ہم قبل اس کے کہ گذشتہ ہفتے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ ماسکو کے موقع پر دو دفاعی سودوں کے بارے میں گفتگو کریں،یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم سوال پر غور کر لیا جائے اور وہ یہ کہ : سعودی عرب جدید ہتھیاروں کو بھاری مقدار میں درآمد کرنے میں کیوں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے؟

سعودی عرب کو دراصل اس وقت دو عوامل کی بنا پر بدترین ممکنہ غیر ملکی خطرات کا سامنا ہے۔اول :ایرانی خطرے میں اضافہ ہوگیا ہے اور دوم : امریکا اس کے دفاع کے لیے وعدے سے مکر گیا ہے۔

اس وقت سعودی عرب کی تمام سرحدوں پر ایران کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔وہ شمال میں عراق اور شام تک اپنے اثر ورسوخ کو توسیع دے چکا ہے۔وہ جنوب اور یمن کی سرحد کی جانب سے بھی سعودی عرب کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔اگر مصر میں صدر محمد مرسی کی قیادت میں اخوان المسلمون کی حکومت جولائی 2013ء میں ختم نہ ہوجاتی تو ایران اب تک خطے میں اپنا مضبوط کنٹرول قائم کرچکا ہوتا۔

دوسری وجہ امریکا کا سعودی عرب کے تحفظ سے ہاتھ کھینچ لینا ہے۔سابق صدر براک اوباما نے اپنے دور حکومت میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ سعودی عرب کی سکیورٹی امریکا کی سکیورٹی کا حصہ ہے‘‘ کا تصور امریکا کے اعلیٰ تر مفاد کے تناظر میں اب موثر نہیں رہا ہے۔اس کے بعد سعودی کمان کے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور وہ یہ کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے۔

مغربی حکومتوں نے ہمیشہ سے اسلحہ کی فروخت اور خارجہ پالیسیوں کے درمیان قریبی تعلق داری قائم رکھی ہے۔ اس تعلق کی بنیاد پر سودوں کی شرائط طے پاتی ہیں اور یہ انھیں سیاسی تحفظات کو بھی ملحوظ رکھنے کا پابند بناتا ہے۔اوباما انتظامیہ نے سعودی عرب کے لیے اسلحے کی ترسیل معطل کردی تھی اور یمن میں جنگ پر تنازع کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کا سلسلہ بھی بند کردیا تھا۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ امریکا کے بعض ریاستی ادارے اور کانگریس کے بعض ارکان سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی سودوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔حزب اختلاف کی شخصیات کی مخالفت کی بنا پر بہت سے دفاعی سودے بہ مشکل تمام ہی پایہ تکمیل کو پہنچے تھے۔ایسے بہت سے گروپ موجود ہیں جو سعودی عرب کے مخالف ہیں اور وہ اس پر یمن میں شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے الزامات عاید کر تے رہتے ہیں۔

اس پر مستزاد وہ لابی گروپ ہیں جو سعودی عرب کی مخالفت پر کمربستہ طاقتوں کے لیے کام کرتے ہیں۔اس سب کے باوجود امریکی صدر ہی امریکا کے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کے آخری مجاز ہیں۔

ماسکو کا دورہ

شاہ سلمان کا دورۂ ماسکو کسی سعودی بادشاہ کا روس کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ یہ دورہ تیل کی مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں اور روس کو ایران سے سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے کے ضمن میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

اس دورے سے سعودی عرب کے لیے فوجی انتخاب کو توسیع دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ روس کے ساتھ فوجی معاہدہ امریکا کے ہتھیاروں کا کوئی متبادل نہیں ہے اور اس کا مقصد امریکا سے دوری بھی نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے آغاز میں کہا ہے۔یہ ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کو پہلے سے زیادہ مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔چین اور رو س سے ہتھیاروں کی خریداری سے وہ امریکا کے دباؤ سے آزاد ہوگا۔فرض کریں ، اگر امریکا سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل بند کردیتا ہے یا آیندہ کسی جنگ میں اپنے ہتھیار استعمال کرنے سے ہی روک دیتا ہے تو پھر سعودی عرب کے پاس نئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے راستہ موجود ہونا چاہیے۔

سعودی عرب جو نئے ہتھیار خرید کررہا ہے،ان میں دو میزائل دفاعی نظام شامل ہیں اور یہ ایران کے کسی حملے یا کسی اور جانب سے حملے کے مقابلے کے لیے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ان میں ایک تو روس کا میزائل فضائی دفاعی نظام ایس -400 ہے اور دوسرا امریکا کا تھاڈ میزائل نظام ہے۔مختلف وسائل کے حصول کے بعد سعودی عرب دو سال پہلے یمن میں جنگ میں کودنے کی طرح کسی لڑائی میں نہیں جائے گا۔

خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی پالیسیوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ایسا صرف مزید ہتھیارخرید کر نہیں کیا جا سکتا بلکہ انھیں اپنے عسکری اداروں کی صلاحیت اور کارکردگی کو بھی بہتر بنانا چاہیے اور اپنے سائنسی اور صنعتی کام کو ترقی دینی چاہیے۔سچ بولا جانا چاہیے اور یہی چیز ہم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کام میں دیکھی ہے۔ وہ سعودی عرب کی فوجی قوت کے تصور کو ازسرنو وضع کررہے ہیں اور وہ بھی میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہ کر۔

یہ خلیجی ممالک کی قسمت ہے کہ وہ ایک ایسے خطے میں رہ رہے ہیں جہاں اس وقت جنگوں اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔چنانچہ سعودی عرب یہ سوچنے پر مجبور ہوا ہے کہ فوجی برتری اسلحے کی خریداری کے لیے سودوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔یہ سائنس ، نظم وضبط اور صنعتوں کو ترقی دینے کا بھی نظریاتی دور ہے۔

یہ ایک جامع نظام ہے۔اسرائیل ، جو ہتھیاروں کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے،یہی سوچ رکھتا ہے۔اسلحے کی اس پالیسی سے متعلق اہم بات یہ ہے کہ ریاست پر بوجھ نہ بنا جائے ،اس کے بنک دیوالیہ ہونے کا جواز یا کمزوری نہیں بننا چاہیے بلکہ یہ ترقی ، بڑھوتری اور امن کا راستہ ہونا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے