بحرین میں سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتے منامہ رصدگاہ برائے انسانی حقوق نامی ایک تنظیم کے ارکان کو گرفتار کیا تھا۔یہ تنظیم انسانی حقوق کے دفاع کے نام پر کام کررہی تھی۔

اس واقعے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔کیا ایرانی ،قطری دوستی یا قُربت کے بحرین کی سلامتی اور استحکام کے لیے کوئی منفی مضمرات ہیں؟ کیا قطر کے بائیکاٹ کے بعد دونوں ملکوں میں یہ سلسلہ جنبانی شروع ہوا ہے؟یا کیا یہ ایک پرانا سمجھوتا تھا، پہلے اس کو خفیہ رکھا گیا اور اب اس کو عام کردیا گیا ہے؟

جس ادارے کے ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے،انھوں نے لبنان اور جنیوا میں سیمی ناروں اور ورکشاپوں کا انعقاد کیا تھا اور بحرین میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانات جاری کیے تھے۔تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس ادارے کو لبنان میں مقیم ایک بحرینی شخص کے ذریعے مالی امداد مل رہی تھی اور یہ شخص حزب اللہ کے لیے کام کررہا تھا۔

یہ بھی پتا چلا ہے کہ لبنان کی حزب اللہ انسانی حقوق کی مبینہ تنظیموں سے وابستہ بہت سے لوگوں کو کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے مالی امداد مہیا کرتی رہی ہے۔ان میں بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بحرین میں جس مشتبہ عورت کو گرفتار کیا گیا ہے ، وہ انسانی حقوق کے کام کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی ہے اور اس نے قطر کی انسانی حقوق کی تنظیم الکرامہ فاؤنڈیشن سے بھی روابط استوار کررکھے تھے۔اس تنظیم کے سربراہ کا نام قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی اس کا نام دہشت گرد افراد کی فہرست میں شامل کررکھا ہے اور 2013ء میں اس کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔تحقیقات کے مطابق یہ شخص الکرامہ کے انسانی حقوق کے کام کے پردے میں بہت سی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہا تھا۔ان میں بحرین کی مذکورہ تنظیم بھی شامل ہے۔

باہمی مفادات

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو تنظیموں( ایک ایرانی اور ایک قطری تنظیم) کو کس چیز نے ایک بحرینی تنظیم کی مدد کے لیے متحد کر دیا تھا۔ یہ کیا باہمی مفاد ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم کی ایران اور ایک قطری تنظیم بیک وقت حمایت کررہی تھی اور یہ موخر الذکر تنظیم القاعدہ کی بھی حمایت کررہی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان تینوں تنظیموں کے درمیان گذشتہ ہفتے بحرین میں سیل کے پکڑے جانے تک رابطے استوار تھے۔بحرینی سیل کے ارکان کو چار عرب ممالک کی جانب سےقطر کے بائیکاٹ کے بعد پکڑا گیا ہے۔

اس کے بعد قطر نے کہا ہے کہ اس کا دہشت گرد گروپوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن جس سیل کے ارکان حال ہی میں پکڑے گئے ہیں،ا س سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور ایران مل کر بحرین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سیل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ، قطر ، القاعدہ اور حزب اللہ کے بہت سے مشترکہ مقاصد ہیں اور بحرین ان سب کا مشترکہ ہدف ہے۔

قطر اور ایران بحرین کی سلامتی کو نقصان پہنچانے ہی کے لیے کام نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ یمن میں بھی مل کر کام کررہے ہیں۔ جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران ابھی تک حوثیوں کی حمایت کررہا ہے اور انھیں اسلحہ مہیا کررہا ہے جبکہ قطر اس سے پہلے القاعدہ کی حمایت کرتا رہا تھا۔یوں یہ دونوں ملک یمن کی قانونی حکومت کے خلاف کام کررہے ہیں۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2013ء میں ایک رپورٹ کہا تھا کہ الکرامہ نے یمن ، شام اور عراق میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کو مالی امداد مہیا کی تھی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ الکرامہ قطری رقوم کو ان گروپوں تک منتقلی کے لیے ایک پُل کا کام کررہی ہے۔

فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت نے قطر اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نام سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ قطر نے خیراتی تنظیموں کی مالی معاونت جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے کسی لائسنس کے بغیر ہی اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

قطری کنٹرول سے ماورا کام

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں بین الاقوامی اور قطری کنٹرول سے ماورا کام کررہی ہے۔

قطر چیریٹی نامی ایک اور تنظیم پر شام اور یمن میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر چیریٹی نے یمن میں خیراتی منصوبوں کے نام پر دہشت گرد گروپوں کومالی امداد مہیا کی ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تنظیموں کے ناموں اور ان کے کاموں سے ہی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان عطیات کا کیا مصرف کیا گیا ہے۔

ایران اور قطر شام میں بھی مل کر کام کررہے ہیں۔ایران اسد رجیم ، حزب اللہ اور مسلح شیعہ ملیشیاؤں کو ہر طرح کی امداد مہیا کررہا ہے جبکہ قطر نے شام میں النصرہ محاذ سمیت بہت سے سنی مسلح گروپوں کو انسانی امداد کے نام پر مدد مہیا کی ہے یا ان کی براہ راست سیاسی حمایت مہیا کی ہے۔سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک حماس کی حمایت کرکے فلسطینی اتھارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ایران اور قطر کی دوستی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ان کے مشترکہ مقاصد اور مفادات ہیں اور وہ مسلح تنظیموں کی حمایت کے ذریعے خطے کی سلامتی کونقصان پہنچانا ہے۔ان گروپوں کی خیراتی کاموں اور انسانی حقوق کے دفاع کے نام پر مدد کی جارہی ہے۔

اگرعالمی برادری دہشت گردی سے نمٹنے اور دہشت گردی کے سب سے بڑے مددگار ایران کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے تو وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک وہ قطر کی کڑی نگرانی نہیں کرتی ہے۔اس لیے ایرانی، قطری بھائی چارے کے کڑے مشاہدے اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

___________________
سوسن الشاعر ایک بحرینی صحافیہ اور لکھاری ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ یہ ہے:
@sawsanalshaer.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے