پاکستان کی سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 ء کو ایک تاریخی فیصلہ سنایا ۔اس کے تحت پاکستان کے وزیراعظم محمد نوازشریف نا اہل ہو چکے ہیں۔ فیصلہ تاریخی اس لیے ہےکہ اس کی نظیر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام اور دنیا بھر کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد فیصلہ ہے ۔ اس لیے نہ صرف تاریخی ہے بلکہ اس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس فیصلے کے حامی اس کے حق میں دلائل دیتےرہیں گے اور مخالفین اس فیصلے کے خلاف دلائل دیتے رہیں گے۔ بہر کیف ہماری دانست کے مطابق فیصلہ عدالت کے سامنے موجود مواد کی روشنی میں مبنی بر انصاف ہے۔ عدالت نے جان بوجھ کر غلط فیصلہ دینے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ یہ عین قانون کے مطابق ہے لیکن عدالت کو جو ریکارڈ فراہم کیا گیا وہ ناکا فی تھا۔ اس ریکارڈ میں چند وضاحت طلب باتیں تو ضرور تھیں ، لیکن وقت کی کمی اور میڈیا ٹرائل کے پیش نظر مزید طوالت سے بچنے کے لیے یہ فیصلہ دینا ضروری ٹھہرا تھا۔ حالات کے مطابق یہی فیصلہ بنتا تھا کیونکہ فاضل جج صاحبان بھی بہرحال انسان ہوتے ہیں مگر اس کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور جن امور کو وقت کی کمی کی وجہ سے ملحو ظ نہیں رکھا جا سکا ،ان پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ سے اب محب وطن شہری بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔ ہم اس کے حوالے سے چند امور کی جانب فاضل عدالت اور قانونی ماہرین کی توجہ مرکوز کرانا چاہتے ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ فیصلے کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم (اب سبکدوش ) محمد نوازشریف کو اس بنا پر نا اہل قرار دیا گیا ہے کہ انھوں نے 10 ہزار درہم کی تن خواہ وصول تو نہیں کی تھی لیکن یہ قابل وصول رقم تھی ۔ لہذا واجب الوصول بھی اثاثہ ہوتا ہے اور عوامی نمائندگی کے قانون کے مطابق اس اثاثے کو ظاہر کرنا ضروری تھا۔

ہماری دانست میں سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کو نوازشریف کونااہل قرار دینے سے پہلے تنحواہ اور ملازم کے تصور کی بھی بالکل واضح انداز میں وضاحت کرنی چاہیے تھی۔ تن خواہ کیا چیز ہوتی ہے یا تن خواہ کس چیز کا نام ہے؟ بلیک لا ڈکشنری کے مطابق تن خواہ یا سیلری “an agreed compensation for services” ہوتی ہے ۔ یعنی تن خواہ ایک ایسی واجب الادا رقم /معاوضہ ہے جو ایک آجر عام طور پر اپنے ملازم کو اس کی خدمات یا کام کے عوض ادا کرتا ہے۔ یہ فی گھنٹا ، ماہانہ، اور سالانہ بھی ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر ملازمت کے معاہدے میں طے ہو تا ہے کہ کن شرائط کے تحت کتنی تن خواہ دی جائے گی۔

پاناما پیپرز کیس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا مئی 2013 کے بعد محمدنواز شریف نے کوئی خدمات/سروسز یا کام کیپٹل FZEکمپنی میں سر انجام دی ہیں یانہیں ، کیونکہ ملازمت کے کنٹریکٹ میں نکتہ نمبر 4 میں لکھا گیا ہے کہ:“Working will be maximum of eight hours a day and 6 days per week. There will be one hour meal break during a shift”

اب یہ دیکھنا ہے کہ نواز شریف نے کنٹریکٹ کے مطابق روزانہ اتنے گھنٹے کام کیا یا ہفتہ وار اتنا کام کیا یا اس فرم کو کوئی خدمات مہیا کی ہیں ۔کیا کوئی ایسے ثبوت ہیں کہ نواز شریف نے ایک خاص وقفے یا ایک مخصوص وقت کے بعد کمپنی امور سر انجام دیے ہیں یا بیرون ملک ان کے سفروں کی تاریخوں سے ایسی کوئی چیز سامنے آئی ہے یا کسی بھی اور طریقے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محمد نوازشریف نے اس کمپنی کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔

اگر یہ بات ثابت نہیں ہوتی تو انھوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ کمپنی کے سابق ملازم تصور ہو ں گے اور ایسی صورت میں کمپنی سے ملنے والی تنخواہ کو قابل وصول تصور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔لہذا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کمپنی سے ملنے والی تنخواہ ،ملازمت کے کنٹریکٹ کے مطابق قابل وصول نہیں رہی تھی تو ایسی صورت میں کوئی بھی اثاثہ نہیں بنتا اور محمد نوازشریف نے عوامی نمائندگی کے قانون کے مطابق اپنے کسی اثاثے کو چھپایا نہیں ہے۔ چونکہ وہ کمپنی کے سابقہ ملازم ہیں۔اس لیے ان کا مذکورہ بالا کمپنی کے خلاف کسی قسم کا دعویٰ یعنی:“Enforceable claim against others such as accounts receivable”کسی بھی صورت میں نہیں بنتا ہے۔

سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے میں بلیک لا کی ڈکشنری میں کی گئی جس تعریف پر انحصار کیا گیا ہے ،یعنی any collectable whether or not it is currently due اس کی تو بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔کیونکہ محمد نوازشریف کمپنی کے ملازم ہی نہیں رہے تھے۔ اسی لیے کسی واجب الوصول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں نوازشریف کو آئین کی دفعہ 63/62 کے مطابق نا اہل قرارنہیں دیا جا سکتا تھا۔اس لیے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محمد نواز شریف کے وکلاء نے عدالت میں یہ جو موقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے کمپنی سے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی تھی ، تویہ ایک وضاحت طلب معاملہ ہے۔

اگر فاضل عدالت محمد نوازشریف کوطلب کر کے ان سے پوچھ تاچھ کرتی تو شاید وہ اپنے موقف کی وضاحت بہتر طریقے سے کردیتے کہ انھوں نے مذکورہ کمپنی کو کوئی خدمات مہیا نہیں کی تھیں۔ لہٰذا وہ اس کے ملازم نہیں تھے، اسی وجہ سے انھوں نے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی تھی۔ لہٰذا قابل وصول کا ایشو بھی پیدا نہ ہوتا۔چونکہ عدالت نے محمد نوازشریف کو صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا تھا۔اس لیے لگتا ہے کہ نوازشریف کے وکلا ء جہاں دوسری باتوں کی بنیادپر نظرثانی کی درخواست دائر کرسکتے ہیں ،مثلا یہ کہ درخواست گزار نے کیپٹل ایف زیڈ ای کمپنی کے ایشو پر نا اہلیت کی درخواست ہی دائر نہیں کی تھی ،یا انکم ٹیکس کے قوانین کے مطابق سیلری کو کب اور کس بنیاد پراثاثہ کے طور پر ظاہر کیا جا سکتا ہے، وہاں اس نکتے کو بھی اجاگر کر سکتے ہیں کہ قانون کی نظر میں محمد نواز شریف کیپٹل FZE کمپنی کے ملازم ہی نہ رہے تھے تو اس بنا پر تن خواہ اور اس کے ذیلی متعلقات اور اثرات بے بنیاد ہو جاتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی ملازم اپنی ملازمت چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے اور نئی جاب شروع کردے اور آجر چند ماہ کی تن خواہ کسی بھی وجہ سے یا غلطی سے اس کے اکاؤنٹ میں منتقل یا جمع کرا دے تو ایسی صورت میں سزا کا مستحق کون ہو گا؟ آجر یا ملازم؟ کیا اس صورت میں اگر ملازم سیلری( تنخواہ) لے لے تو اس کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ دائر ہو سکتا ہے یا نہیں؟

آئین کی دفعہ 62 اور 63 کی تشریح کی بھی اشد ضرورت ہے۔ لیکن ہماری دانست جس بھی شخصیت کو اس پیمانے پر پرکھا جائے تو اس کی نیت کو بھی دیکھا جانا چاہیے ۔پاناما پیپرز کیس کی سماعت کے وقت یہ دیکھنا ضروری تھا کہ محمد نواز شریف نے کرپشن کرنے کے لیے ایسا کیا تھا یا انسانی خطا کی بنا پرصرف نظرہو گیا تھا۔

یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کیا فلاں شخص اپنے ذاتی معاملات میں صادق اور امین ہے اور کیا وہ ملکی معاملات میں صادق اور امین ہے یا نہیں؟اگر ذاتی معاملات تک جانچنا شروع کردیں تو شاید کوئی بھی پاکستانی صادق اور امین کی تعریف پر پورا نہ اترسکے کیونکہ ہم شاید بیسیوں جھوٹ روزانہ بولتے ہیں ۔محمد نواز شریف ملک کے وزیراعظم رہےہیں، اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ جو پراجیکٹس انھوں نےشروع کر رکھے ہیں ، ان کے معاملات میں وہ صادق اور امین تھے یا نہیں۔ مثلا ً اگر کوئی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے متعلق کوئی ایشو عدالت میں لے کر جاتا یا پانامہ کیس میں یہ ثابت ہو جاتا کہ انھوں نےکوئی کرپشن کی ہے یا کوئی کمیشن لیا ہے یا کوئی کک بیک کا ایشو ہے یا اپنے عہدے یا حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ غلط کیا ہے؟تو پھر تو ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔

ہماری ناچیز رائے میں فاضل عدالت کے پاس وقت کم تھا۔اس نے چند دنوں میں فیصلہ دینا تھا ، میڈیا بھی شور مچا رہا تھا اور پوری قوم کی بھی نظریں عدالت پر لگی ہوئی تھیں۔اس لیے بادی النظر میں عدالت تمام پہلووں کا کماحقہ جائزہ لے کر اس کیس میں انصاف نہیں کر سکی ہے۔ اب بہتر یہ ہوگا کہ اگر عدالتِ عیظمیٰ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاتی ہے تو وہ مذکورہ تمام پہلووں کا جائزہ لےاور پھر اپنا فیصلہ سنائے۔ اگرایسا ہوتاہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی ہی نہیں، بلکہ سنہری فیصلہ ہوگا۔ اس سے ملک میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کا بول بالا ہوگا۔اللہ تعالیٰ پاکستان کے لیے بہتری فرمائے۔ آمین۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے