ایرانی رجیم مسلسل اس خوف میں مبتلا ہے کہ عوامی بغاوت کے نتیجے میں اس کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔اس نے اپنے قیام کے بعد کے تمام عرصے میں اپنے مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں ہی صرف کیا ہے۔

اختلاف کی ہر شکل کے ساتھ یہی برتاؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ رجیم کتنا غیر محفوظ ہوچکا ہے لیکن جہاں تک انتہائی سفاکیت کا تعلق ہے تو اس کی تہران کی اوین جیل میں ایرانی نظام کے مخالفین سے انسانیت سوز سلوک سے کوئی اور بہتر مثال نہیں ہوسکتی جہاں محافظ اپنے قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے سے قبل انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس جیل میں حکام کا رجیم کے خلاف لب کشائی کرنے والے قیدیوں سے انسانیت کو شرما دینے والا سفاکانہ سلوک دراصل پوری ریاست ہی کے عدم تحفظ کا مظہر ہے۔

اوین جیل تہران کے شمال میں البرز پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔یہ سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں 1972ء میں تعمیر کی گئی تھی۔بعد میں یہ ایران کی بدنام زمانہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروس (ساواک) کے زیر انتظام رہی تھی۔

سیاسی قیدی

شاہ کے دور میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو اس جیل میں پابند سلاسل کیا گیا تھا۔ان میں مجاہدین خلق تنظیم ایران کے ہزاروں کارکنان وحامی اور شاہ کے ناقدین شامل ہیں۔اسی دور میں اس کو زمین پر ایک جہنم کا نام دیا گیا تھا۔

اوین جیل دنیا بھر میں بدنام ترین جیلوں میں سے ایک ہے اور اس کا نام سنتے ہی عام ایرانیوں کے خوف سے رُونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں کیونکہ یہ سیاسی جبر،بڑے پیمانے پر پھانسیوں اور تشدد کا دوسرا نام ہے۔یہ ایک ایسی بدنام جگہ ہے جہاں داخل ہونے والے ظالم جیل محافظوں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں ۔ یہ اب اسلامی جمہوریہ ایران کی خفیہ سروس (واواک) کے زیر انتظام ہے۔

کوئی قانونی پیروی نہیں

اساتذہ ، لکھاریوں ، صحافیوں ، طلبہ ، وکلاء اور ماہرین تعلیم میں سے جو کوئی بھی رجیم کے خلاف لب کشائی کرتا ہے ،اس کو اوین جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ان کے خلاف ڈھونگ مقدمات چلائے جاتے ہیں، جہاں ان کی کوئی قانونی نمائندگی نہیں ہوتی۔ملزموں کو مبہم جرائم اور من گھڑت شواہد کی بنا پر قصور وار قرار دے دیا جاتا ہے اور انھیں لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔

ایرانی رجیم اگرچہ مسلسل اس حقیقت سے انکار کرتا چلا آرہا ہے لیکن اوین جیل کی شہرت ایک تشدد فیکٹری ہی کی ہے جہاں لاتعداد قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاچکا ہے یا اذیتیں دے کرموت کی نیند سلا دیا گیا۔اس جیل کے در و دیوار کے پیچھے چونکہ دانشوروں کی ایک بڑی تعداد بند ہے،اس لیے اس کو جامعہ اوین کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

اوین میں قیدیوں کو گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں ٹھونسا گیا ہے ، وہاں حفظان صحت کا معیار انتہائی پست ہے اور ایران کے موسم گرما میں وہاں درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے،ایسے میں جیل میں درجہ حرارت کو مناسب سطح پر رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے،اس لیے جیل کی بند کوٹھڑیوں میں ہوا کا گزر نہ ہونے سے قیدی پسینے اور انسانی فضلے کے تعفن سے دہری اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔پانی بھی آلودہ ہوتا ہے اور قیدیوں کو دی جانے والی خوراک بالکل بھی کھانے کے قابل نہیں ہوتی ہے۔طبی سہولتوں کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

سیاسی عزم توڑنے کی کوشش

تشدد کا یہ تمام عمل سیاسی قیدیوں کا عزم توڑنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ایک سیاسی قیدی کو اعترافِ جُرم کے لیے اس وقت تک جبروتشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جب تک وہ اپنی خاموشی کو توڑ نہیں دیتا۔اس کے بیرونی دنیا سے تمام روابط منقطع کردیے جاتے ہیں،اس کے خاندان کے افراد سے ملاقاتیں اور ٹیلی فون کے ذریعے روابط پر پابندی عاید کر دی جاتی ہے۔حتیٰ کہ محافظوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

اس بدتر سلوک کے نتیجے میں اوین کے لاتعداد قیدی پاگل ہوچکے ہیں۔ان میں سے بہت سے غصے میں اپنے سر کو کوٹھڑیوں کی دیواروں پر مارتے رہتے ہیں،بہت سوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔اوین کی سکیورٹی چونکہ بہت زیادہ سخت ہے،اس لیے آج تک کسی قیدی کے وہاں سے فرار کی کبھی کوئی خبر منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

جیل کی کوٹھڑیاں تعفن زدہ ہیں۔ان کی کھڑکیوں کے سامنے دیواریں ہیں اور آہنی دروازے ہیں۔ان دروازوں کے زیریں حصے میں چھوٹے سوراخ ہیں۔یہ عام طور پر بند ہوتے ہیں اور ان سے ہی محافظ قیدیوں کو کھانا دیتے ہیں۔ دروازوں کے بالائی حصوں پر بھی چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں جہاں سے قیدیوں سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

اوین جیل میں مجاہدینِ خلق تنظیم کے قیدیوں سے سب سے زیادہ ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ایران میں انقلاب کے بعد سے اس گروپ کے ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔

اس جیل میں 1988ء میں ہزاروں قیدیوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ان کے علاوہ ایران بھر میں حکومت مخالف تیس ہزار سے زیادہ افراد کو پھانسیوں پر چڑھا دیا گیا یا تشدد کے دوسرے طر یقوں سے ہلاک کردیا گیا تھا۔ان افراد کو اس وقت کے سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے حکم پر موت کی نیند سلایا گیا تھا کیونکہ انھوں نے اپنی حکومت کے ہر مخالف کو زندگی کی قید سے آزاد کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

اوین میں پہلے قیدیوں کی پھانسیاں دینے کے بعد ان کی لاشیں رات کے اندھیروں میں اجتماعی قبروں میں منتقل کر دی جاتی تھیں۔یہ قبریں ملک کے مختلف علاقوں میں دور دراز جگہوں میں بہت گہری کھودی جاتی تھیں اور ان میں ان قیدیوں کو رات کے اندھیرے میں اتار دیا جاتا تھا۔ان جگہوں کو پھانسیاں دینے والے جلادوں نے لعنت آباد کا نام دے رکھا ہے۔

لیکن آج کے دن تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔اوین میں ماضی کی طرح ہی قیدیوں سے ناروا سلوک کی ان کہی داستانیں رقم ہورہی ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان کے الفاظ صدابصحرا ثابت ہورہے ہیں۔دنیا نے ایرانی رجیم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کے بجائے اس کے جیلوں اور شاہراہوں پر شہریوں سے ناروا سلوک کو بھی نظر انداز کردیا ہے اور وہ اس پر سخت پابندیاں عاید کرنے کے بجائے ’’ایران ڈیل‘‘ کی شکل میں ’’پرتعیش پابندیوں‘‘ کی پیش کشں کررہی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے