ہجرت کا خیال آتے ہی مجھے حضرت علی ؓ یاد آ جاتے ہیں جنہیں علم تھا کہ وہ رسول خداؐ کے بستر پر سونے لگے ہیں اور کفار مکہ اس رات انہیں شہید کرنے کے در پے تھے۔ ایک یقینی موت حضرت علی ؓ کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی، کوئی اور ہوتا تو اس کی نیند اڑ جاتی، وہ ہوش وحواس کھو بیٹھتا اور موقع سے فرار ہو جاتا مگر قربان جائوں حضرت علی ؓ کی دلیری پر جو رسول خدا ؐ پر قربان ہونے کے عشق میں گہری نیند سو گئے، کفار رات کے کسی پہر وہاں آئے، چادر اٹھا کر دیکھا تو وہاں حضرت علی ؓ محو خواب تھے، چنانچہ وہ لوگ نامراد لوٹ گئے۔

دوسری طرف رات کے اندھیرے میں دو افرادا س شہر کو چھوڑ رہے تھے جو صدیوں سے ان کے آباء کا مسکن تھا ، جس کی گلیوں کی آغوش میں ان کے معصوم بچپن نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اور پھر یہ سرزمین ان پر تنگ کر دی گئی اور انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ رات کا اندھیرا، نہ آگے کا پتہ، نہ پیچھے کی کوئی خبر ، کفار مکہ نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر دی۔ ایک گھڑ سوار نے انہیں آن لیا، حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے آقا کو خطرے سے آگاہ کیا۔ جواب ملا :لا تحزن انااللہ معنا، ڈرنے کی ضرورت نہیں اللہ ہمارا نگہبان ہے، گھڑ سوار اس اثناء میںمنہ کے بل ڈھیر ہو چکا تھا، اس کے گھوڑے کے سم زمین میں یوں دھنسے جیسے کسی گہری دلدل میں اتر گئے ہوں۔ رات کی تاریکی بڑھتی چلی گئی، ہجرت کرنے والے دونوں افراد نے سوچا کہ کہیں سستا لیں وہ ایک غار میں لیٹ گئے۔ رسول خدا ﷺ کا سر ابوبکر ؓکی گود میں تھا، غار کے ایک طرف سوراخ تھا، ابوبکر ؓ نے اس کے سامنے اپنی ایڑی رکھ کر اسے ڈھانپنے کی کوشش کی، مگر حضور کچھ دیر ہی سوئے ہوں گے کہ انہں اپنے رخساروں پر گرم گرم آنسو گرتے محسوس ہوئے، ماجرا پوچھا، ابوبکر ؓ نے جواب دیا کہ پہاڑی سانپ نے ڈس لیا ہے۔ حضور ﷺ نے زخم پر اپنا لعاب مبارک لگایا۔ نہ کوئی زخم باقی تھا، نہ کسی درد کی ٹیس۔ صبح کی روشنی پھیلی تو انہیں محسوس ہوا کہ کچھ لوگ غار کے باہر کھسر پھسر کر رہے ہیں، ایک نے کہا، اندر جھانکتے ہیں، دوسرے نے کہا، بڑے احمق ہو۔ غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا تنا ہے۔ یہ مٹی سے اٹا ہوا ہے اور اس پر ایک کبوتر انڈوں پر بیٹھا ہے۔

میں تاریخ میں پیچھے مڑ کر جھانکتا ہوں ۔ ان دونوں مہاجروں کے جد امجد صدیوں پہلے اپنی بیوی اور ایک ننھے بچے کے ساتھ مکہ کی وادی میں تشریف لائے تھے۔ یہیں خواب میں اللہ کا حکم ہوا کہ اپنے بچے کو قربان کر دو، خواب دیکھنے والے حضرت ابراہیم ؑ تھے اور جس بچے کی قربانی کا حکم ملا تھا ، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے خواب سے اپنی بیگم کو آگاہ کیا۔ انہوںنے جواب دیا کہ اللہ کا حکم سن کر آپ سوچ کیا رہے ہیں، اور پھر وہ ہوگیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ باپ نے آنکھیں بند کیں ، ننھے بچے کی گردن پر تیز دھار چھری پھیری، پھر آنکھیں کھولیں تو بیٹا پاس بیٹھا معصوم انداز میں مسکرا رہا تھا اور اس کی جگہ ایک میمنہ ذبح ہوا پڑا تھا، مکہ کی وادی، نہ کوئی آدم ، نہ آدم زاد، حضرت ابراہیم ؑبیوی اور بچے کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے، بیٹا پیاس کے مارے تڑپنے لگا تو ممتا کی ماری ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پانی کی تلاش میں چکر کاٹنے لگی، سات چکر کاٹے تھے کہ دیکھتی ہیں کہ بیٹا جس جگہ ایڑیاں رگڑ رہا تھا، وہاں سے ایک ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ ابل رہا ہے۔ خدائے بزرگ وبرتر نے ماں کے سات چکروں کو عمرے  اور حج کا حصہ بنا دیا، پانی کا چشمہ آج تک لوگوں کی پیاس بجھا رہا ہے۔ بیٹے کی قربانی کو بھی عید قربان کا یوں حصہ بنا دیا گیا کہ ہر مسلمان اس ذبح عظیم کی یاد میں کوئی نہ کوئی جانور قربان کرتا ہے۔

ہجرت ایک عذاب بھی ہے اور کبھی کبھی قدرت کو منظور ہو تو ہجرت، رحمت اور راحت میں بھی بدل جاتی ہے۔ اس دنیا میں انسان کی آبادی بھی ایک ہجرت کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ آدم وحوا، جنت میں بڑے آرام سے تھے مگر ایک فرمان ربی کو خاطر میںنہ لائے تو انہیں جنت سے نکال کر زمین پر پھینک دیا گیا،ا س ہجرت کے نتیجے میں یہ دنیا آباد ہو ئی۔

سفر جاری ہے ۔ابد سے ازل تک سفر جاری رہے گا،ا س فانی دنیا سے ابدا لآباد تک کا سفرچلتا رہے گا۔راہ میں مشکلات بھی آتی ہیں اور شام کے لوگ ان مشکلات کا تازہ شکار ہیں۔اس سے پہلے عالم عرب ہی میں فلسطینیوں کی ہجرت کسی المیے سے کم نہیں۔ بر صغیر میں، شرقی پنجاب کے مہاجروں کے قافلے رستے میں کٹتے چلے گئے، پاکستان کی منزل مراد تک پہنچنے کی ا ٓرزو سے سرشار لاکھوںلوگ قربان کر دیئے گئے۔ پھر ہم نے افغانیوں کی ہجرت دیکھی اور اب تو ہجرت ایک عذاب مسلسل بن گئی ہے، کبھی سوات سے ہجرت، کبھی شمالی وزیرستان سے ہجرت اور اب شام سے مہاجروں کے قافلے یورپی ملکوںمیں بھٹک رہے ہیں، جولوگ ترکی رک گئے، وہ گویا جنت میں پہنچ گئے، ترک قوم نے ان کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے۔ اپنی دکانوں کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں۔اپنے دفاترمیں انہیں ملازمت فراہم کی ۔ ان کے بچوں کے لئے اسکول قائم کر دیئے۔مگر یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ صرف ترک قوم اس کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی، چنانچہ عالم ا سلام کو اس کے لئے حرکت میں آنا پڑا۔

پاکستان سے ڈاکٹر ا ٓصف جاہ نے ان لوگوں کا دکھ اپنی جان کا روگ بنا لیا۔ وہ سرکاری افسر ہیں، مگر دکھی انسانیت کے لئے انہوں نے کسٹم ہیلتھ کیئر کے نام سے ایک فلاحی تنظیم قائم کر رکھی ہے جو پاکستان میں دکھی لوگوں کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش دکھائی دی، ڈاکٹر صاحب محض چندہ اکٹھا نہیں کرتے بلکہ اپنے ہاتھوں سے اسے خرچ کرنے کے لئیے دشوار گزار علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بار ان کی تصویر فیس بک پر نظر آئی جس میں وہ کسی پہاڑی ڈھلوان پر پھسلے چلے جا رہے تھے۔ ٹھیک ہے ان کے جذبے جوان ہیں مگر ان کے بدن میں اب جوانی تو نہیں رہی۔ پھر بھی نچلے نہیں بیٹھتے، زلزلہ ہو۔ سیلاب ہو یا تھر کا قحط، وہ ہر جگہ امدادی سرگرمیوں کو منظم کرتے ہیں اور وہ عارضی یا وقتی ا نتظامات پر یقین نہیں رکھتے بلکہ فلاح کا ایک مسلسل اور دائمی عمل قائم کر دیتے ہیں۔ ان کی ٹیمیں شب روز آفت زدہ علاقوں میں سرگرم عمل رہتی ہیں، احمد پور شرقیہ بھی بنفس نفیس پہنچے، اس حادثے کی روداد سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔میں نے ان سے سن کر لکھنے کی کئی بار کوشش کی مگر قلم حواس باختہ ہو جاتا ہے۔

وہ دکھی لوگوں کا درد بانٹنے کے لئے ترکی بھی جا پہنچے، سر کاری ملازم ہیں لہذا ایکس پاکستان لیو بھی دو ہفتوں کے لئیے منظور کروائی، انہوںنے کوئی سلمانی ٹوپی نہیں پہن رکھی تھی بلکہ پاکستان کے پرچم کے سائے میں امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔ وہاں کے دلدوز مناظر دیکھ کر وہ یوں خدمت میں محو ہو گئے کہ تین چھٹیاں مزید کرنا پڑیں۔ لاہور کے ایئر پورٹ سے ان کے سامان کی تین بار ترسیل تو ریکارڈ پر ہے اور ترکی جا کر انہوں نے جو نقد امداد دی، اس کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا۔ آفریں ہے ان کے مخیر ساتھیوں کی جنہوں نے شام کے دور دراز ملک کے مہاجروں کی امداد کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھر ڈاکٹر آصف جاہ پر اعتماد کیا کہ وہ ان کی امداد شامی مہاجرین میں خود جا کر تقسیم کریں،اس طرح ترکی میں شامی مہاجرین کے دلوں میں پاکستان کی محبت کی خوشبو رچ بس گئی۔

حالیہ رمضان المبارک میں ڈاکٹر آصف جاہ نے ایک بہت بڑی افطاری کا اہتمام کیا جس میں ترکی کے سب سے بڑے خیراتی اور فلاحی ادارے حیرت فائونڈیشن کے صدر، نائب صدرا ور کوآرڈی نیٹر مہمان خصوصی تھے، سینیٹر طلحہ بھی مہمانوں کے درمیان تشریف فرما نظر آئے، اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے سفر ترکی کے مشاہدات بیان کئے، یہ ایک دلوں کو چیر دینے والی رو داد تھی جس پر ہر آنکھ نم ہو گئی اور حاضرین میں سے مخیر حضرات نے کسی رسمی اپیل کا انتظار کئے بغیر لاکھوں کے چندے کا اعلان کیا۔ اس چندے کی مدد سے رمضان کے دوران شامی مہاجرین کے لئے پاکستان افطار کیمپ لگائے گئے۔ اب ڈاکٹر صاحب کی کوشش ہے کہ شامی مہاجرین کے لئے مستقل بنیادوں پر ہسپتال قائم کئے جائیں اور بچوں کے لئے تعلیم کا بند و بست ہو جائے۔ اس کے لئے وہ ایک بار پھرعازم ترکی ہونے والے ہیں، خدا ان کی کوششوں میں برکت پیدا کرے ا ور شامی مہاجرین کی سختیوں اور مشکلات کو کم کرے۔

رمضان کے دوران ڈاکٹر آصف جاہ نے شامیوں کی جو خدمت کی ہے، اس کے اعتراف میں انہیں شکریئے کے پیغامات موصول ہو رہے ہیںا ور وہ لوگ ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔ مگر اس کا انحصار ہمارے مخیر طبقے پر ہے کہ وہ جلد ہاتھ بٹائے تو شامی مہاجرین بھی جلدی اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

دعا کریں اللہ پاک کسی قوم کو ہجرت کی سختیوں میں مبتلا نہ کرے۔ مجھے آصف زرداری کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ کبھی نہیں بھولتے کہ افغان مہاجرین کو تو پاکستان نے پناہ دے دی مگر پاکستان کے بیس کروڑ لوگ مہاجر ہوئے تو انہیں روئے زمین پر کوئی پناہ دینے والا نہ ہو گا، خدا اس کالی زبان سے محفوظ رکھے۔ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے