یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سائنس اور ریاضی کے مضامین میں سب سے ممتاز حیثیت کے حامل طلبہ کا تعلق دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہے۔ وہ جنوبی کوریا ، سنگاپور ، جاپان اور دوسرے بڑے صنعتی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ ترقی ،جدت اور آگے بڑھنے کا ان دونوں مضامین یعنی سائنس اور ریاضی کی تعلیم سے تعلق ہے۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد نے حال ہی میں ایک منفرد اور بیش قیمت تحفے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے ریاضی اور سائنسی مواد کی پانچ ہزار ویڈیوز کا عربی میں ترجمہ کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔یہ ویڈیوز عرب دنیا کے پانچ کروڑ کے لگ بھگ طلبہ کے لیے دستیاب ہوں گی۔

یہ اقدام عرب دنیا میں علم کی شمع جلانے کے مترادف ہے جبکہ ہمارے یہاں علم کے فروغ کے لیے اس طرح کی کوئی عملی کوشش نظر نہیں آتی ہے۔انھوں نے رضاکاروں پر بھی زوردیا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور تدریسی مقاصد کے لیے ان ہزاروں ویڈیو زکے عربی زبان میں ترجمے میں مدد دیں جن کے پہلے ہی مختلف زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔

عرب اسکولوں میں طبیعیات (فزکس) ، کیمیا ، حیاتیات اور ریاضی کی تدریس کے لیے مختلف چیلنجز درپیش ہیں۔ان اسکولوں میں یہ مضامین پڑھانے کے لیے تربیت یافتہ استاد نہیں ہیں۔بیشتر اسکولوں کی لیبارٹریوں میں سائنسی تجربات اور تدریس کے لیے مطلوبہ سامان دستیاب نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ایک بڑا اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ طلبہ کے گھروں اور معاشرے میں ایسا ماحول نہیں ہے جو ان کی ان مضامین پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے۔اب ویڈیو تدریس اور برقی تعلّم ( ای لرننگ) نے اس خلیج کو پاٹ دیا ہے بالخصوص طلبہ میں سیلولر فونز کے استعمال کا رجحان بڑھا ہے۔اس ضمن میں بھارت کی مثال دی جاسکتی ہے ۔وہاں اسکولوں میں کم زور تدریسی مہارتوں کے حامل اساتذہ اور تدریسی آلات کی کمی کے مسئلے پر ویڈیو تدریس کے ذریعے قابو پا لیا گیا ہے۔

ترقی کا راستہ

قوموں کی ترقی اور تبدیلی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔کم وبیش تمام عرب ممالک کو اپنی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامیوں کا سامنا ہواہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

اگر حکومتیں تعلیم کو اپنے ایک منصوبے کے طور پر اختیار کریں اور اپنے اپنے ملک کی ضروریات اور حالات کے مطابق اس پر ایک فریم ورک کےتحت اور ایک حکمتِ عملی کے طور پر توجہ مرکوز کریں تو پھر ہم پسماندگی کی موجودہ دلدل سے نکل سکتے ہیں اور دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کے قابل ہوسکتے ہیں ۔تعلیم کو ترجیح نہ دینے کی وجہ سے ہمارے ممالک کو ناکامیوں اور پسماندگی کا سامنا ہے۔

تعلیم ایک مشکل پیشہ ہے اور اس کے ثمرات ظاہر ہونے میں ایک طویل عرصہ لگ جاتا ہے۔جن مضامین کی تدریس سب سے مشکل ہے ،وہ ریاضی اور سائنس ہیں۔بین الاقوامی ادارے ہر چار سال کے بعد دنیا سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے کام کا جائزہ لیتے ہیں۔وہ جماعت (گریڈ) چہارم ، پنجم ، ششم ، ہفتم اور ہشتم کے قریباً چار ہزار طلبہ کی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔وہ ان کی روشنی میں ایک ریاست کی تعلیمی پالیسی کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

شیخ محمد بن راشد کا منصوبہ عرب دنیا کے ہر فرد کے لیے ہے۔تعلیمی خدمات کی آن لائن دستیابی ایک بہت بڑا تحفہ ہے اور یہ عربی بولنے والے ایسے کسی بھی طالب علم کو دیا جاسکتا ہے جس کے پاس ایک سیلو لر فون اور لیپ ٹاپ ہے۔یہ منصوبہ آیندہ سال مکمل ہونے کے بعد طلبہ کے لیے پیش کردیا جائے گا۔اس کے تحت ریاضی اور سائنس کے عالمی سطح پر ابتدائی سے ہائی اسکول کی سطح پر پڑھائے جانے والے نصاب کو مرتب اور یک جا کردیا جائے گا۔

عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر تعلیم کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی جانب یہ ایک پہلا قدم ہوگا۔اس کو تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔اس سے وقت کی بچت ہوگی اور درپیش مشکلات پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔عرب دنیا میں تعلیم منحوس چکر میں پھنسی ہوئی ہے ۔تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اعلیٰ تعلیم وتربیت یافتہ اساتذہ اور مہنگے تدریسی آلات ایک جامع عملی منصوبے کے تحت درکار ہیں۔

آج عرب دنیا میں یہ سب چیزیں معیار اور مقدار کے مطابق دستیاب نہیں ہیں اور شاید ان کی دستیابی میں مزید سو سال لگ جائیں۔اس لیے اب برقی تعلیم وتدریس ( ای لرننگ) ہی اس کا متبادل اور قابل عمل حل ہے۔اس کو نہ صرف ریاضی اور سائنس کی تدریس بلکہ اسکول کی تمام جماعتوں میں تمام مضامین کو پڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے