یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی ٹیم میں شامل میڈیا کے ایک ذمے دار نے کہا ہے کہ صنعا ء میں حوثیوں سے متوقع محاذ آرائی کے پیش نظر انھوں نے دسیوں قومی نغمے اور تمام گورنریوں سے متعلق پرجوش نعرے تیار کیے ہیں اور سولہ سو سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں، جو اس بڑے اجتماع میں پڑھی جائیں گی۔

اس بڑے اجتماع سے ان کی مراد احتجاج ہے جس کی علی صالح منصوبہ بندی کررہے ہیں اور وہ حوثیوں کے سامنے اپنی اس طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کے میڈیا ذرائع نے اس بیانیے کی خوب تشہیر کی ہے کہ علی صالح اور حوثیوں کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا ہے اور اس کا سبب حوثیوں کی ( صنعاء میں ) بالا دستی اور جابجا مداخلتیں ہے ۔ان کی اس مداخلت کا سلسلہ علی صالح کی وفادار فورسز کے کنٹرول والے علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔

علی صالح نے اپنی سیاسی مہارتوں کے حوالے سے ایک مرتبہ یہ شیخی بگھاری تھی کہ’’ وہ سانپوں کے سروں پر بھی رقص کرسکتے ہیں‘‘ اور ان کا حوثیوں کے ساتھ تنازع ایک اور رقص کا موقع پیدا کر سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے حوثیوں سے تنازع کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ہرکوئی اس کا منتظر ہے کہ اب کیا ہوگا۔ان دونوں اتحادیوں کے درمیان تنازع سے کوئی بھی انکار نہیں کررہا ہے کیونکہ حوثی ملیشیا تو آئے دن علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کی توہین وتضحیک کی عادی ہے اور اس نے موخر الذکر کی بہت سی چوکیوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔اس پر مستزاد سیاسی اور مالیاتی اختلافات ہیں۔ 

شاطرانہ چال

ہمیں کیسے یہ پتا چلا ہے کہ علی صالح کا واقعی حوثیوں سے کوئی تنازع ہے۔ہم یقینی طور پر احتجاجی مظاہروں یا لکھی گئی ہزاروں نظموں سے ان کے درمیان اختلاف کے بارے میں نہیں جان سکتے تھے۔یہ تمام فریب اور دھوکے ہیں۔

ان دونوں اتحادیوں کے درمیان تنازع کے حقیقی وجود کا تب پتا چلے گا جب ان کی فورسز کے درمیان باہم لڑائی چھڑ جائے گی اور اسی اس کی تصدیق بھی ہوگی۔ ان دونوں نے یمن کی قانونی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کی تھی اور دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔اب اگر ان کے درمیان تلخ بیانات اور مباحثوں کا تبادلہ ہوتا ہے تو اس سے ہمیں ان کے درمیان تنازع کا پتا نہیں چلتا۔اگر ان کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی ہے تو پھر منظرنامہ یکسر تبدیل ہوجائے گا۔

یمن میں باغیوں کی سرکوبی اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کی بحالی کے لیے جنگ آزما سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد ماضی میں حوثیوں اور علی صالح کے درمیان اتحاد کو توڑنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔تاہم اب وہ اس اتحاد کے ٹوٹنے کے لیے رعایتیں دینے کو تیار نہیں ہے۔اس وقت لڑائی جاری ہے اور یمن کی زیادہ تر سرزمین اب اتحادیوں کےکنٹرول میں آچکی ہے اور اس کے وقت حو ثیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں ہی میں لڑائی ہورہی ہے۔

اس کامیابی کی ایک بڑ ی وجہ ہزاروں یمنی جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی تربیت ہے۔ عرب اتحاد میں پائے جانے والے اختلافات میں قطر کا ہاتھ کار فرما تھا اور اس کے اس اتحاد سے نکلنے کے بعد سے کمانڈ میں زیادہ ہم آہنگی اور یکسانیت آ چکی ہے۔ 

قانونی حکومت

اس سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو بازیاب کرانے کا کام کوئی زیادہ آسان نہیں ہوجاتا ہے کیونکہ یمن اس وقت بھی تین طاقتوں میں منقسم ہے۔صدر منصور ہادی کی عمل داری والے علاقے، حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے زیر قبضہ علاقے۔جب تک تنازع کا کوئی سیاسی حل نہیں نکل آتا،اس وقت تک صورت حال ایسے ہی رہے گی۔

علی صالح اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ’’ سیاسی حل‘‘ کی اصطلاح سے کیا مراد ہے کیونکہ یہ ان کے حق میں رہے گی اور وہ اگر کسی علاقائی مصالحت کو قبول کرتے ہیں تو ایران اپنے آلہ کار حوثیوں سے یہ کہے گا کہ وہ اس حل کو قبول کر لیں ۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ تنازع کا حل ممکن ہے ۔تاہم اس کے بدترین منظرنامے میں اگر ہر کسی کو حصہ بقدر جثّہ ملتا ہے تو پھر قانونی حکومت کو سب سے کم نقصان ہوگا کیونکہ اس وقت یمن کا نصف سے زیادہ علاقہ اس کے کنٹرول میں ہے اور وہ ان علاقوں کا نظم ونسق سنبھالنے کی صلاحیت کی حامل ہے۔

ملیشیا ؤں کے زیر قبضہ یمن کے دوسرے نصف حصے میں صورت حال بہت ہی خراب ہے۔یہ ملیشیائیں شہریوں کو کوئی خدمات مہیا نہیں کررہی ہیں اور وہ اگر اپنے امور کو خود نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ملیشیائیں ان کی راہ میں بھی حائل ہورہی ہیں۔

اگر علی عبداللہ صالح دیانت دار ہیں اور اس کا بہت کم امکان ہے تو انھیں اس بات کا ثبوت مہیا کرنا ہوگا کہ انھوں نے حوثی کیمپ کو خیرباد کہہ دیا ہے،وہ مصالحت اور اس المیے کے خاتمے کے لیے تیار ہیں جس کا انھوں نے خود ہی آغاز کیا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے