سیاست میں کیسے ہارا جاتا ہے، یہ جاننا اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ سیاست میں جیتا کیسے جاتا ہے؟جو شخص یہ جانتا ہے کہ کیسے ہارا جاتا ہے اور وہ تجربات سے سیکھتا ہے تو وہ خود کوایک ایسے دن کے لیے تیار کرتا ہے کہ جب وہ جیت جائے گا لیکن اس کو سب سے پہلے خود سے جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چنانچہ دانش اس حقیقت کے جاننے ہی میں مضمر ہے کہ کیسا ہارا جاتا ہے،چہ جائےکہ یہ جانا جائے کیسے جیتا جاتا ہے۔کیسے ہار مانی جاتی ہے،اس کے لیے سب سے زیادہ ذہانت اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کے لیے حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مصالحت کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

قطر کے ساتھ خلیجی ممالک کا بحران بہت طول پکڑ گیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ مزید کچھ عرصہ بھی جاری رہے گا۔اس تناظر میں قطر کو ایک خلیجی عرب ریاست کے طور پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کوخلیجی معاشروں کو تنقید و حملوں کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی تعمیر وترقی میں کیسے کردار ادا کرنا ہے۔ قطر کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ چار ممالک کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا ہے۔ان چاروں عرب ممالک نے 5 جون سے قطر کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔

اب وقت آگیا ہے۔قطر اس زمینی حقیقت کے مطابق اپنا موقف اپنائے کہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک اپنی ترجیحات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اگر یہ بحران مزید طول پکڑتا ہے تو انھیں اس کی بھی کچھ پروا نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ چاروں ممالک امریکا کے دباؤ کے آگے جھکنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

امریکا کے دباؤ کے آگے ان ممالک کے نہ جھکنے کا ماضی میں بھی ثبوت مل چکا ہے۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں امریکا کے دباؤ کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے مصر میں اخوان المسلمون کو غیر قانونی قرار دینے کے عمل کی حمایت کی تھی۔ اس وقت یہ جماعت محمد مرسی نام کے ایک جذباتی صدر کے تحت برسر اقتدار تھی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2013ء میں بھی امریکا کا دباؤ مسترد کردیا تھا اور انھوں نے مصر میں صدر مرسی اور اخوان المسلمون کی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کی حمایت کی تھی۔2011ء میں سعودی عرب نے بحرین میں اس وقت فوجی مداخلت کی تھی جب اس نے یہ محسوس کیا تھا کہ اس کی اپنی سلامتی ایران اور اس کے گماشتوں سے خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

خلیجی عرب ممالک کی جانب سے قطر کو پیش کی گئی تیرہ شرائط کے علاوہ بنیادی طور پر یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور بعض لوگوں کے مطابق اب تو یہ شرائط بھی کم کر کے چھے کردی گئی ہیں۔ ان سب کا خلاصہ صرف ایک سوال میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ کیا قطر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سے ہم آہنگ ہو کر رہ سکتا ہے؟یہ تمام کھیل 2013 اور 2014 ء میں مکمل طور پر کھل کر سامنے آ گیا تھا اور اب تک اس میں دو نئے اضافے ہوچکے ہیں۔

مشکل کھیل

پہلا تو یہ ہے کہ قطر میں کوئی بھی اس مشکل کھیل کو اب کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے۔دوسرا یہ کہ سعودی عرب میں اب ایک مختلف قیادت ہے اور وہ سمجھوتوں پر ہرگز بھی تیار نہیں ہوگی۔

امریکی یا اطالوی ہتھیاروں کی خریداری یا برازیلی فٹ بالر نیمار کی خریداری اور انھیں ایک مشہور فرانسیسی ٹیم میں شمولیت میں مدد دینے سے ممکن ہے کہ قطر کو کچھ فائدہ ہو کیونکہ اس کے مالک کو ہر کوئی جانتا ہے۔

تاہم کچھ نئے اور مختلف متغیّرات ہیں اور ان سے معاملہ کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اس اعتراف حقیقت کی بھی ضرورت ہے کہ یہ معاملہ اب صرف واشنگٹن کے سوا دوسری طاقتوں سے نمبر بنانے تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اس کا اس حقیقت سے بھی تعلق ہے کہ کیا خلیج اور مصر کو ترکی اور ایران سے خطرات لاحق ہیں۔واضح طور پر اب اس مرحلے پر کچھ تحمل و بردباری کی ضرورت ہے۔
___________________________
خیر اللہ خیراللہ ایک عرب لکھاری ہیں۔ وہ 1976ء سے 1988ء تک روزنامہ النہار کے خارجہ ایڈیٹر رہے تھے اور 1988ء سے 1998ء تک اخبار الحیات کے مینیجنگ ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے