جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا وقت ٹویٹر پر گزار دیتے ہیں، وہ حقیقی منظر کو نہیں دیکھتے ہیں۔ وہ بڑی احتیاط سے تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں۔وہ ان دشمنوں کے نرغے میں ہیں ،جو اس رسی کو کاٹ پھینکنے اور انھیں گرانے کے لیےکوشاں ہیں۔

ان رسیو ں میں سے سب سے خطرناک امریکا کے داخلی قوم پرستوں کی تحریک ہے۔اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔انھوں نے خود بھی اس کے غیظ وغضب کو بڑھاوا دیا تھا اور اس میں پہلے ہی صدر اوباما کے آٹھ سالہ دور حکومت میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔جب انھوں نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی تو ان سفید فاموں نے بھی خوب جشن منایا تھا۔

وہ اپنی افتتاحی تقریر کے دورا ن میں تیسری دنیا کے کسی ملک کے ایک مقبول صدر نظر آرہے تھے لیکن وہ ایک ایسے سیاست دان کا کردار ادا کرتے بھی نظر آرہے تھے جو یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ اس کے مخاطب کون لوگ ہیں۔ انھوں نے ان سفید فاموں کا شکریہ ادا کیا اور ’’ سب سے پہلے امریکا‘‘ کا نعرہ دُہرایا۔اس جذباتی نعرے کے پیچھے اسی سفید فام تحریک والے کارفرما تھے۔

صدر ٹرمپ اس بااثر انتخابی بنیاد کو زیر غور لائے ہیں لیکن اس سے غیر متوقع مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو حال ہی میں سفید فاموں کے حق میں ایک بیان دینے پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ انھوں نے یہ کہا تھا کہ چارلوٹسویل ، ورجینیا میں احتجاج کرنے والے نسل پرست انتہا پسند سفید فاموں کی تحریک میں بھی اچھے لوگ ہوسکتے ہیں۔ان اچھے لوگوں میں سے ایک نے تو اپنی گاڑی ہی لوگوں پر چڑھا دی تھی جس سے ایک عورت ہلاک ہوگئی تھی۔

ٹرمپ نے ابتدا میں ایک اچھی تقریر کی تھی۔انھوں نے ان نسل پرست گروپوں کی مذمت کی تھی لیکن ایک روز بعد جب وہ نیوز کانفرنس میں نمودار ہوئے تو وہ ایسا کہنے میں ناکام رہے تھے۔تب وہ اپنی مقبولیت کے بارے میں شاید سوچ رہے ہوں گے اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان پر نسل پرستی کا حامی ہونے کا الزام عاید کردے۔

وہ غالباً یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پہلی تقریر کی ایسے تشریح کی گئی ہو گی اور اس کا ان پر اثر پڑا۔اس لیے انھوں نے صورت حال کو درست کرنے کی کوشش کی اور وہ بائیں بازو پر حملہ آور ہوئے جس کو فی الواقع نافرمانی اور عدم روا داری کی صورت حال کا سامنا ہے۔ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وقت بائیں بازو کے گروپوں پر حملہ آور ہونے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ پھر میڈیا ان پر حملہ آور ہوا اور اس نے انھیں نسل پرست قرار دے دیا۔

بعض تلخ حقائق

یہ تنقید اور الزامات آخری چیز ہیں جن کے بارے میں وہ سوچتے ہیں اور وہ اپنے سامعین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں وہ ان ہی کے آدمی ہیں۔ وہ ان ننگے حقائق کو بیان کرسکتے ہیں ،جنھیں لوگ سننا پسند نہیں کرتے ہیں اور سیاست دان بھی انھیں میڈیا کے خوف اور لوگوں کے غیظ وغضب کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے کہنے سے کتراتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اسی اساس کے اطمینان کے لیے گہری کھائی کے کنارے جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنی پاؤں رکھ رہے ہیں۔اسی کے پیش نظر انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کردیں گے۔منتخب ہونے کے بعد انھوں نے سات ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔اس کے علاوہ میکسیکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنے اور دہشت گردوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک سخت جنگ لڑنے کے لیے بھی تندو تیز بیانات جاری کیے تھے۔

تاہم صرف ایک شخص کا اس سفید فام اسا س کو متحرک کرنے کے لیے اہم کردار رہا ہے۔یہ صاحب ہیں اسٹیو بینن ۔ انھیں حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔شاید انھیں ہٹایا جانا ایک غلط فیصلہ ثابت ہو اور ٹرمپ صاحب کو مستقبل میں اس فیصلے پر افسوس ہو۔قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلین نے ایک غلطی کی تھی اور انھیں جانا پڑا تھا۔وہ ایک زبردست جنگجو اور فوجی کمانڈر رہے تھے لیکن وہ لوگوں کو متحرک کرنے والی ایسی شخصیت نہیں تھے جو بس نفسیاتی بٹن دبا دے اور لوگ باہر نکل آئیں جیسا کہ خطرناک بینن کرتے ہیں۔

بینن کی بے دخلی کو ایسے لوگوں سے دستبرداری کے طور پر بھی دیکھا جائے گا جو ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں لائے تھے۔اس کو اس پیغام سے دستبرداری کے طور پر بھی دیکھا جائے گا ،جس کا مقصد سیاسی ادارے کو اس کے ری پبلکن اور جمہوری پہلو کے ساتھ توڑ پھوڑ دینا اور ازکار رفتہ روایات سے ناتا توڑنا ہے۔

ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو میں بینن نے ،جس کے بعد موخر الذکر کو چلتا کیا گیا تھا، یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کا دفاع کریں گے اور اشرافیہ اور ادارے پر حملہ آور ہوں گے لیکن انھوں نے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ’’ویکلی اسٹینڈرڈ‘‘ میں لکھا:’’ٹرمپ کی صدارت ،جس کے لیے ہم لڑتے رہے ہیں، ختم ہوچکی‘‘۔بینن اب بریٹ بارٹ نیوز کے مدیر اعلیٰ کے طور پر کام کررہے ہیں۔انھوں نے صدر ٹرمپ کے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ان کا یہ تجزیہ غلط ہے اور و ہ اس معاملے کو امریکا کے داخلی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

بینن کی رخصتی ٹرمپ کے لیے ایک نقصان ہے لیکن امریکی صدر کا اپنے سامعین کا بھی ایک حلقہ ہے۔وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ لوگوں کو کیسے متحرک کیا جاسکتا ہے اور انھیں متحدہ رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم وہ یقینی طور پر ایک بااثر اور اہم آدمی کو کھو بیٹھے ہیں۔ٹرمپ کے پاس اس فیصلے کے اپنے جواز ہیں اور جو درحقیقت دوسری تنی ہوئی رسی کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جن پر وہ چل رہے ہیں۔

بائیں بازو کی لبرل تحریک نے بینن کے خلاف ایک تندو تیز مہم برپا کی تھی اور انھیں ایک نسل پرست اور شیطان قرار دیا تھا۔انھوں نے ٹرمپ اور بینن کے درمیان مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ تک کہا تھا کہ وہی امریکا پر حکمراں ہیں اور وائٹ ہاؤس کے معاملات کو چلا رہے ہیں۔ مگریہ تمام جھوٹے الزامات اور ناکام کوششیں تھیں۔

تاہم حقیقی لڑائی تو وائٹ ہاؤس میں بینن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کے درمیان لڑی جارہی تھی۔ان کا بالخصوص قومی سلامتی کے مشیر میمسٹر ، ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر اور بیٹی ایفانکا کے ساتھ تنازع چلا رہا تھا اور یہ ایک نظریاتی تنازع تھا۔ ان کے درمیان کام کرنے کے طریق کار پر شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔یہ تینوں لبرل ٹچ کے ساتھ قدامت پرست ذہنیت کے حامل ہیں جبکہ بینن قوم پرست ہیں۔ یہ تینوں روایتی جمہوری اداروں سے تعاون اور جمہوریت کے ساتھ ابلاغ میں یقین رکھتے ہیں جبکہ بینن ان سے نفرت کرتے ہیں اور انھیں تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ری پبلکنز بوڑھے

بالآ خر یہ تنازع ٹرمپ کے داماد اور بیٹی پر مشتمل ٹیم کی کامیابی پر منتج ہوا۔ وہ بینن کے خلاف جیت گئے۔ اوباما کئیر کی تنسیخ اور اس کو تبدیل کرنے میں ناکامی کے بعد انھیں واضح طور پر یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر وہ اپنے ووٹروں سے کیے گئے وعدوں کو ایفاء کرنا چاہتے ہیں تو پھر انھیں بوڑھے ری پبلکنز کو کچھ رعایتیں دینا ہوں گی اور ان سے مدد کے لیے کہنا ہوگا۔

بینن کو خود سے دور کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اب ان ری پبلکنز کے قریب ہورہے ہیں لیکن یہ ری پبلکنز اور ایفانکا یا ان کے خاوند بینن کی طرح لوگوں کو متحرک نہیں کرسکتے ہیں۔وہ تو اشتعال انگیز تقریریں کرسکتے ہیں۔ٹرمپ کے بہ قول اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے ہی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں حالانکہ پہلے وہ ان کا ٹھٹھا اڑایا کرتے تھے۔اب لوگوں کو انقلابی بنانے کی ذمے داری ان ہی کے کاندھوں پر آن پڑی ہے۔

اس سے ہمیں تیسری تنی ہوئی رسی کا پتا چلتا ہے جس پر ٹرمپ چل رہے ہیں۔یہ ری پبلکن پارٹی ہے جس کے لیے انھوں نے اپنے بہترین آدمی کو کھو دیا ہے۔ یہ جماعت دو مرتبہ اوباما کو روکنے میں ناکام رہی تھی لیکن اس کے ناپسندیدہ امیدوار ٹرمپ نے یہ کام کردیا۔ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد ابتدا میں تو اس جماعت نے ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کی۔یہ بہت تناؤ والے تعلقات کی کہانی ہے جہاں گہری نفرت ، بظاہر محبت اور باہمی مفادات آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ہیں۔

جن لوگوں نے ٹرمپ کے خلاف توہین آمیز بیان جاری کیے، وہ کوئی ڈیمو کریٹ یا لبرل نہیں بلکہ خود ان کی جماعت کے لوگ یعنی ری پبلکنز تھے۔ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ صدر نے ان کی جماعت کو ہائی جیک کر لیا ہے،اس کو نکو بنا دیا ہے اور اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کے لیے اس جماعت کو تباہ کردیا ہے۔ ان کے خلاف سب سے بڑی بغاوت سینیٹر جان مکین نے کی تھی۔انھوں نے ٹرمپ کو پیٹھ میں چھرا گھونپا اور ووٹ دیتے وقت اپنا ذہن تبدیل کر لیا تھا۔وہ اوباما کیئر کی تنسیخ میں بھی آڑے آ گئے۔

ٹرمپ نے اپنی جماعت سے تعاون کیا ہے حالانکہ وہ اس پر کوئی اعتماد نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ اسی طریقے سے کوئی داخلی پیش رفت کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے ووٹروں انھیں ایک روایتی ری پبلکن خیال کریں بلکہ وہ انھیں ایک ایسا لیڈر سمجھیں جس کو بدعنوان اشرافیہ کے غیظ وغضب کی کچھ پروا نہیں ہوتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ بار بار یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔انھیں احتیاط سے قدم بڑھانا ہوں گے۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہونا نہیں چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کو بھی نہیں کھونا چاہتے ہیں جو کامیابیوں کے حصول کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے اور کلید بردار ہیں۔

یہ تین خطرناک اور تنی ہوئی رسیاں ہیں ، نہ کہ میڈیا ،جو درحقیقت ٹرمپ کے لیے ایک آسان حریف ہے۔ یہ واضح حریفوں کے ساتھ ایک واضح جنگ ہے جو ان سے جلد سے جلد چھٹکارا چاہتے ہیں یا پھر انھیں اس طرح تھکا دینا چاہتے ہیں کہ وہ آیندہ صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک کے حریف امیدوار کے مد مقابل ایک آسان ہدف بن جائیں۔

تاہم وہ اپنے خلاف ان حملوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہی وہ سبب ہے کہ ٹرمپ ان جھڑپوں کے جواب میں اپنی گھونسے بازی کی عادت سے باز نہیں آتے ہیں اور وہ متنازع بیانات اور ٹویٹس کے ذریعے غوغا آرائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبرل ٹیلی ویژن چینلز پر ان کے جتنے لتے لیے جاتے ہیں،اتنا ہی قدامت پرست حامیوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ انھیں اپنا پیغام بر اور نجات دہندہ خیال کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان صحافی اور کالم نگار ممدوح المھينی العربیہ نیوز چینل دبئی کے آن لائن نیوز پورٹلز کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔

 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے