حال ہی میں بعض خبروں میں اقوام متحدہ کی سینتیس صفحات پر مشتمل ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔یہ رپورٹ پریس کے لیے افشا کی گئی تھی۔اس میں شمالی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ کی عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے شامی حکومت کی ایک ایجنسی کو دو کھیپ بھیجی تھیں۔یہ شامی ایجنسی ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی ذمے دار ہے۔شمالی کوریا سے بھیجا گیا یہ مال گذشتہ چھے ماہ کے دوران میں پکڑا گیا تھا ۔بشارالاسد کو جو چیز درکار تھی ، وہ یہ کہ وہ شمالی کوریا کے آمر کو بھی اپنے سیاسی وابستگان کی فہرست میں شامل کر لیں۔

اس سب کے باوجود اسٹافن ڈی میستورا نے عالمی مندوبین کی میزبانی کا سلسلہ جاری رکھا تھا مگر جنیوا میں مذاکرات کے سات ادوار اور وعدے وعید وں کے باوجود بحران کا کوئی حل برآمد نہیں ہوا۔اس کے علاوہ روس اور ترکی نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں مذاکرات کا ایک اور ڈول ڈالا تھا۔

اس دوران میں شامی حزب اختلاف خود کو متحدکرنے میں ناکام رہی ہے،حالانکہ مغرب کا یہ دباؤ تھا کہ ماسکو کے پلیٹ فارم سے حقیقی حزب اختلاف سے مذاکرات کیے جائیں لیکن روس کو قدری جمیل گروپ مل گیا جو بشارالاسد اور ان کے بھونپو ولید المعلم کے لیے قابل قبول ہے۔

شامی ایشو پر عالمی توجہ سے قطع نظر بعض شخصیات اور اعداد وشمار پر روشنی ڈالنا اہم ہوگا۔ یہ مغرب کی پالیسیوں اور روس اور ایران کی جانب سے بشارالاسد کی حمایت کا نتیجہ ہیں۔

جنگ کی تباہ کاریاں

یہاں ہم کچھ اعداد وشمار پیش کرتے ہیں ۔ان سے شام میں جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اس وقت شام میں صرف تینتالیس اسپتال کام کررہے ہیں اور نصف شامی ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

شام میں اس وقت اسّی ہزار کے لگ بھگ بچے پولیو کا شکار ہیں جبکہ 1995ء میں اس ملک سے اس مہلک مرض کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ ہر چار میں سے ایک اسکول مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے یا اس کو جزوی نقصان پہنچ چکا ہے یا پھر ان اسکولوں میں جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو ٹھہرایا گیا ہے۔

شام کے اندر تریسٹھ لاکھ افراد دربدر ہیں اور پچاس لاکھ کے لگ بھگ شامی مہاجرین بیرون ممالک میں رہ رہے ہیں۔شامی تنازع کے نتیجے میں اب تک 275 ارب ڈالرز کےلگ بھگ نقصان پہنچ چکا ہے۔

یہ چند ایک اعداد وشمار شامی المیے کی عکاسی کرتے ہیں۔اس سب کا کس کو بڑا ذمے دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ پہلے نمبر پر ذمے دار تو بشارالاسد بہ ذات خود ہیں ۔ان کے بعد ایران اور روس آتے ہیں۔اس کے بعد مغرب کی کمزور پالیسیاں اور بعض عربوں کی بشارالاسد کے ساتھ ساز باز کا نمبر آتا ہے۔

شام میں رو نما ہونے والے المیے کو نیو یارک یونیورسٹی کے مرکز برائے عالمی امور کے پروفیسر ڈاکٹر ایلن بن میر نے اپنے مضمون ’’ شام : بین الاقوامی اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت‘‘ میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:’’ امریکا ہی واحد ملک تھا جو اوباما کی انتظامیہ کے تحت اس المیے کو رونما ہونے سے روک سکتا تھا‘‘۔

یہ اعداد وشمار اور الفاظ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ضمیر کو بھی نہیں جھنجھوڑتے۔ان کے اپنے ہی ہلاکت وتباہ کاری کے نمائندہ قاسم سلیمانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں’’ ہم آمروں کا تحفظ کرنے جا رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے یہ کہا تھا کہ ’’ہم جب ممالک کے حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہمیں کس سے تعلقات رکھنا ہیں ؟ کیا وہ آمر ہے یا نہیں ؟ تو ہم اس کے بجائے اپنے مفادات کی طرف دیکھتے ہیں‘‘۔

اگر بشارالاسد صہیونیت کے محل میں مقبول رہتے ہیں تو وہ شامی عوام کے ضمیر میں ہرگز بھی مقبول نہیں رہیں گے۔ یہ ضمیر جلد یا بدیر ایک اور انقلاب کو جنم دے گا ۔جی ہاں !ڈی میستورا کی اجازت کے ساتھ ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے