واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا قطری نیوز ایجنسی کی ہیکنگ میں ہاتھ کارفرما ہے اور اسی نے امیرقطر سے منسوب بیانات پوسٹ کیے تھے۔یہ رپورٹ خود تضادات کا مجموعہ ہے اور اس میں واضح ذرائع پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ بے نامی انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے ان الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انھیں من گھڑت اور جھوٹا قرار دیا ہے۔اگر وہ اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہ کرتے تو بھی کوئی غیر جانبدار مبصر یہ محسوس کرسکتا تھا کہ اس رپورٹ کی کوئی ٹھوس صحافتی بنیاد نہیں ہے۔

رپورٹ میں یو اے ای پر ٹھوس دستاویزات کی بنیاد پر کوئی الزام عاید کیا جانا چاہیے تھا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ ہیکنگ کے پیچھے اسی کا ہاتھ کارفرما ہے یا ذرائع میں کم سے کم ایک یا دو کا تو حوالہ دیا جانا چاہیے تھا۔ہر دو صورتوں میں امریکی روزنامہ دستاویزی معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

امریکی اخبار نے اپنی ہی رپورٹ کی یہ کہہ کر تردید کردی تھی کہ اس کے خفیہ ذرائع اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ آیا اماراتی مشینری ہی نے قطری ایجنسی کو از خود ہیک کیا تھا یا کسی تیسرے فریق کو اس کام کی ذمے داری سونپی تھی۔

حیران کن امر یہ ہے کہ واشنگٹن پوسٹ ایسا موقر روزنامہ اس معاملے سے احسن طریقے سے نہیں نمٹ سکا ہے۔ درحقیقت واشنگٹن پوسٹ بھی اس انحطاط کو پہنچنے سے قبل امریکا کا ایک بڑا روزنامہ تھا۔پھر یہ زوال کا شکار ہوا اور دوسرے امریکی میڈیا ذرائع نیویارک ٹائمز اور کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کے مقابلے میں اپنی ساکھ کھو بیٹھا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان میڈیا اداروں کو بھی اپنے بے نامی ذرائع کی وجہ سے کئی بار سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کو حال ہی میں صدر ٹرمپ کے روس کے ساتھ مشتبہ تعلقات سے متعلق رپورٹ کی اشاعت پر معذرت کرنا پڑی تھی۔اس نے کہا تھا کہ اس نے اس رپورٹ کے لیے چودہ ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر انحصار کیا تھا۔وہ انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ وابستہ تھے لیکن بعد میں یہ پتا چلا تھا کہ یہ ذرائع چودہ نہیں صرف چار تھے۔

’’اماراتی ہیکنگ‘‘ کی رپورٹ کی طرح نیویارک ٹائمز نے نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیا تھا اور بلا امتیاز الزامات عاید کیے تھے۔اس طرح کی صورت حال میں الزامات سے انکار یا انھیں ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ملزم اپنا دفاع کرتا ہے اور روزنامہ اپنے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتا ہے۔اس صورت حال میں پھر کیا جانا چاہیے؟ کچھ بھی نہیں اور ایک نئی اسٹوری لکھنے پر توجہ مرکوز کردینی چاہیے۔

جعلی رپورٹس

سی این این نے حال ہی میں ایک جعلی رپورٹ (اپنی ویب سائٹ پر) شائع کی تھی۔اس پر اس نے اپنے تین ملازمین کو فارغ خطی دے دی اور اس نے اپنے ادارتی کام کے طریق کار کو بھی تبدیل کردیا ہے۔اب جب تک اس کے سینیر مدیر حساس مواد کی اشاعت کی منظوری نہیں دیتے ہیں،انھیں شائع نہیں کیا جاتا ہے۔اس احتیاط و اہتمام کے باوجود اس نے ایک اور جعلی رپورٹ شائع کردی اور اس کے لیے نامعلوم ذرائع پر انحصار کیا گیا تھا۔

یہ رپورٹ ٹرمپ کے سینیر مشیر انتھونی اسکاراموکی کے روس سے تعلقات اور اس کے خلاف پابندیوں کو ہٹانے کی کوششوں سے متعلق تھی۔یہ مکمل طور پر ایک من گھڑت اسٹوری تھی۔کیبل نیوز نیٹ ورک نے اس مرتبہ بھی معافی مانگی لیکن ایسا اس نے منطقی وجوہ کی بنا پر کیا کیونکہ اسکارا موکی نے اس سے رابطہ کیا اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی تھی۔پھر نیٹ ورک نے اس رپورٹ سے لاتعلقی ظاہر کی،اس کو سائٹ سے ہٹا دیا اور اس کے لکھاریوں کی چھٹی کرادی۔

یہ تمام واقعات پیشہ صحافت میں انحطاط بلکہ زوال کے مظہر ہیں۔حتیٰ کہ موقر میڈیا ذرائع میں بھی صحافی ایسی رپورٹس بلا ثبوت شائع کردیتے ہیں جن میں سنگین الزامات عاید کیے ہوتے ہیں۔وہ ایسا بالعموم جلد کام مکمل کرنے کے لیے دباؤ کے تحت یا نمایاں ہونے کی خواہش یا بہت جلد مشہور ہونے کے لیے کرتے ہیں۔وہ نظریاتی مخاصمت کی وجہ سے بھی ایسا کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ صحافتی پیشہ ورانہ معیار میں انحطاط کی وجہ سے اس طرح کی کہانیوں اور ان کی مارکیٹنگ اور فروخت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے خلاف دہشت گردی کی حمایت اور گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا پر طیارہ حملوں سے متعلق سنگین الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔ان واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ کے 28 خفیہ صفحات سے متعلق متعدد خبری رپورٹس لکھی جاچکی ہیں اور ان میں یہ دعوے کیے گئے تھے کہ ان میں سعودی عرب کی مداخلت کو طشت ازبام کیا گیا تھا۔

ترمیمی بیانیہ

تاہم یہ تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر دعوے مشتبہ اور جعلی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ یہ تمام کی تمام رپورٹس خود جھوٹ کا مرقع تھیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام الزامات ختم ہوگئے؟کیا ان روزناموں نے کوئی نیا اور ترمیمی بیانیہ پیش کیا؟ یقیناً انھوں نے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے ان خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر جو الزامات عاید کیے گئے تھے،ان ہی کا دوبارہ اعادہ کر دیا تھا۔

’’انٹیلی جنس رپورٹس‘‘ کی اصطلاح کا بڑی احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہیے اور اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ایک تو یہ کہ حوالہ جاتی مواد ممکن ہے تمام کا تمام جھوٹ کا پلندا ہو یا ذریعہ ہی دھوکے باز ہو اوراس کے پاس کوئی قابل اعتبار اطلاع نہ ہو کیونکہ وہ باتونی شخص بھی تو ہوسکتا ہے جس کی اپنی خواہشات اور اشتباہات ہو سکتے ہیں۔ایک اور وجہ کا تعلق مکمل تعصب سے ہے کیونکہ بے نامی ذریعہ اپنے نقطہ نظر کے حق میں بولتا ہے اور وہ سچ کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔

میں نے حال ہی میں امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل کا ایک انٹرویو دیکھا ہے۔صدر ٹرمپ جو کچھ کرتے ہیں،ان صاحب کو اس سے نفرت کا عارضہ لاحق ہے۔انھوں نے صدر پر اس بنا پر حملہ کیا کہ انھوں نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے سے اخراج کا فیصلہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مستقبل میں ملکوں کے درمیان پانی پر جنگوں کی راہ ہموار ہوگی۔

اس طرح کی مبالغہ آرائی کو قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انھوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مستقبل اور پانی کی تلاش میں ملکوں کے درمیان جنگوں کا تعلق صرف ایک شخص سے جوڑ دیا تھا۔ میں نے سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کی مثال اس لیے پیش کی ہے کہ اس طرح کی سینیر شخصیات کے بیانات کا بھی میڈیا رپورٹس میں حوالہ دیا جاتا ہے۔

اب ایک مرتبہ پھر قطر نیوز ایجنسی کی من گھڑت اسٹوری کے بارے میں دو باتیں۔ہیکنگ کے اس عمل میں ایک سرکاری خبررساں ایجنسی کو ہدف بنایا گیا تھا بلکہ قطر کے سرکاری ٹیلی ویژن اور اس کی انگریزی زبان میں ویب گاہوں میں بھی دراندازی کی گئی تھی۔

دوحہ کی مخالفانہ پالیسی ،اس کی دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور انتہا پسندی کو قبول کرنا تمام ایسے حقائق ہیں جو اس نے خود براہ راست نشریات کے ذریعے منکشف کیے تھے۔اس ملک کو برسوں سے جانی پہچانی چیزوں کو ثابت کرنے کے لیے ہیکروں اور سازشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے