ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کے پنیتالیسویں صدر کی حیثیت اقتدار سنبھالے چھے ماہ ہونے کو ہیں۔واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹول کی عمارت میں ان کی بڑے شاہانہ انداز میں حلف برداری تقریب ایسے حالات میں منعقد ہوئی تھی، جب ملک لڑکھڑاتی معیشت ،بڑھتی ہوئی غربت اور لاکھوں، کروڑوں امریکیوں کے لیے غیر یقینی مالیات ایسے مسئلوں سے دوچار تھا۔

اس کے بعد سے ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس اپنی ملکی تاریخ کی سب سے بدترین سیاسی لڑائی میں گتھم گتھا ہیں۔ڈیمو کریٹس ٹرمپ انتظامیہ کی ہرناکامی کو بے نقاب کررہے ہیں،اس کے ہر فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں اور ری پبلکنز جو بھی لفظ بولتے ہیں،اس کا کچا چٹھا کھول دیتے ہیں جبکہ وہ ٹرمپ کی شخصیت کے ناقابل پیشین گوئی ہونے کے بارے میں آگاہ ہیں، وہ ابھی تک ان کی ری پبلکن شناخت کے حوالے سے شک میں مبتلا ہیں ،وہ ان کے دورِ حکومت میں اوباما کے صحت عامہ کے منصوبے (اوباما کیئر) سمیت اپنے خفیہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے خواہاں ہیں۔

صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی میڈیا کوریج روایتی انداز میں ہورہی ہے اور نام نہاد لبرل میڈیا سی این این ،نیویارک ٹائمز اور ہفنگٹن پوسٹ وغیر ہ مسلسل وائٹ ہاؤس کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب دائیں بازو کا مقبول میڈیا جیسے فاکس نیوز وغیرہ ٹرمپ کے اقدامات کا دفاع کررہا ہے اور وہ کسی بھی صحت مند اور جمہوری مباحثے کی حمایت کے لیے کوشش کو بلاک کررہا ہے۔وہ کانگریس اور میڈیا میں اپنے مخالفین پر جوابی الزامات کا کوئی بھی وار خالی نہیں جانے دیتا ہے۔چنانچہ ملک تقسیم در تقسیم کے عمل کے بعد ایسی غیر یقینی سیاسی صورت حال سے دوچار ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے ان کی گم راہ کن پالیسیاں اور شخصیت ہی بحث ومباحثے کا بڑا موضوع ہیں۔یہ تمام بحثیں امریکی معیشت یا خارجہ پالیسی کی افسوس ناک صورت حال اور ٹرمپ کو ورثے میں ملنے والی اور کبھی نہ جیتی جانے والی جنگوں کے گرد گھومتی رہی ہیں۔

یک قطبی دنیا

1945ء کے بعد سے امریکا عالمی قیادت کے لیے کوشاں رہا ہے۔1991ء میں سوویت یونین کے انہدام اور مشرقی بلاک کے منتشر ہونے کے بعد اس کو عالمی بالادستی حاصل ہوگئی تھی۔نتیجتاً امریکا ایک ایسی قوت بن گیا تھا جو دنیا کے کسی بھی خطے کو استحکام یا عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے اور اس نے ہمیشہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات ہی کا تحفظ کیا ہے۔

امریکا میں اور عالمی سطح پر مذکورہ حقیقت کے پیش نظر ہی سیاسی آراء اور نظریات کو وضع کیا گیا تھا۔بالعموم ہم سب کو نہ چاہتے ہوئے اور انجانے میں دو زمروں میں سے کسی ایک میں شمار کیا جانے لگا: امریکا نواز یا امریکا مخالف ۔

عشروں سے بہت سی ناقدانہ آوازیں غیر مسابقتی یک قطبی دنیا کے بارے میں خبردار کرتی رہی تھیں۔روایتی لوگ ان چند ایک ’’ غیر امریکی‘‘ اور ’’ غیر محب وطن‘‘ لوگوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں جنھوں نے صف شکنی کی کوشش کی تھی۔

1980ء کے عشرے کے آخر میں فرانسیس فوکو یاما نے ’’ تاریخ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادی کمیونزم کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔انھوں نے ’’سماجی ثقافتی ارتقاء‘‘ کے خاتمے کی وکالت کی تھی اور کہا تھا کہ ایک واحد انسانی حکومت تشکیل دی جاسکتی ہے۔تاہم ایسا مختصر وقت کے لیے ہوا تھا کہ امریکا کی مکمل بالادستی کے لیے وژن کے آگے تمام رکاوٹوں کو دور کردیا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے لکھاری تھامس فرائیڈ مین نے اپنی بڑی تعداد میں فروخت ہونے والی کتاب ’’ دنیا فلیٹ ہے‘‘ میں اس دنیا کا خاکہ پیش کیا تھا۔انھوں نے جنگ کے ایک فاتح جنرل ایسی دانش کے ساتھ لکھا:’’ کمیونزم (اشتراکیت) لوگوں کو برابر طور پر غریب بنانے کے لیے ایک عظیم نظام تھا۔درحقیقت کمیونزم سے بہتر دنیا میں کوئی اور نظام نہیں تھا۔کیپٹل ازم ( سرمایہ داری نظام ) لوگوں کو غیر مساویانہ انداز میں امیر بناتا ہے‘‘۔

لیکن تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔یہ تنازعات ،مسائل اور اتحادوں کے ایک نئے چکر سے گزرتی ہے۔بلاروک ٹوک صارفیت ( کنزیومرازم) کو نیو لبرل آ رڈر کی بمشکل فتح قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ یہ ایک متوازن کرہ ارض کی شکست ہے جہاں عالمی حدت کا دنیا کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر ظہور ہوا ہے۔

امریکی فوجی قوت عرب دنیا کی از سر نو تشکیل کے لیے بھی زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکی تھی حالانکہ سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈو لیز رائس نے ایک مرتبہ اس کا وعدہ کیا تھا۔ اس پیش رفت کے ساتھ نام نہاد ’’ نیا مشرقِ وسطیٰ‘‘ ایک خوف ناک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے جو بہت سے ملکوں کا پیچھا کررہا ہے اور جس نے پورے خطے ہی کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔امریکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور ا س نے اپنے ساتھ عالمی معیشت کو بھی ڈبو دیا ہے اور بعض چھوٹے ممالک غربت کا شکار ہوچکے ہیں۔

ماضی کی تنسیخ

جب صدر براک اوباما 2008ء میں برسر اقتدار آئے تھے تو انھوں نے اپنی انتظامیہ کے تاریخ میں سب سے شفاف ہونے کا وعدہ کیا تھا۔وہ آٹھ سال برسر اقتدار رہے اور جب دوسری مدت کے خاتمے کے بعد وہ رخصت ہونے والے تھے تو اس وقت بحث کا موضوع یہ تھا کہ کیا اوباما انتظامیہ تاریخ میں درحقیقت سب سے کم شفاف تھی؟

اپنی صدارت کے خاتمے کے بعد صدر اوباما نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اس کی جلد بحالی کے عمل میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کی تھی۔یہ اور بات ہے کہ امریکا کے فیڈرل ریزرو کے گذشتہ سال کے ایک سروے کے نتائج کے مطابق قریباً نصف امریکیوں کے پاس ہنگامی اخراجات کے لیے چار سو ڈالرز کی ضروری رقم بھی موجود نہیں تھی۔

سچی بات تو یہ ہے کہ امریکیوں نے ایسے ہی سادہ طریقے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب نہیں کر لیا تھا بلکہ وہ نسل پرست واقع ہوئے ہیں اور ان میں بعض خود ساختہ راست باز تشویش میں بھی مبتلا تھے۔ایسے میں ٹرمپ بہتر انداز میں جانتے تھے کہ اپنے عوام کا کیسے جذباتی استحصال کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ’’امریکا کو ایک مرتبہ پھر عظیم تر بنائیں گے‘‘ ،ایسے نعرے بلند کیے تھے ۔

لیکن توقع کے عین مطابق ٹرمپ کی نعرے بازی پر مبنی سیاست کے خلاف سیاست اور معیشت کی لبرل اور نیو لبرل فورسز نے آواز اٹھائی تھی اور یہی قوتیں گذشتہ کئی برسوں سے امریکا کے ناکام ہوتے آرڈر کی تعبیر وتشریح اور دفاع کرتی چلی آرہی ہیں۔

انھوں نے ماضی کی ناکامیوں کو حیران کن کامیابیاں یا دنیا کو بہتر جگہ بنانے کے لیے نیک ارادے سے کے گئے اقدامات کو ناکامیاب مہم جوئی قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی یہ الجھی ہوئی تحریر پڑھیے۔اس سے دانش کے مکمل فقدان کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے:

’’1945ء کے بعد کسی امریکی صدر نے،خواہ وہ ری پبلکن ہویا ڈیمو کریٹ ، بعد از جنگ لبرل عالمی آرڈر کے لیے امریکا کی جہاز کی کپتانی کو اس طرح فیصلہ کن انداز میں نہیں توڑا ہے‘‘۔یہ کونسٹینزے اسٹلزنمولر نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کی یورپ اور باقی دنیا سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں لکھا ہے۔

انھوں نے مزید لکھا:’’دنیا میں امن کے لیے خدمات کے وقت فاتح سپر پاور عالمی قواعد وضوابط کی پاسداری پر آمادہ ہوگئی تھی ۔یہ رعایت دراصل عالمی سطح پر مشترکہ اقدار پر مبنی انسانی برادری کے ساتھ مل جل کر رہنے کی غماض تھی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کی پیروی نہیں کی گئی ہے‘‘۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے فوری بعد ہر امریکی انتظامیہ ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کے نظریے پر عمل پیرا رہی ہے اور 1991ء میں جارج ایچ بش کے بعد سے ہر امریکی صدر نے عراق پر بمباری کی ہے۔یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ ٹرمپ امریکا کے اسی سیاسی نظام کی پیدا وار ہیں جس نے بش اور اوباما ایسے صدور کو پیدا کیا تھا اور ان کا ماضی کی روایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

ٹرمپ امریکی فوجی قوت ، کاروباری اجارہ داری اور میڈیا کے گٹھ جوڑ کے نمائندہ ہیں۔وہ یہ بات تو سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک کو تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن ان کے پاس اس کی رہ نمائی کے لیے قوت ارادی ، دانش اور مہارتوں کا فقدان ہے۔

مداخلت پسندی

اوول آفس میں چھے ماہ کے بعد ٹرمپ بھی ان نو قدامت پرست طرز کے نظریہ دانوں کے درمیان سابقہ طاقت کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں جو دنیا کا نیا ناک نقشہ بنانے کے لیے مزید مداخلت کے خواہاں ہیں اور ان فوجی شہ دماغوں میں گھرے ہوئے ہیں جو امریکی فوج کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران میں نظام( رجیم) کی تبدیلی کے نظریے کو مسترد کردیا تھا لیکن ان کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن 25 جون کو ایرانی رجیم کو تبدیل کرنے کے فلسفے کی توثیق کرتے نظر آئے ہیں۔

دریں اثناءنظریہ پسندوں اور فوجی شہ دماغوں نے کے درمیان لڑائی دوبارہ چھڑ چکی ہے۔انھوں نے ہی جارج ڈبلیو بش کے دونوں ادوار میں خارجہ پالیسی کے خدو خال وضع کیے تھے۔16 جون کو خارجہ پالیسی میں ایک رپورٹ میں اس جاری لڑائی کا انکشاف کیا گیا تھا۔درحقیقت امریکا کی خارجہ پالیسی میں تضادات ایک قدر بن چکے ہیں اور یہ کوئی استثنا نہیں ہیں۔

افراتفری اور تضادات کے بہ کثرت ہوتے ہوئے ٹرمپ کے اتحادی سادہ طور پر ’’ ٹرمپ کے نظریے‘‘ کو بیان نہیں کرسکے ہیں۔ان کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے ا س کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔انھوں نے ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’یہ بہت اچھی مہارتوں کا مجموعہ ہے۔ون آن ون ۔ داعش کو شکست دینا اور لوگوں سے یہ وعدہ کہ امریکا بعض چیزیں نہیں کرنے جارہا ہے‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے