اس وقت کیا ہوگا، جب تمام تارکینِ وطن سعودی عرب سے واپس چلے جائیں گے؟ کیا ہم رنگا رنگ تنوع کو کھودیں گے؟ کیا ہم سعودی ہر کام کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم کبھی ایسے ہوں گے؟ یہ ایک غیر تجربے کار قومی معاشرے کے لیے بہت اہم سوالات ہیں، کیونکہ یہ معاشرہ ایک طویل عرصے سے اس بات کا عادی رہا ہے کہ تمام کام غیرملکی ہی انجام دیں۔

ہر سال انحصاری ٹیکس میں اضافہ ہوتاچلا جا رہا ہے۔اس لیے ان تارکینِ وطن کے بڑی تعداد میں انخلاء کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے خاندانوں اور پیاروں کو اپنے ساتھ ہی یہاں رکھنا چاہتے ہیں لیکن کیا ان کی جیب پر پڑنے والے بتدریج بڑھتے بوجھ کو کم کیا جائے گا؟

اس تناظر میں، مجھے ایک بڑا دلچسپ منظر نامہ سوجھا ہے۔اس کا عنوان :’’ مطالعات مابعد 2017ء‘‘ ہے۔ اس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ممکنہ طور پر ہوسکتا ہے۔اقتصادی ماہرین یہ پیشین گوئی کرتے ہیں کہ سعودی عرب کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے نتیجے میں اقتصادی بحران کا سامنا ہوا ہے اور خطے میں جنگ سے سعودی مملکت میں آبادی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

ان میں سب سے اہم 2018ء کی پہلی سہ ماہی میں بیس لاکھ کے لگ بھگ غیر ملکیوں کی سعودی عرب سے واپسی ہوگی۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں جو سعودی مملکت کی جانب سے عاید کردہ بھاری فیسوں کی ادائی کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔
2018ء کے اختتام تک قریباً پچیس لاکھ غیرملکی تارکینِ وطن سعودی عرب چھوڑ جائیں گے۔ان میں زیادہ تر اکیلے ہی رہ رہے ہیں اور ان کے لیے سعودی عرب میں قیام پذیر رہنے کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوجائے گا۔

ریاست ان پر جو مزید ٹیکس اور فیسیں عاید کرنا چاہتی ہے،ان کی شروح میں ایندھن ، بجلی ، کھانا پکانے کی گیس ، بریڈ ، بچوں کے دودھ اور ادویہ پر دیے جانے والے زرتلافی ( سب سڈی) کے خاتمے سے مزید اضافہ ہوجائے گا۔جولائی 2019ء کے آغاز پر سعودی عرب میں مقیم رہ جانے والے غیرملکیوں میں اکثریت ان کی ہوگی جن کے مشاہرے اور تنخواہیں بہت زیادہ ہوں گی اور ان کے ساتھ مقیم خاندان کے افراد کی تعداد بھی چار سے زیادہ نہیں ہوگی۔

معکوس نقل مکانی

اس معکوس نقل مکانی سے سعودی عرب کے بہت سے تجارتی اور کاروباری شعبوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ان میں پہلے نمبر پر تو وہ کمپنیاں ہیں جو خوراک اور کھانا پکائی کا کام کرتی ہیں۔ان میں سے بعض اگر پہلے دو سال ( 2017ء اور 2018ء) میں اقتصادی دھچکے کا مقابلہ نہ کرسکیں تو وہ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔

2018ء کی پہلی ششماہی میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تب تک کرایوں میں آج سے 50 فی صد تک کمی متوقع ہے یا اس سے زیادہ بھی کمی ہوسکتی ہے۔اس کے بعد ٹرانسپورٹ اور نقل وحمل کا کام کرنے والی کمپنیوں ، فضائی کمپنیوں ، تعمیراتی کمپنیوں اور کار ڈیلرشپ پر اثرات مرتب ہوں گے۔

اقتصادی صورت حال کے اثرات غیر ملکی تارکینِ وطن تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے خود سعودی خاندانوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔وہ اپنے روزمرہ اخراجات کم کرنے کے لیے اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں سے اٹھا لیں گے اور انھیں سرکاری اسکولوں میں داخل کرادیں گے۔وہ سستے مکان تلاش کریں گے یا بڑے ولاز سے اپارٹمنٹوں میں منتقل ہوجائیں گے۔ ایجنسیوں میں نئی کاریں بڑی تعداد میں آ جائیں گی۔ پرانی گاڑیوں کی مارکیٹ میں کاریں بہ کثرت ہوجائیں گی اور یوں ان کی قیمتیں گر جائیں گی۔

2018ء میں بحران کے اثرات الیکٹرانکس ، اسمارٹ فونز ، ٹیبلیٹس ، کمپیوٹرز ،پرتعیش خدمات اور مرمتی کاموں کے شعبوں پر مرتب ہوں گے۔ سیکڑوں کمپنیاں اور ادارے مارکیٹ میں اپنے کاروبار سے دست کش ہونے یا انھیں بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔اس سے بھی مملکت چھوڑ کر جانے والے غیرملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور وہ اپنے ٹھیکے ختم کردیں گے۔

شہری زرِتلافی

2019ء کے آغاز میں غیر ملکی بجلی ، پانی اور ایندھن ( گیسولین) کے بہت زیادہ بل برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں گے کیونکہ ان یوٹیلٹی بلوں پر صرف سعودی شہریوں کو زر ِتلافی دیا جائے گا۔

غیرملکی سعودی عرب کو چھوڑنے کی راہ لیں گے۔وہ اپنے کرائے کے مکانوں کو سعودیوں کے حوالے کریں گے یا اپنی کاروں کی ملکیت بھی مقامی شہریوں کے نام منتقل کردیں گے۔صارفین کی تعداد میں کمی اور کساد بازاری کے پیش نظر غیرملکی نجی ریستورانوں اور دکانوں کی دسیوں اور شاید سیکڑوں شاخیں بند ہوجائیں گی۔

2019ء کے اختتام تک صارفین زیادہ تر استعمال شدہ فونز استعمال کریں گے، معمولی جرائم اور داخلی مسائل میں اضافہ ہوگا اور مختلف کاروباروں میں کام کرنے والی سعودی خواتین کی تعداد بڑھ جائے گی۔

لوگ 2020ء کے اوائل میں جزوی طور پر صورت حال سے مطابقت اختیار کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ تب تک سعودیوں کو ان بہت سے شعبوں میں کام کرنا ہوگا جہاں انھوں نے پہلے کبھی کام نہیں ہوگا۔انھیں ایسی سرگرمیاں انجام دینا ہوگی جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں انجام دی ہیں۔تاہم تب تک مارکیٹ اور صارفین کے درمیان خلیج بہت گہری ہوجائے گی۔

یہ ،مگر ایک پہلو ، ایک تناظر ہے۔زمینی حقائق کی سرحدیں ان پیشین گوئیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا ہے کہ میں مختلف انداز میں کیا سوچتا ہوں؟

میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ قابل قدر تارکینِ وطن کو شہریت کے حصول کے لیے درخواستیں دینے کی اجازت دی جائے یا انھیں مستقل قیام کی اجازت دے دی جائے۔اس طرح رنگا رنگ تنوع برقرار رہے گا اور اس معاشرے کااقتصادی بازو بہت زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔
__________________________
طارق اے المعینا ایک سعودی لکھاری ہیں۔ ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
@talmaeena.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے