میانمر میں روہنگیا اقلیت کے خلاف انسانیت سوز سلوک کا سلسلہ جاری ہے اور یہ روز بروز بد تر ہو تاجارہا ہے۔ہمیں اب یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ اقوام متحدہ اپنے 1948ء کے نسل کشی سے متعلق کنونشن کے اصولوں کے نفاذ میں ناکام رہی ہے۔

اسی سال اقوام متحدہ کی ریزیڈینٹ اور انسانی رابطہ کار رینیٹا لوک ڈیسالین کے دفتر کی افشا ہونے والی دستاویز سے ایک افسوس ناک تصویر سامنے آئی ہے اور انھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک غیر فعال کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے اقتصادی ترقی کے مقاصد کو انسانی حقوق پر ترجیح دی ۔ان کے اپنے عملہ کے ارکان نےان پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے میانمر کی سول حکومت اور فوجی اشرافیہ سے بڑے اچھے تعلقات استوار کر لیے تھے جبکہ روہنگیا اور دوسری اقلیتوں کے خلاف مظالم کو اپنے ایجنڈے میں نظر انداز کردیا تھا۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ آنگ سان سو کائی کی جدوجہد کے نتیجے میں جمہوریت کی جو نئی صبح طلوع ہوئی ہے ، وہ جلد پھل پھول دینا شروع ہوجائے گی لیکن اقوام متحدہ بالعموم اور لوک ڈیسالین بالخصوص خاموش تماشائی بنے سیکڑوں ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ہوتے ہوئے دیکھتی رہی تھیں ۔ان کے دیہات ملیامیٹ کر دیے گئے اور ہزاروں افرادکشتیوں کے دشوار گذار بحری سفر کے ذریعے بنگلہ دیش اور ملائشیا کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے لیکن انھیں وہاں بھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہوا ہے جیسے وہ میانمر میں چھوڑ کر گئے تھے۔اقوام متحدہ نے میانمر سے متعلق بظاہر سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظا میہ کے تزویراتی ضبط وتحمل کا نظریہ اپنا لیا تھا جس کا سفارتی مطلب کچھ بھی نہ کرنا ہے۔

حال ہی میں رینیٹا لوک ڈیسالین کو میانمر مشن سے ان کی ذمے داریوں سے ہٹانے کا ا علان کیا گیا ہے۔اس پر بہت سوں نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن کیا آنے والے رابطہ کار اس ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی توجہ مرکوز کریں گے؟

امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم روہنگیا مسلمانوں سے متعلق اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ ان کو زیادہ بہتر طریقے سے پورا کیا جاسکتا تھا۔

روہنگیا کی صورت حال کا موضوع اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں بھی سرفہرست رہا ہے۔ او آئی سی نے اسی سال ملائشیا میں روہنگیا کی صورت حال پر غور کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا تھا۔

او آئی سی کے جہاں تک تنازعات کے حل سے متعلق ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ تنظیم تنازعات کے حل کے معاملے میں بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں جن کو وہ فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے بروئے کار لا سکے ۔او آئی سی کے اجلاسوں میں قرار دادوں منظور کی جاتی ہیں لیکن مسلم دنیا سے باہر ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔عام طور پریہ قرار دادیں مقامی آبادی کی دل جوئی اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے منظور کی جاتی ہیں۔

اس سب کے باوجود او آئی سی اس معاملے میں مزید موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔اس کے ستاون رکن ممالک ہیں اور وہ چار بر اعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین کی فعال شخصیت اس تنظیم کی سیکریٹری جنرل ہے۔ ان کی قیادت میں یہ تنظیم روہنگیا کے مسئلے میں مداخلت کرسکتی ہے اور وہ کام کرسکتی ہے جو اقوام متحدہ نہیں کرسکی ہے۔ او آئی سی درج ذیل بعض سادہ اقدامات کر سکتی ہے۔

اول ، او آئی سی اقوام متحدہ اور میانمر کے حکام کے ساتھ مل کر ان الزامات کی تحقیقات کر سکتی ہے کہ بعض اسلامی جنگجو گروپ روہنگیا کی جدوجہد کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ان الزامات میں اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن میانمر کے حکام روہنگیا کو اجتماعی سزا دینے کے لیے ایسے الزامات کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کررہے ہیں اور وہ عالمی برادری کو بھی اس طرح کی فریب کاری کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی آنکھیں موند لیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں داعش اپنے علاقوں سے محروم ہورہے ہیں اور وہ اب نئے علاقوں کی تلاش میں ہیں جہاں وہ اپنے زہریلے نظریے کو پھیلا سکیں۔

دوم ، روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کا ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہے کیونکہ بعض بدھا کی تعلیمات کی غلط تشریح کر کے تشدد کی تحریک دے رہے ہیں۔ او آئی سی ایک مذہبی تنظیم ہے اور وہ بین المذاہب مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے از سرنو کوششیں کر سکتی ہے۔او آئی سی مسلمانوں کی عالمی آواز ہونے کی نمائندہ ہے۔اس کو ایسی عالمی مسلم شخصیات کو قائدانہ کردار کے لیے آگے لانا چاہیے جو اس ملک کے بدھ مت لیڈروں کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔

او آئی سی میانمر کے ہمسایہ ممالک پر روہنگیا مسلمانوں کے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بنگلہ دیش ، تھائی لینڈ اور ملائشیا نے اس وقت ہزاروں روہنگیا مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ روہنگیا مستقل طور پر اس ملک میں نہ رہیں کیونکہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ جانیں بچا کر آنے والے ہزاروں روہنگیا کو اپنے ہاں مستقل طور پر پناہ نہیں دے سکتا ہے۔

او آئی سی بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لیے ایک مربوط عالمی مہم چلا سکتی ہے۔او آئی سی کی اپنے فنڈنگ کے اصولوں کے حوالے سے کوئی خوش نما تاریخ نہیں ہے لیکن وہ اس معاملے میں کامیاب ہوسکتی ہے جہاں اقوام متحدہ ناکام ہوچکی ہے۔ رو ہنگیا کی صورت حال اس تنظیم کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ خود اپنی غلطیوں کا ازالہ کر سکتی ہے اور وہ مذکورہ بالا سادہ اقدامات کے ساتھ اس کا آغاز کرسکتی ہے۔اس کے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں توقع ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے