’’فوج میرے باپ کو گاؤں کے تمام مردوں سمیت ساتھ لے گئی۔پھر انھوں نے ہمارے مکان کو آگ لگا دی ۔میری ماں اس وقت گھر کے اندر ہی موجودتھی۔وہ زندہ جل مری‘‘۔

یہ میانمار (برما) کی مغربی ریاست راکھین (اراکان) سے تعلق رکھنے والے ایک تیرہ سالہ بچے محمد جکاریا کے مختصر بیان کا ایک حصہ ہے۔اب محمد اور ہزاروں روہنگیا مہاجرین بچے بنگلہ دیش کے جنوب میں واقع تیکناف میں مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ان غلاظت زدہ کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ روہنگیا مہاجرین کو ٹھونس دیا گیا ہے۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نئی تشدد آمیز کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے ہزاروں مہاجرین جانیں بچا کر دشوار گزار سرحدی راستوں سے گذر کر بنگلہ دیش کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔

اگست کے بعد سے ہزاروں روہنگیا مسلمان مبینہ طور پر مارے جا چکے ہیں۔مزید ہزاروں لاپتا ہیں۔ان کا المیہ اس وقت سب سے بڑا انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔روہنگیا کے بحران کا کسی بھی اور انسانی بحران سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔روہنگیا روئے زمین پر سب سے زیادہ ستم رسیدہ اقلیت ہیں۔

اقوام متحدہ کے نگرانوں کو راکھین تک رسائی دینے کی اپیلوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اگر ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو روہنگیا مسلمانوں کی جاری نسل کشی کے خاتمے کے لیے کوئی جامع منصوبہ یا لائحہ عمل نظر نہیں آتا ہے۔

درحقیقت یہ لالچ کی ایک کہانی ہے اور اس میں دنیا کی بڑی کثیر قومی کارپوریشنیں ملوث ہیں۔یہ منافقت کی بھی کہانی ہے اور یہ کسی اور کی نہیں ( نوبل امن انعام یافتہ) آنگ سان سوچی کی منافقت ہے۔

مغرب کی تقدس مآبی

اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ آنگ سان سوچی ایک جھوٹی رہبر ہیں۔ انھیں مغرب نے برسوں سے تقدس مآب بنا کر پیش کیا۔ان پر تقدیس کی چادر چڑھائی۔انھیں جمہوریت کا استعارہ قرار دیا گیا کیونکہ انھوں نے ان ہی برمی فورسز کی اپنے ملک میں مخالفت کی تھی۔تب امریکا کی قیادت میں مغربی اتحاد نے برما کو اس کے چین کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے الگ تھلگ اور تنہائی کا شکار کردیا تھا۔

یہ ایک رضا مندی کی شادی تھی۔آنگ سان سوچی نے توقع کے عین مطابق اپنا کردار ادا کیا تھا۔دائیں بازو نے ان کی حمایت کی اور بایاں بازو ان کا گرویدہ ہوگیا۔ان سب خدمات پر انھیں 1991ء میں نوبل امن انعام سے نواز دیا گیا۔

برما کی اس لیڈی کا اپنے ہی ملک میں ایک سیاسی جلا وطن کے طور پر سفر اس وقت اختتام کو پہنچا جب وہ 2015ء میں کثیر جماعتی انتخابات کے بعد برما کی لیڈر بن گئیں۔اس کے بعد انھوں نے بہت سے ملکوں کے دورے کیے ہیں۔ملکاؤں ، رانیوں اور صدور کے ساتھ کھانے کھائے ہیں،یادگار تقریریں کی ہیں اور اعزازات وصول کیے ہیں۔وہ برسوں سے جس سفاک فوج کی مخالفت کرتی چلی آرہی تھیں،انھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے اس کے ساتھ مصافحہ کر لیا اور حکومت بنا لی۔

یہ عظیم ’’انسان‘‘ اس وقت اپنا تمام وقار کھو بیٹھیں ، جب ان کی حکومت ، پولیس اور فوج نے روہنگیا مسلمانوں کی نسلی تطہیر شروع کردی۔ان کی بڑے منظم انداز میں نسل کشی کی جانے لگی۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیاں برمی فوج ، پولیس اور ملک کی قوم پرست بدھ مت اکثریت مشترکہ طور پر کررہی ہے۔

ان نام نہاد ’’ تطہیری کارروائیوں‘‘ میں حالیہ مہینوں کے دوران ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کو جبری طور پر بے دخل کردیا گیا ہے۔یہ بھوکے ننگے لوگ اپنی جانیں بچا کرکسی نہ کسی طریقے سے پڑوسی ملک میں پہنچ جانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ان کے ساتھ نکلنے والے سیکڑوں افراد دریا یا سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئے ،یا ان کا پیچھا کرکے جنگلوں ،بیابانوں میں انھیں مار دیا گیا۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل اور ان کے دیہات کے گھیراؤ جلاؤ کی کہانیاں 1948ء میں فلسطینی عوام کی نسلی تطہیر کی یاد تازہ کردیتی ہیں۔ یہ پڑھ کر کسی کو حیرت زدہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل برمی فوج کو اسلحہ مہیا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین بالاصرار یہ کہتے ہیں ان کے ملک کا برما میں رجیم کو بھیجی جانے والے ہتھیاروں کی کھیپوں کو روک لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسرائیل سے برما کو اسلحے کی کھیپ بھیجنے کی ایک خبر کا اگست 2016ء میں اعلان کیا گیا تھا اور اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنی نے فخریہ انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کی کارنر شاٹ رائفلز پہلے ہی برمی فوج کے استعمال میں ہیں۔

اسرائیل کی تاریخ سفاک جنتاؤں اور مطلق العنان حکمرانوں کی حمایت سے بھری پڑی ہے لیکن جو لوگ ( ممالک) خود کو جمہوریت کا محافظ قرار دیتے ہیں،وہ اب تک برما میں خونریزی پر خاموش کیوں ہیں؟

آنگ سان سوچی میں تو اتنا بھی اخلاقی حوصلہ نہیں ہے کہ وہ متاثرین سے ہمدردی کے دو بول بول سکیں۔اس کے بجائے انھوں نے ایک مبہم سا بیان جاری کیا اور کہا’’ہمیں اپنے ملک میں موجود ہر کسی کا خیال رکھنا ہوگا‘‘۔

اس دوران میں ان کے ترجمان اور دوسرے بھونپوؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ایک مذموم مہم شروع کررکھی ہے۔وہ ان پر اپنے ہی دیہات کو نذر آتش کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ روہنگیا اپنی خواتین کی عصمت دری کی من گھڑت کہانیاں بیان کررہے ہیں اور جو روہنگیا برمی سکیورٹی فورسز کی مزاحمت کی کوشش کرتے ہیں،انھیں وہ جہادی قرار دے دیتے ہیں۔

دستاویزی ثبوت

لیکن دستاویز ی رپورٹس سے ہمیں اس تلخ حقیقت کے کچھ اشارے ملتے ہیں،جن کا روہنگیا کو مسلسل تجربہ ہورہا ہے۔اقوام متحدہ کی حال ہی میں منظرعام پر آنے والی رپورٹ میں ایک خاتون کا تفصیلی بیان شامل ہے۔اس کے خاوند کو برمی فوجیوں نے منظم حملوں کے دوران میں قتل کردیا تھا۔اس خاتون کے ساتھ بیتی تمام واردات انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

اس متاثرہ خاتون نے بتایا :’’ ان میں سے پانچ نے میرے کپڑے اتار دیے اور میری جبری اجتماعی عصمت ریزی کی۔میرا آٹھ ماہ کا بچہ اس وقت بھوک سے بلبلا رہا تھا۔اس کو میرے دودھ کی ضرورت تھی ۔انھوں نے اس کو خاموش کرانے کے لیےچاقو سے قتل کردیا اوراس کو ہمیشہ کی ابدی نیند سلا دیا‘‘۔

برما سے جانیں بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین دردناک کہانیاں بیان کرتے ہیں۔وہ بچوں کے قتل ،خواتین کی عزتیں تار تار ہونے اور دیہات کو جلائے جانے کے خوف ناک واقعات بیان کرتے ہیں۔ان کے ان بیانات کی ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے فراہم کردہ خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔ان میں ریاست راکھین میں نیست و نابود دیہات کو دیکھا جاسکتا ہے۔

راکھین کے دارالحکومت ستوے سے معروف برطانوی صحافی پیٹر اوبورن نے تازہ صورت حال کو رپورٹ کیا ہے۔ وہ ڈیلی میل میں 4 ستمبر کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’ پانچ سال قبل شہر کی ایک لاکھ اسّی ہزار کے لگ بھگ آبادی میں پچاس ہزار روہنگیا مسلم اقلیتی گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے لیکن آج شہر میں ان کی تعداد تین ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔وہ آزادانہ شہر میں گھوم پھر نہیں سکتے ہیں۔وہ آہنی تار وں میں محصور ایک چھوٹی سی بستی میں الگ تھلگ رہ رہے ہیں۔مسلح محافظ ان تک کسی کو پہنچنے نہیں دیتے اور روہنگیا مسلمانوں کو بھی اس بستی سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔

مغربی حکومتوں کو برما میں برسرزمین موجود اپنے ایلچیوں اور نمائندوں کے ذریعے روہنگیا کے اس بحران کا پورا پورا علم ہے۔وہ ان ناقابل تردید حقائق سے پوری طرح آگاہ ہیں لیکن وہ جان بوجھ کر ان سب کو نظر انداز کررہی ہیں۔

تیل کی دولت

رامری جزیرے سے رپورٹ کرتے ہوئے ہیروارڈ ہولینڈ نے ’’ میانمار (برما) کے پوشیدہ خزانے کی تلاش ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے۔

برما میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور مغرب کی جانب سے جنتا حکومت کے عشروں تک بائیکاٹ کی وجہ سے اس تیل کو نکالا نہیں جاسکا ہے لیکن اب بھاری بولیاں دینے والے میدان میں آرہے ہیں۔تیل کی بڑی کمپنیاں شیل ، ای این آئی ، ٹوٹل شیوران اور دوسری فرمیں اس ملک کے قدرتی وسائل سے استفادے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں جبکہ چین ، جو کئی سال تک برما کی معیشت پر چھایا رہا تھا،اس کو اب آہستہ آہستہ پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔

درحقیقت اس وقت اس ملک کے پوشیدہ معدنی وسائل کو نکالنے کے لیے مخاصمانہ دوڑ اپنے عروج پر ہے۔ اس دولت کی بدولت ایشیا میں چین کی سپر طاقت کی حیثیت کو کم زور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسی مقصد کے لیے مغرب نے آنگ سان سوچی کو اس ملک میں لیڈر کے طور پر کھڑا کیا جبکہ اس ملک میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی شناخت تبدیل کردی گئی ہے تاکہ ’’بِگ آئیل‘‘ کی ملک میں واپسی کی راہ ہموار کی جاسکے۔تاہم روہنگیا اس تمام کھیل کی قیمت چکا رہے ہیں۔

روہنگیا مقامی ہیں

روہنگیا برما میں غیرملکی ، درانداز یا تارکین وطن نہیں ہیں۔ان کی مملکت اراکان آٹھویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے بعد کے برسوں میں اس مملکت کے مکین عرب تاجروں کے ذریعے اسلام سے متعارف ہوئے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسلم اکثریتی علاقہ بن گیا۔اراکان برما کی جدید دور کی ریاست راکھین ہے جہاں بارہ لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان رہ رہے ہیں۔

روہنگیا کو غیر ملکی قرار دینے کا جھوٹا نعرہ پہلی مرتبہ 1784ء میں بلند کیا گیا تھا جب برمی شاہ نے اراکان پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے ہزاروں مسلمان بے گھر ہونے پر مجبور کردیے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر نے بنگال کا رُخ کیا تھا لیکن وہ کچھ عرصے کے بعد اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ آئے تھے۔

بیسویں صدی کے دوران میں کئی مرتبہ روہنگیا کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ،انھیں راکھین سے بے دخل کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔گذشتہ صدی میں 1942ء ، 1948ء 1962ء اور 1977ء میں روہنگیا مسلمانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکال باہر کرنے کے لیے منظم کارروائیاں کی گئی تھیں۔

1982ء میں برما کی فوجی حکومت نے شہریت کے نئے قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت بیشتر روہنگیا کو شہریت سے محروم کردیا گیا تھا اور انھیں ان کے اپنے ہی ملک میں غیر قانونی آباد کار قرار دے دیا گیا تھا۔روہنگیا کے خلاف موجودہ نئی جنگ کا آغاز 2012ء میں ہوا تھا۔

روہنگیا کے خلاف برمی حکومت اور فوج کے مظالم پر بین الاقوامی سطح پر خاموشی ہی چھائی رہی ہے اور صرف چند ایک معز ز شخصیات نے ان مظالم کے خلاف لب کشائی کی ہے۔ ان میں پاپائے روم پوپ فرانسیس بھی شامل ہیں۔انھوں نے فروری میں ان کے لیے دعائیہ عبادات کا اہتمام کیا تھا اور کہا تھا:’’ روہنگیا اچھے لوگ ہیں۔وہ پُرامن لوگ ہیں اور ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں‘‘۔ لیکن افسوس ان کی روہنگیا سے انصاف کے لیے دہائی پر کسی نے کان نہیں دھرے ہیں۔

افسوس ناک خاموشی

آیندہ مہینوں اور برسوں کے دوران میں برما میں تشدد کو مہمیز مل سکتی ہے اور تشدد کا یہ سلسلہ دوسرے آسیان ممالک تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے اس خطے میں مسلمان اور بدھ مت ہی دو بڑے نسلی اور مذہبی گروپ ہیں۔

اگر آسیان تنظیم اپنی افسوس ناک خاموشی کو نہیں توڑتی تو مغربی ممالک کے برما کی معدنی دولت کو اینٹھنے کے لیے فاتحانہ داخلے اور امریکا اور چین کی مخاصمت سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔آسیان کو فیصلہ کن اور پُرعزم حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور برما پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

آنگ سان سوچی کی اخلاقی ناکامیوں کو منظرعام پر لایا جانا چاہیے اور انھیں برما کی سیاسی ہیئت حاکمہ میں ان کے عہدے کی وجہ سے صورت حال کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

جنوبی افریقا کے بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے آنگ سان سوچی کی سرد مہری پر سخت سرزنش کی ہے۔ہم اپنے ملک میں نسل پرستی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والے اس شخص سے کم سے کم یہی توقع کرتے ہیں اور ان مشہور الفاظ پر اپنی بات ختم کرتے ہیں:’’ اگر آپ ناانصافی کی صورت حال میں غیر جانبدار رہتے ہیں تو پھر آپ نے جابر کی طرف داری کا انتخاب کیا ہے‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے