عرب دنیا اور مغرب کی اشرافیہ ڈاکٹر غسان سلامہ کو ایک سنجیدہ فکر دانش ور کے طور پر جانتی ہے۔انھوں نے عرب اور مغربی دنیا میں تعلیم پائی تھی۔یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ وہ لبنان کے بیٹے ہیں۔چنانچہ وہ یورپ اور امریکا میں عربوں کی ایک اہم آواز رہے ہیں۔وہ ایک دیانت دار شخص ہیں اور وہ کٹھن اور فیصلہ کن حالات میں بھی عرب نصب العینوں کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

وہ متوازن سوچ کے حامل ایک عرب دانشور ہیں۔انھوں نے گزری صدی کے آخری عشرے میں تنازعات کے دوران میں بھی ایک متوازن نقطہ نظر اختیار کیا تھا۔چنانچہ عرب ممالک میں خاص طور پر انھیں بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے امن اور استحکام کے قیام کے لیے نمائندہ مقرر کیا گیا۔انھوں نے 1980ء کی دہائی کے دوران میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے مذاکرات سے 1990ء کے عشرے کے دوران میں مختلف تنازعات تک کو طے کرنے کے لیے مختلف کردار ادا کیے تھے۔انھوں نے عراق کے صدر صدام حسین اور امریکا کے درمیان صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے بھی سفارتی سطح پر کوششیں کی تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں صورت حال یکسر مختلف ہوگئی تھی۔

تاہم آج یہ سوال ہے کہ انھوں نے اپنے طویل سفر کے اختتام پر اقوام متحدہ کی نمائندگی کیوں قبول کر لی ہے۔ انھیں لیبیا کی قانونی حکومت اور اس کے متحارب فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

ڈاکٹر سلامہ کے لیے یہ ایک معمول کا کردار ہے کہ وہ ایک یونیورسٹی پلیٹ فارم اور دانشورانہ کام سے بلند ہو کر بین الاقوامی کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے۔ تاہم آج کے عرب نصب العینوں کی حقیقت کیا ہے؟یہ کون دانشور ہیں جو خود کو عرب دنیا میں رونما ہونے والی پیش رفتوں کی دلدل سے الگ تھلگ کر لیں گے۔

عرب ثقافت کی بالادستی اور اس طویل تجربے کے حامل ہونے کے باوجود انھوں نے ملیشیاؤں کی دلدل میں اب ایک غیر سلح سپاہی کا کردار قبول کر لیا ہے اور یہ کوئی خوش نما پیش رفت نہیں ہے ۔دراصل یہ ایک ایسے شخص کی بھرپور سفارتی سرگرمیوں کا اختتام ہے کہ جس کے سینے پر تمغا سجانے میں پہلے ہی بہت دیر کردی گئی ہے۔
________________
فارس بن حزام العربیہ نیوز چینل کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے