پاکستانی لباس میں ملبوس سعودی سفیر کی گفتگو میں بھی پاکستانیت مہک رہی تھی۔ مروان بن رضوان کے ساتھ سینئر صحافیوں کی ملاقات کا اہتمام نہایت سلیقے سے کیا گیا تھا۔ پی سی ہوٹل کے ایک الگ کانفرنس روم میں نہایت جامع اور کھلے ذہن کے ساتھ گفتگو کا ایک حصہ آف دی ریکارڈ تھا۔ ایک چابکدست سفارتکار کے طور پر جناب مروان بن رضوان صرف علاقائی ہی نہیں عالمی امور پر بھی بڑی روانی سے اظہار خیال کرتے رہے‘ سعودی عرب کی پالیسیوں کی تفصیلات سے شرکا ئے محفل کو آگاہ کرنے کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن میں کئی اور امور کی بھی وضاحت کی گئی۔

پاک سعودیہ تعلقات کا ذکر آنے پر نہایت گرمجوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محترم سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں اور برادرانہ تعلقات کا یہ سلسلہ تمام شعبوں پر محیط ہے۔ سعودی عرب میں ولی عہد کی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سارا عمل طے شدہ اصولوں کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ اس حوالے سے حکمران خاندان میں مکمل اتفاق رائے ہے کسی قسم کی کوئی ناراضی نہیں‘ بعض دشمن عناصر افواہیں پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔شاہی خاندان کے ساتھ ساتھ سعودی عوام بھی ملک کا مستقبل نوجوان قیادت کے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں سفارتی اور معاشی حوالے سے جو چیلنجز پیدا ہونے جا رہے ہیں سعودی قیادت نے اسکا بروقت ادراک کرتے ہوئے وسیع البنیاد حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ سی پیک کو عظیم ترین اقتصادی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ ہم اس منصوبے کی جلد تکمیل اور فقید المثال کامیابی کے لئے نہ صرف دعا گو ہیں بلکہ ہر طرح سے تعاون فراہم کرنے پر بھی تیار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے سی پیک کے حوالے سے درپیش خطرات کا خود ہی ذکر کرتے ہوئے جن عوامل اور عناصر کا ذکر کیا پاکستانی عوام بھی سو فیصد انہی کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے بھائی کے طور پر پاکستان کے بارے میں سعودی عرب کی اولین ترجیح یہی ہے کہ یہاں ہر طرح کا استحکام برقرار رکھا جائے۔ ایک مستحکم پاکستان ہی اپنے تمام مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔ ریاض میں گزشتہ دنوں ہونے والی مسلم ممالک کی کانفرنس اور امریکی صدر ٹرمپ کی آمد کے بارے میں بھی کئی زاویوں سے گفتگو ہوئی سعودی سفیر نے اس حوالے سے کھل کر بات کی اور ہر طرح کے سوالات کے جوابات دیئے‘ قطر کی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ خلیج تعاون کونسل کا ایک ملک انتہا پسند گروپوں کو مسلسل امداد اور وسائل فراہم کرتا رہے اور ہم کوئی ایکشن نہ لیں۔

تنازع کا پس منظر بیان کرتے ہوئے سعودی سفیر نے وضاحت سے بتایا کہ قطری حکام کتنے عرصے سے کن کن سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ قطر کے محاصرے کی بات سرے سے غلط ہے جس طرح سے ایک خاندان میں کسی رکن سے زیادہ ناراضی ہو جائے تو اس سے میل جول ترک کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے قطری حکام کو بائیکاٹ کے ذریعے ناراضی ظاہر کی جا رہی ہے۔ جن معاملات پر حالیہ ایکشن لیا گیا ہے اس کے بارے میں قطری حکام کو پچھلے چند سالوں کے دوران وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جاتا رہا ہے جب نوٹ کیا گیا کہ کوئی صورت نہیں رہی تو مجبوراً کارروائی کرنا پڑی۔ اس پیچیدہ اور تلخ صورتحال کے باوجود سعودی سفیر نے یقین ظاہر کیا کہ قطر سے معاملات طے پا جائیں گے اور وہ مخالفانہ سرگرمیاں ترک کر کے ایک بار پھر عرب اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ بات چیت کے اس سیشن میں یمن کی صورتحال ‘شام اور عراق میں جاری لڑائی اور دیگر علاقائی تنازعات کا بھی تذکرہ ہوا۔ کچھ آف دی ریکارڈ کچھ آن دی ریکارڈ گفتگو ہوئی۔

سعودی عرب کے خلاف استعمال ہونے والی انتہا پسند تنظیموں کا ذکر دلچسپ پیرائے میں ہوا۔ محترم سفیر نے ان انتہا پسندوں کو استعمال کرنے والوں کے بارے میں نام لئے بغیر چند ایسے سوالات اٹھائے جن کے اندر ہی جوابات موجود تھے انہوں نے کھل کر کہا کہ سعودی عرب کو اقتصادی کے ساتھ ساتھ بڑی فوجی طاقت میں تبدیل کرنے کے لئے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس حوالے سے بھی پاکستان کا تعاون سب سے نمایاں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ خطے کے مختلف ممالک میں مداخلت کر کے امن و امان تہہ بالا کرنے کے منصوبے جاری رکھے گا اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔ سفیر خواہ کتنا ہی ذہین وفطین ہو اور بڑے سے بڑے ملک کی نمائندگی کرتا ہو آخر کوہوتا ایک انسان ہی ہے‘ ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے کا موقع ملے تو کسی نہ کسی حوالے سے کوئی نہ کوئی نتیجہ اخذ کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

کسی سوال کے جواب میں یا پھر خود بھی اظہار خیال کے دوران کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتا ہے کہ جس سے اس کی پسند ناپسند وغیرہ کی جھلک مل جاتی ہے۔ سعودی سفیر سے طویل ملاقات کے اس سیشن میں کسی موقع پر بھی شبہ تک نہیں ہوا کہ پاک سعودی عرب تعلقات کسی بھی حوالے سے الجھاؤ یا تناؤ کا شکار ہیں۔ ہر معاملے میں مکمل ہم آہنگی کا تاثر سامنے آیا۔ یہ بات مگر طے ہے کہ سعودی قیادت عالمی اور علاقائی حوالے سے اپنی حکمت عملی نہ صرف طے کر چکی ہے بلکہ اس حوالے سے پوری طرح سے چوکس اور پراعتماد بھی ہے۔

ملاقات کے بعد کھانے کی میز پر بھی تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہا۔ لطیف پیرائے میں گفتگو کے دوران سعودی سفیر نے لاہور کے کھانوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ واقعی زندہ دلوں کا شہر ہے شرکائے محفل نے مہمان سفیر کا شکریہ ادا کرتے نہ صرف سعودی عرب بلکہ تمام مسلم امہ کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا ۔یہ امید ظاہر کی گئی کہ مسلم ممالک مل کر چلیں گے اور وسیع تر عالمی استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے