اس وقت صحافی اور مبصرین راس بعلبک اور القاع میں لبنانی فوج کی داعش کے خلاف لڑائی کے موضوع پر لب کشائی اور خامہ فرسائی کررہے ہیں۔ حسن نصراللہ نے فوج کو مدد کی پیش کش کی تھی یا پھر یہ کہا تھا کہ وہ غیر جانبدار رہیں گے۔ شامی رجیم نے داعش کے خلاف مدد دینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔اگرچہ کہ ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ اس کے پاس اس کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں۔

داعش کے خلاف کارروائی کو دفاع کی اعلیٰ کونسل کے اجلاس میں حتمی شکل دی گئی تھی۔اس اجلاس کی صدارت لبنانی صدر نے کی اور اس میں وزیراعظم ، وزراء اور سکیورٹی ماہرین شریک تھے۔صدر اور وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ فوج تن تنہا اور حزب اللہ یا شامی فوجیوں کی مدد کے بغیر داعش کا لبنانی سرزمین سے خاتمہ کرے گی۔

جب دہشت گردی سے جنگ کی بات کی جاتی ہے تو لبنان اس معاملے میں کمزور نہیں ہے کیونکہ وہ امریکا کی قیادت میں دہشت گردی مخالف اتحاد کا حصہ ہے۔چنانچہ مذکورہ فیصلہ حسن نصراللہ کی اس بات کے جواب میں کیا گیا تھا کہ امریکیوں سے مدد کا طالب ہونا شرم ناک ہے۔

لبنانی فوج کی شہرت اور اس پر لبنانی عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور امریکیوں کو یقین دہانی کے لیے یہ تمام فیصلے اور سخت موقف اس وقت عنقا ہوگئے جب اس سے اگلے ہی روز کابینہ کے اجلاس کے دوران میں وزراء نے اپنے تین ساتھی وزراء کے شام کے دورے پر غور کیا۔انھیں شام کے اس دورے کی باقاعدہ سرکاری طور پر دعوت دی گئی تھی۔

لبنانی فورسز اور ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے وزراء نے اس دورے پر معترض تھے جبکہ مستقبل تحریک کے وزراء نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور صرف نہاد المشنوق نے اعتراض کیا تھا۔ بہت سے وزراء نے شامی رجیم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کا اظہار کیا اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ ان کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں اور یہ کہ تعلقات کو معمول پر لانا لبنان کے مفاد میں ہے۔

دہشت گردی کی پنیری

ہمیں معلوم ہے کہ جب حسن نصراللہ نے مہاجرین کے معاملے پر شامی رجیم سے بات چیت میں ثالثی کی پیش کش کی تھی تو اس وقت تعلقات کو معمول پر لانے کی بھی کوششیں کی گئی تھیں۔اس تجویز کو جبران باسیل نے بھی آگے بڑھایا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ شامی مہاجرین دہشت گردی کے لیے ایک پنیری کا کام دے رہے ہیں۔اس لیے انھیں واپس شام بھیجنے کے لیے ان کی حکومت سے تعاون ضروری ہے۔

چند روز پیشتر ترکی سے بجلی پیدا کرنے والے جہازوں کو کرائے پر لینے کے تنازع (باسیل اور وزیر توانائی کی اس میں جیت ہوئی ہے) کے بعد وزیر توانائی نے یہ کہا کہ شام نے ترک جہاز سے کم لاگت پر لبنان کو بجلی مہیا کرنے کی پیش کش کی ہے۔اب شام یہ پیش کش کررہا ہے کہ جس کے اپنے 75 فی صد سے زیادہ علاقوں میں بجلی نہیں ہے اور وہ اپنی ’’فالتو‘‘ بجلی امیر اور خوش حال لبنانی جمہوریہ کو بیچنا چاہتا ہے۔

جب کابینہ کے اجلاس کی تیاری کی جارہی تھی تو ایک وزیر نے یہ کہا کہ تین ورزاء کے شام کے دورے کا ایک یہ حل ہے کہ حکومت انھیں نہ بھیجے بلکہ وہ انھیں خود اپنی ذمے داری پرجانے کی اجازت دے دے۔

اس دوران میں پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے تہران سے یہ بیان جاری کیا کہ لبنان کو شامی بھائیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہییں کیونکہ اس طرح دونوں ملکوں کے عوام کا فائدہ ہوگا۔

فارس سوید نے ایل بی سی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تہران سے جاری ہونے والے نبیہ بری کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ایرانی مطالبہ ہے اور ایرانیوں اور روسیوں کے درمیان خطے میں زیادہ کنٹرول کے لیے جو دوڑ لگی ہوئی ہے،اس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

بشارالاسد کی صورت حال

یہ بھی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ بشارالاسد کی صورت حال بہتر ہورہی ہے اور وہ 2020 یا 2021ء میں عبوری دور کے خاتمے تک اقتدار میں رہیں گے۔ لبنانی عوام عملیت پسند ہیں اور حسن نصراللہ انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر وہ مہاجرین سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں تو انھیں شام کی تعمیرنو کے عمل میں کنٹریکٹرز اور انجنیئرز کی حیثیت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ ’’خوش حال ہمسایہ ملک‘‘ سے بجلی درآمد کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے پاس فالتو بجلی اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔

یقینی طور پر یہ تمام التباسات اور واہمے ہیں اور یہ ایرانیوں اور ان کی اتحادی مسلح جماعت کی لبنان کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کا حصہ ہیں۔

چونکہ اب عملیت پسندی ارزاں ہے اور اس سے کچھ حاصل وصول ہونے کا نہیں۔اب ہمیں عرب لیگ کے موقف کا انتظار ہے کہ وہ اس معاملے میں کیا کہتی ہے۔وہی عرب لیگ ، جس نے سنہ 2013ء سے بشارالاسد اور ان کے رجیم کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔

لبنانی مسلمان اپنے ملک میں بہت خون ریزی اور تباہی کو ملاحظہ کرچکے ہیں۔یہاں مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور شام میں موجود لوگوں کے اپنے مسائل ہیں۔ان تمام مصائب اور مشکلات کے ہوتے ہوئے ایک سفاک اور قاتل رجیم سے تعلقات کو معمول پر لانے کی باتیں اور بے میل جذباتیت عملی جامہ پہنتے نہیں آتی ہے۔

تہران کی انگیخت سے شامی رجیم کے مطمئن کرنے کی تمنا دراصل شیطان کے ساتھ اتحاد ہی کی ایک خواہش نظر آتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان السیّد ایک لبنانی دانشور اور لکھاری ہیں۔انھوں نے جامعہ الازہر قاہرہ کے شعبہ مذہبیات سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور جرمنی کی جامعہ ٹیوبنجن سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ وہ سہ ماہی جریدے الاجتہاد کے مدیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ وہ کئی کتب کے مصنف ہیں اور عرب روزناموں الاتحاد ، الحیات اور الشرق الاوسط کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے