گذشتہ بدھ کے روز ایک حیران کن واقعہ جو رونما نہیں ہوسکا تھا،وہ امیرکویت کی ثالثی کی کوششوں کے جواب میں قطر کا مثبت ردعمل ہوسکتا تھا۔اگر قطر مثبت ردعمل دیتا تو اس سے موجودہ بحران ختم ہوسکتا تھا۔منفی ردعمل کوئی نئی بات نہیں تھی۔قطر کی جانب سے اس کی توقع تھی اور وہ کوئی ایک ماہ قبل سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر کے اپنے خلاف بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد سے اسی طرح کے منفی ردعمل کا اظہار کرتا چلا آرہا ہے۔

قطر سے صرف یہ تقاضا کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں اور رویے کو ختم کردے اور ایک معقول ریاست بن جائے۔ اس سے جس چیز کا تقاضا کیا جارہا ہے، دوسری ریاستیں پہلے ہی اس پر عمل پیرا ہیں۔یہ قطر کے بار بار کے بیانات کا بہترین ردعمل ہے کیونکہ وہ یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ اس سے کیے جانے والے مطالبات اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں اور وہ یہ موقف اختیار کرکے صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ جب ان چار ممالک نے قطر کے بائیکاٹ کا دلیرانہ فیصلہ کیا تو وہ مکمل طور پر اس بات سے آگاہ تھے کہ قطر کو اس کے جارحانہ رویے سے دستبردار کروانا ایک طویل اور صبر آزما کام ہوگا۔

ان چاروں ریاستوں نے ضبط وتحمل سے سے کام لیا ہے جبکہ ان کے باغی ہمسائے میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔قطر کو پہلے خبردار کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کا بائیکاٹ کیا گیا اور اس کو تنہا کردیا گیا۔اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں ایک فطری بات تھی۔

آیندہ مرحلہ یہ ہوگا کہ قطر سے معمول کے حالات کی جانب لوٹنے پر اصرار کیا جائے گا اور اس کا دائرے سے باہر رہنا تادیر کوئی آپشن نہیں ہوگا۔بدقسمتی سے قطر کی سعودی عرب کے استحکام اور اس کو تقسیم کرنے کی سازش کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔یہ سابق امیر قطر کا خواب تھا۔انھوں نے یہ بھی ثابت کیا تھا کہ قطری لیڈر ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

تخریب کاری

اس تخریبی مقصد کو نظر انداز کرکے قطری رویے کا تجزیہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آئیں اس تنازع کو ذرا سادہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا تعلق صرف ایران اور الجزیرہ سے جوڑتے ہیں لیکن یہ تو ایک بڑے منصوبے کے آلہ کار تھے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطر مشتبہ تعلقات کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے کیونکہ قطری رجیم نے دوعشروں کے دوران میں ان تعلقات کو پروان چڑھایا تھا۔اس لیے آیندہ مرحلہ دوحہ کے لیے زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ وہ آزادانہ باہمی مفادات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے جبکہ وہ اپنے ہمسایوں کے خلاف سازشیں بھی کرتا ہے۔

سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے:آپ میری سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہو اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کرتے ہو۔اب وقت آ گیا ہے کہ تم دو آپشنز کا انتخاب کرو۔اول ،آپ اپنے ہوش وحواس سے کام لو اور اپنے سیاسی نظریے کو بحال کرو یا پھر مضمرات کا سامنا کرو اور بھاری قیمت چکاؤ ۔

ایک سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات میں ا س کے جیسی کارروائیوں کی ہرگز بھی پیروی نہیں کی گئی ہے۔ قطر میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے کسی دہشت گرد گروپ کی حمایت نہیں کی گئی تھی اور اس ملک کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس کی بھی کوئی کارروائیاں نہیں کی گئی تھیں۔

حالانکہ قطر خطے میں گذشتہ کئی سال سے یہی کچھ کرتا چلا آرہا تھا۔ان چاروں ریاستوں نے صرف یہ کیا ہے کہ انھوں نے قطر کو ان مفادات سے محروم کرنے کے لیے اپنا حق استعمال کیا جن کو وہ ایک طویل عرصے سے حاصل کرتا چلا آرہا تھا لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ دوحہ ایک جانب تو خطے میں اپنی تخریبی پالیسی کو جاری رکھنے پر اصرار کررہا ہے اور دوسری جانب وہ ایک برادر ملک کے طور پر بھی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات موثر اور معقول ہیں کیونکہ ان کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا گیا تھا اور اس ضمن میں کسی بین الاقوامی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔دوسری جانب قطر نے موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس نے تنازع کے حل کی کوشش نہیں کی۔اگر یہ تنازع اسی طرح جاری رہتا ہے تو چاروں ممالک کی جانب سے مزید پابندیوں کی پیشین گوئی کی جانی چاہیے۔

بہت جلد قطر میں بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوجائے گا۔بالخصوص اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کی کاروباری لاگت بڑھ جائے گی۔بحران کے آغاز ہی سے بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک کا ایک بنیادی پیغام رہا ہے اور وہ یہ کہ قطر کے ساتھ برائی کے کھلے دروازے کو بند کردیا جائے۔اس پر قطر کے جواب سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ اپنے امور کو اپنے ہمسایوں اور برادر ممالک کے بغیر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آئیں قطر کو اس راستے پر اکیلے ہی چلنے دیں اور آنے والا وقت ہی یہ بتائے گا کہ کون واپس آتا ہے۔قطر بعد میں ضرور لوٹ آئے گا ۔خواہ وہ اس کو پسند کرے یا نہ کرے ،اس کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہونے والی افراتفری اور تباہی کے ازالے کے بعد ہی وہ واپس آئے گا۔
______
سلمان الدوسری اخبار الشرق الاوسط کے سابق ایڈیٹر انچیف ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے