیوں کو ملنے والی رقوم پربھی خاموش نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ یہ سعودی شام اور عراق میں داعش اور النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ قطر کا ان سعودیوں کے لیے حقیقی منصوبہ یہ تھا کہ وہ بعد میں جب اپنے آبائی وطن میں لوٹیں تو پھر وہاں لڑیں۔قطر کا یہ منصوبہ اس حربے کے بالکل مشابہ تھا جو ا س نے گذشتہ دو عشروں کے دوران میں افغانستان میں آزمایا تھا ۔اس نے سعودیوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا اور انھوں نے بعد میں افغانستان میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

جنگ بالکل واضح ہے۔قطر نظاموں کو کم زور کرکے یا ان کا تختہ الٹنے کی سازش کرکے ہدف بناتا ہے۔ اس تناظر میں یہ ناگزیر ہوجاتا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں کا اسی انداز میں جواب دیا جائے۔چنانچہ اس بد تمیز اور بدنام زمانہ بلی کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ پروپیگنڈے کے پیچھے چھپنے کے بجائے سفید پرچم بلند کردے۔

یہ انتباہ اور خبردار کیا جارہا ہے کہ محاذ آرائی ’’ صفوان کے خیمے‘‘ ایسے واقعے جیسی ہوسکتی ہے لیکن ہمیں دوحہ کے بارے میں یہ تو خدشہ لاحق ہے کہ وہ ’’ رابعہ اسکوائر‘‘ ایسا ہوسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے