اس میں کوئی شک نہیں کہ قطری بحران جلد حل ہونے کا نہیں جیسا کہ بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس کا دورانیہ موسم گرما کے بادل ایسا ہوگا۔وزرائے خارجہ کے ناکام دورے اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی ریاستوں کے سربراہان کی مصالحت کے لیے ناکام کوششیں اس بات کی مظہر ہیں کہ چار عرب ممالک اپنے مطالبات سے دستبردارہونے کو تیار نہیں ہیں۔

ہم یہ توقع کیوں کرتے ہیں کہ اس کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہ ایک پرانا اور اجتماعی مسئلہ ہے۔ قطر گذشتہ قریباً بیس سال سے تشویش کا سبب رہا ہے۔پرانے اختلافات کے علاوہ جون کے اوائل میں چار ممالک کی جانب سے جاری کردہ بیان ایک نئی پیش رفت تھا۔محاذ آرائی اور تعلقات میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سب سے بڑا بگاڑ یہ پیدا ہوا کہ ان ممالک نے سفارتی اور قونصلر تعلقات منقطع کر لیے اور زمینی اور فضائی ٹریفک کی بھی قطر کے لیے ممانعت کردی تھی۔

اس دن سے آج تک محاذ آرائی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔چند روز قبل امیر قطر کی نشر کی گئی تقریر بھی کشیدگی کو بڑھاوا دینے والی تھی اور خلیج کو پاٹنے والی نہیں تھی۔اس لیے توقع یہی ہے کہ یہ بحران مزید کئی ماہ تک جاری رہے گا۔

مقابلے کے آخری دور میں کون جیتا ہے اور کون ہارا ہے؟میری رائے میں تو مصر اور سعودی عرب ایسے ممالک اپنے خلاف حملوں کے عادی رہے ہیں اور میڈیا پر ان کے خلاف مہمیں چلائی جاتی رہی ہیں۔ وہ اس صورت حال میں بھی رہ سکتے ہیں۔دوسری جانب قطر ایک ایسا ملک ہے جو ایک پرآسائش اور پرتعیش طرز زندگی کا عادی ہے۔اس پر القاعدہ ایسی تنظیموں نے 1990ء کے عشرے ہی میں حملے کیے تھے۔

اس کی کوئی بہت زیادہ آبادی نہیں ہے یا بحرین کی طرح اس کے ہاں ثقافتی اور مذہبی تنوع بھی نہیں پایا جاتا ہے جو اس کے استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہوسکتا ہو۔ اس صورت میں قطر دو امریکی اڈوں کے تحفظ تلے سکون کی نیند سوسکتا ہے۔

قطر کے دو حقیقی تشخص ہیں۔ ایک منفی ، جو کسی بھی اور مخالف عرب ریاست کی طرح ہے اور ایک جعلی میڈیا تشخص ہے۔اس کے ذریعے اس کو ایک جدید ، روادار اور اعتدال پسندی کا حامل ایک توانا ملک قرار دیا جاتا ہے۔اس کو آزادیوں کا حامل ، کسی بیرونی انحصار اور دباؤ سے آزاد ملک قرار دیا جاتا ہے۔چند ایک لوگ ہی جانتے ہیں کہ قطر کا یہ تشخص جعل سازی سے بنایا گیا تھا یا کم سے کم اس معاملے میں مبالغہ آرائی ضرور کی گئی تھی۔

ناکام کوشش

موجودہ بحران میں تنازع نچلی ترین سطح پر چلا گیا ہے اور اس کا سب سے بڑا متاثرہ فریق دوحہ ہی ہے کیونکہ دوسرا فریق تو میڈیا کی مخالفانہ مہم کے ساتھ رہنے کا عادی رہا ہے مگر یہ پہلا موقع ہے کہ قطر کا نام دہشت گردی اور انتہا پسندانہ نظریے کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے۔اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ قطری حکومت نے واشنگٹن میں اپنے تشخص کی بحالی یا اس کو بہتر بنانے کے لیے تعلقات عامہ کی مزید کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنا تشخص بحال نہیں کرسکے گی کیونکہ نقصان تو ہو چکا ہے اور دوسرے فریق نے اپنے پیغامات کی ترسیل کے لیے تو ابھی اپنے تیر ترکش میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔

جہاں تک قطر کی اطلاعاتی کوششوں کا تعلق ہے،وہ عملی طور پر قریب قریب اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔حکومتیں بار بار ایک ہی قسم کے پیغامات سماعت کررہی ہیں۔عرب خطے میں قطری پروپیگنڈا مشین کے حربے پرانے طریق کار پر ہی مبنی رہے ہیں۔مثلاً فلسطینی نصب العین وغیرہ کا استحصال لیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

انھوں نے ان ممالک کے شہریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ ان کی حکومتیں متعصب اور غلط ہیں لیکن انھیں بہت کم ہمدردی حاصل ہوسکی تھی کیونکہ ان چار حکومتوں نے ان گروپوں کو تہس نہس کردیا ہے جن کی قطر نے مستعار خدمات حاصل کررکھی تھیں۔ان میں مبصرین ،وکلاء اور ماہرین تعلیم بھی شامل تھے۔ چنانچہ قطری حکومت نے جن لوگوں پر سرمایہ کاری کی ہوئی تھی،ان چاروں ممالک نے انھیں خاموش کرادیا ہے۔ پھر ان لابیوں اور تعلقات عامہ کی فرموں کا راستہ روکنے کا آزادیِ اظہار سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ایک غیر ملکی حکومت نے غیر قانونی طور پر ان کی خدمات کرائے پر حاصل کر رکھی تھیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے نظام غیر ملکی حکومتوں سے سیاسی سرگرمیوں کے لیے رقوم وصول کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔

سیاسی دباؤ

قطر کے ساتھ تنازع کا بھی انجام کار خاتمہ ہوگا اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کیسے اس کا خاتمہ ہوگا۔شاید آیندہ سال اس کا خاتمہ ہوگا۔

قطر خطے میں سیاسی دباؤ میں ہے۔اس بحران کا کوئی نہ کوئی تو انجام ہوگا کیونکہ ان ممالک کے لیے زیادہ دیر تک صبر کرنا مشکل ہوگا۔خطے کے دوسرے ممالک کو بھی ان چاروں ممالک ایسی تشویش لاحق ہے۔خطے کے بیشتر ممالک یہ خیال کرتے ہیں کہ دوحہ حکومت استحکام کو ہدف بنا رہی ہے۔اس لیے قطر کے اقدامات کے ردعمل میں اس کو ہدف بنانا بالکل جائز اور ناگزیر ہے۔ کیا دوحہ اپنی پالیسیوں کے مضمرات اور خطرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

بحران کا جاری رہنا، مصالحت کا استرداد اور دباؤ یہ سب اس بات کے اشارے ہیں کہ قطر ایک بہت ہی خطرناک کھیل کھیل رہا ہے اور اب اس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کو اپنی پالیسی سے مکمل طور پر دستبردار ہونا پڑے گا یا پھر اپنے وجود ہی کے لیے خطرے کا موجب بننا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے