بالآخر غزہ کی قیادت نے کھلی بانہوں سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔اس کے قیدیوں کو رہا کردیا ہے اور مقامی انتظامیہ کی چابیاں بھی اس کے حوالے کردی ہیں۔

یہ ایک بڑی اہم سیاسی اور انسانی ڈیل ہے۔اس کا تمام کریڈٹ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کو جاتا ہے اور یہ ایک عشرے میں کامیاب ہونے والا پہلا سمجھوتا ہوگا۔ اگر یہ کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر رام اللہ اور غزہ کے قائدین باہمی تعاون کرتے ہیں تو اس سے سیاست دانوں کے پیدا کردہ ایک بدترین انسانی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کے لیڈروں نے ،جو قطر اور ایران کی مہم جوئی میں شامل ہوگئے تھے،اس مشکل مرحلے کے دوران میں زیادہ بوجھ برداشت کیا ہے۔اس گنجان آباد علاقے کے مکینوں نے دس تکلیف دہ برسوں کے دوران میں بے پایاں مصائب اور مشکلات جھیلیں ہیں۔

ایک عشرے تک غزہ کی پٹی کے مکینوں نے ایسی تباہ کن جنگوں کا سامنا کیا ہے،جن کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔ان کے علاقے میں انتہا پسندوں اور انتہائی کٹڑانتہا پسندوں کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔غزہ کے ساتھ تجارت پر پابندی تھی،سرنگیں بند کردی گئیں،سمندر میں پیراکی پر بھی پابندی عاید کردی گئی تھی اور مچھیروں کو بھی ان کے کام سے روک دیا گیا۔

غزہ کا ہوائی اڈا بھی بند کردیا گیا اور یہ امن اور بہتر مستقبل کی علامت تھا۔ حد تو یہ ہے کہ غز ہ کے کراسنگ پوائنٹ سے محض انسانی ضروریات زندگی کی ترسیل بھی خبر بن جاتی تھی۔

ذاتی مخاصمتیں

غزہ کے مکینوں کے مصائب کوئی قومی المیہ یا سیاسی ضرورت نہیں تھے بلکہ یہ حماقت ،عدم اتفاقات کا بوجھ اور قیادت کی ذاتی مخاصمت کا شاخسانہ تھے۔ فی الوقت ہم یقین سے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ نیا سمجھوتا کتنی دیر چلے گا ۔اس کے موثر اور مستحکم ہونے کا اندازہ چند ہفتے اور چند ہ مہینے کے بعد ہی ہوسکے گا۔اس تشویش کے باوجود یہ حالیہ برسوں میں طے پانے والا ایک بہترین سمجھوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا رامی حمداللہ کی حکومت غزہ کی پٹی میں نظم ونسق چلا سکے گی اور حماس کے ساتھ چل سکے گی؟کیا اختلافات بھلا دیے جائیں گے،انھیں طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جائے گا اور انھیں تعاون سے بدل دیا جائے گا تاکہ غزہ کی پٹی کو ایک مرتبہ پھرغرب ِ اردن سے ملایا جاسکے۔

بہت سی ایسی پرانی وجوہ ہیں جن کی بنا پر سمجھوتے کی کامیابی ایک مشکل کام ہوگا۔اگر آج یہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ غزہ کے المیے کو فلسطینی ، عرب اور عالمی سطح تک زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

اہم بات یہ ہے کہ غزہ رام اللہ کی جانب لوٹ رہا ہے۔یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ فلسطینی قیادت تمام فلسطینیوں کی جانب سے بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس مصالحت سے اسرائیل کے امن عمل کی مخالفت سے متعلق جوازات کا بھی خاتمہ ہوگا ۔وہ حماس ، اسلامی جہاد اور دوسری مسلح تحریکوں کو ماضی میں امن کوششوں کی ناکامی کا ذمے دار قرار دیتا چلا آرہا ہے۔

مصالحت اور امن اقدام

فلسطینیوں کے درمیان مصالحت سے کسی نئے امن اقدام کے لیے بین الاقوامی خواہش کے دروازے بھی کھلیں گے۔تاہم اگر کوئی سنجیدہ امن منصوبہ شروع نہیں ہوتا تو بھی فلسطینیوں کی داخلی صورت حال کو بہتر بنایا جاسکتا ہےکیونکہ وہ داخلی تنازع کی وجہ سے ابتر ہوچکی ہے۔

مصر کی فلسطینی معاملے میں واپسی کسی نئے امن عمل کے لیے ایک نیا عامل ہے۔یہ مصر ہی تھا جو غزہ کی پٹی کی دیکھ بھال کا ذمے دار تھا لیکن قطری اور ایرانی مداخلت کے بعد مصر کے اس کردار کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس کے نتیجے میں خوف کی ایک دیوار تعمیر ہوئی اور غزہ کی پٹی کو بند کردیا گیا۔

مصر گذشتہ دس سال کے دوران میں فلسطینیوں کے درمیان باہمی تنازعے کے خاتمے کے لیے مصالحت کار کا کردار ادا کرتا رہا تھا ۔یہ اور بات ہے کہ وہ اس میں ناکام رہا تھا۔تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں فلسطینی بھائیوں کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔

اس تمام عمل کو کامیاب بنانے کے لیے نیّتوں اور ارادوں میں اخلاص کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی اتھارٹی اپنی مکمل بالادستی قائم کرنے ہی میں نہ لگ جائے اور نہ وہ حماس کی چالاکی کا شکار ہوجائے۔انھیں صرف بارڈر کراسنگز کے کھولنے اور اپنے اپنے مفادات کے لیے ہی بحران پر قابو نہیں پانا چاہیے تاکہ پھر کہیں ان میں عدم اتفاق اور دوریاں پیدا نہ ہوجائیں۔

فلسطینیوں میں مصالحت اور غزہ کو کھولنے کا عمل خطے میں استحکام کا آغاز ہوسکتا ہے اور یہ علاقائی طوائف الملوکی پر قابو پانے کی بھی ایک علامت ہوسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے