سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کا ایک ٹی وی چینل کو زبردستی بند کرانے کا مطالبہ آزاد میڈیا کے حامی کسی بھی شخص کو پہلی نظر میں تو قابل اعتراض نظر آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا جی سی سی ممالک کے مطالبات اور الزامات کا کوئی میرٹ بھی ہے؟

الجزیرہ پہلا عرب نیوز چینل تھا جس نے بظاہر خوشامدانہ پالیسی اختیار نہیں کی تھی اور اس پر اس کو سراہا گیا تھا۔بیشتر مبصرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اسٹیشن عربی اور انگریزی زبانوں میں اپنی نشریات کے ذریعے قطر کے ایک آلہ کار کے طور پر ہی کردار ادا کر رہا ہے اور قطر اس کو طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی بننے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے لیکن پریس کی آزادی کے اس نام نہاد علمبردار کا ایک تاریک پہلو بھی ہے اور وہ کوئی زیادہ لبرل بھی نہیں ہے۔

آئیے کچھ حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔قطری حکومت کا ملکیتی ٹی وی اسٹیشن اپنے طور پر خود کو خطے میں انسانی حقوق کا علمبردار اور چیمپئن قرار دیتا ہے جبکہ اس خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب مثال کے طور پر الجزیرہ کا اسی معاملے میں جائزہ لیتے ہیں۔الجزیرہ نے قطر میں 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کے لیے اسٹیڈیمز کے کٹھن تعمیراتی کام کے دوران مرنے والے غیر ملکی تارکین وطن مزدوروں کی کیا رپورٹنگ کی ہے؟ کم سے کم بارہ سو افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔الجزیرہ پر ان کی کوریج کیا رہی ؟بالکل صفر۔

تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس اسٹوری میں الجزیرہ نے بالکل بھی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ مزدوروں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں پر حکومت پر کوئی تنقید نہیں کی گئی تھی۔یقینی طور پر یہ آزادیِ اظہار کی صریح خلاف ورزی تھی۔ کسی بھی اور لبرل جمہوریت میں اس طرح کی اسٹوری صفحہ اول کی خبر ہوتی۔

جب 1980ء کے عشرے میں برطانیہ نے افراتفری کے عروج کے دور میں آئرش ری پبلک آرمی کے ترجمان کے بیان شائع اور نشر کرنے پر پابندی عاید کی تو اس پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ پھرآئرلینڈ کی بائیں بازو کی جماعت سِن فین کے لیڈر جیری ایڈمز اور دوسرے ارکان کی سرگرمیوں کو فلمانے کی اجازت تو دے دی گئی تھی لیکن ان کی آوازیں کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔

خیمے میں اونٹ

لیکن قطر میں تو اونٹ خیمے میں گھس آیا تھا تو اس کی ایک چوہے جتنی خبر بھی نہیں دی گئی تھی اور ان دعووں کے بارے میں کیا کہا جائے کہ الجزیرہ نے ماضی میں دہشت گردی کے حامیوں کو اپنے تحفظات نشر کرنے کی اجازت دی تھی اور اس نے عالمی جنگجوؤں کو (اپنے ایجنڈے کی تشہیر کے لیے) ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تھا۔

الجزیرہ ان دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کو بڑے جامع انداز میں کور کرتا رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندانہ نظریات کی عشروں سے تبلیغ کررہے تھے۔ اس کوریج کے نتیجے میں دہشت گرد گروپ کھل کر منظرعام پر آ گئے اور ان کے لیے نوجوان عرب حامیوں کو اپنے دام تزویر میں لانا اور اپنا دائرہ اثر بڑھانا آسان ہوگیا۔اگر اس طرح جامع انداز میں ان گروپوں کی کوریج نہ کی جاتی تو کیا جنگجوؤں کی تعداد چند سو سے آج ہزاروں میں پہنچ سکتی تھی؟

عراق میں داعش اس کی ایک مثال ہے۔اس نے عراق میں ایک چھوٹے اور غیر معروف گروپ کے طور پر کام شروع کیا تھا لیکن یہ تنظیم بہت جلد پھل پھول کر ایک خطرناک جنگجو گروپ بن گئی اور اس کے لیے اس کو الجزیرہ کی بھرپور کوریج کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس کی کوریج میں القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری کے ایک قول کی پیروی کی گئی تھی۔انھوں نے ایک مرتبہ کیا تھا: ’’ یہ جنگ نصف سے زیادہ میڈیا کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے‘‘۔

سخت گیروں کا پلیٹ فارم

اس چینل نے انتہا پسندوں کو بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تھا اور وہ اس کو عرب نوجوانوں تک اپنے نظریات پھیلانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ پوری عراق جنگ کے دوران میں الجزیرہ نے القاعدہ کے مقتول لیڈر اسامہ بن لادن کی بار بار ویڈیوز نشر کی تھیں۔ان میں وہ مغربی فوجوں کے خلاف تشدد کی شہ دیتے اور اس کا جواز پیش کرتے نظر آتے تھے۔اس چینل کو لندن میں سات جولائی 2005ء کو حملے کرنے والے خودکش بمباروں کی ٹیپیں بھی موصول ہوئی تھیں۔

الجزیرہ کے پروگرام ’’ مخالف سمت‘‘ (اتجاہ المعاکس) میں مئی 2015ء میں ایک سروے کے نتائج نشر کیے گئے تھے اور اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ 80 فی صد ناظرین نے عراق اور شام میں داعش کی جنگی فتوحات کی حمایت کی ہے۔کیا یہ دہشت گردوں کی حمایت کی مثالیں نہیں ہیں اور کیا اس طرح کی نشریات ناظرین کو سخت گیر بنانے کی ذمے دار نہیں ؟

خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کے آغاز کے بعد سے قطر ہمدردی کے کارڈ کو کھیلنے اور خصوصی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ جابر خلیجی لیڈروں کے فیصلوں کا شکار ہے جو آزادیِ اظہار کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔

تاہم چیزیں تبدیل نہیں ہوئی ہیں اور چینل نے ان انتہا پسند گروپوں کے لیڈروں کو مدعو کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جن کو دہشت گرد قراردیا جا چکا ہے لیکن وہ الجزیرہ کے ذریعے لاکھوں ،کروڑوں ناظرین سے مخاطب ہوتے ہیں۔ان میں حماس کے رہ نما خالد مشعل، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سر براہ حسن نصر اللہ اور النصرہ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی بھی شامل ہیں۔ الجولانی کا الجزیرہ سے انٹرویو اتنا مقبول ہوا تھا کہ اس کو ان کے گروپ کے لیے قطر کا ’’اشتہار‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

اخوان المسلمون کے روحانی سربراہ علامہ یوسف القرضاوی کے برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں داخلے پر پابندی عاید ہے۔ان پر دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے ایک شو’’ شریعت اور زندگی‘‘ [الشریعہ والحیاہ] کے ذریعے اپنے خطبات نشر کرتے رہے ہیں۔اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟

علامہ قرضاوی نے ایک شو میں ’’دھوکے باز یہودیوں‘‘ کو مخاطب کرکے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ وہ ان فسادیوں ،ظالموں اور تخریب کاروں کو نیست نابود کردے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑے‘‘۔

برطانوی جنگجو

الجزیرہ عربی مغربی ممالک میں بھی دیکھا جاتا ہے اور یہ ممالک ماضی میں خود دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار رہے ہیں۔ مگر کیا الجزیرہ کے اثرات نے برطانوی جنگجوؤں کو جنم نہیں دیا ہے؟ایسی مثالیں سامنے آچکی ہیں کہ لندن کے پل پر حملہ کرنے والوں میں شامل یوسف زغبہ ایسے لوگ مبینہ طور پر چینل کے ذریعے ہی سخت گیر بنے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خلیجی ریاستوں نے حال ہی میں الریاض میں اپنے سربراہ اجلاس میں عالمی انتہا پسندی کے ذرائع کے مکمل استیصال کا عزم کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلم ممالک کو انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں تعاون کرنا چاہیے اور اس جنگ کی قیادت کرنی چاہیے۔

خلیجی عرب ریاستوں کا الجزیرہ کو بند کرنے کا مطالبہ دراصل ان کی دہشت گردی کے خاتمے اور انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکمت عملی کا حصہ ہے۔ قطر کو یقینی طور پر دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورکس کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔ الجزیرہ کی بندش شاید ایک غیرمتناسب مطالبہ نظر آئے لیکن جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے۔یہ اقدام ایک طویل عرصے سے لازم اور ناگزیر تھا۔
____________________________
نجاح العسیمی لندن میں سخت گیری کے خلاف کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک ہینری جیکسن سوسائٹی کی فیلو ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ، سفارت کاری اور میڈیا ان کے خاص موضوعات ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے