ایک ہفتے کی سیاسی قیاس آرائیوں ، شکوک وشبہات اور تزویراتی جمع وتفریق کے بعد امریکا کی خارجہ پالیسی ٹیم نے ایران کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔اس نے ایران سے چھے بڑی طاقتوں کے تباہ کن جوہری معاہدے سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اکتوبر کو اپنی 20 منٹ کی تقر یر میں اس نئی پالیسی کے اہم نکات بیانات کیے تھے۔ان میں اہم جوہری معاہدے کی عدم تصدیق اور ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے لیے عالمی دہشت گردی حکم نامہ نمبر 13224 پر عمل درآمد کرنا ہے۔

جوہری معاہدے کی عدم تصدیق کے علاوہ صدر ٹرمپ کا اعلان امریکا کی گذشتہ دو عشرے سے جاری ناکام مصالحتی پالیسی میں تبدیلی کا بھی مظہرہے۔ یہ پالیسی ایرانی رجیم کے چاردانگ عالم میں بُرے کردار سے نمٹنے کے بجائے مصالحت کے لیے اختیار کی گئی تھی۔

1997ء میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایران کی حکمران ملّائیت کو مطمئن کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت حزبِ اختلاف کے بڑے گروپ مجاہدین خلق ایران کو ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا۔اس فیصلے سے ایرانی رجیم کو مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں ’’تہذیبوں کے درمیان مکالمہ‘‘ کے پردے میں اپنے نظریے اور دہشت گردی کو پھیلانے کا موقع مل گیا تھا۔

اب امریکا نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔ اس نے ایرانی رجیم کے پَر کاٹنے اور خطے میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔صدر ٹرمپ کی تقریر کے فوری بعد یورپی یونین نے امریکا کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور سعودی عرب نے تہران کے بارے میں نئی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔بیرون ملک مقیم ایرانی سوسائٹی اور کمیونٹی اپنے طور پر امریکی اعلان پر ایرانی رجیم اور حزبِ اختلاف کی بڑی تحریک قومی مزاحمتی کونسل برائے ایران (این سی آر آئی) کے ردعمل کو دیکھ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی تقریر کے چند گھنٹے کے بعد ایرانی شہریوں نے اپنے نام نہاد اعتدال پسند صدر حسن روحانی کو پریشان کن آنکھوں کے ساتھ بیان پڑھتے ہوئے دیکھا ۔یہ بیان پُرفریب جھوٹ اور تضادات کا مرقع تھا۔

مصالحتی دور کا خاتمہ

ایران میں اگرچہ این سی آر آئی کی حمایت کی سزا موت ہے اور ایرانی رجیم مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتا رہتا ہے ،اس کے باوجود سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین کی اکثریت نے مزاحمتی کونسل کی منتخبہ صدر مریم رجوی کے بیان کی خوب تشہیر کی تھی جس میں انھوں نے ’’ مصالحتی دور کے خاتمے‘‘ کا خیرمقدم کیا تھا۔

درحقیقت ایرانی عوام نے ہمیشہ ایرانی رجیم پر دباؤ میں اضافے کا خیرمقدم کیا ہے،بالخصوص سفاک پیراملٹری فورس سپاہ پاسداران انقلاب ایران پر دباؤ کو سراہا ہے کیونکہ یہ فورس سول سوسائٹی کو دبانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔مزید برآں پاسداران انقلاب کامعاشی بدعنوانیوں میں بھی مرکزی کردار ہے اور ان ہی بدعنوانیوں کے خلاف گذشتہ چند ماہ کے دوران میں ہزاروں افراد نے ایران بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

پاسداران انقلاب کو خصوصی دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے نہ صرف ایرانی رجیم کے اہم ادارے پر اثرات مرتب ہوں بلکہ ایران میں جبر و استبداد اور خوف کے ماحول کا بھی خاتمہ ہوگا۔ پاسداران انقلاب کے سرطان کے استیصال کے لیے امریکا کو ایران کے اندر اپنی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ایران کا کم وبیش تمام مالیاتی نظام پاسداران انقلاب کے ہاتھ میں ہے۔وہ اس کو دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ اور رقوم مہیا کرنے کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ روحانی حکومت کو اس کا پورا پورا علم ہے اور اس نے اس سال کے اوائل میں اس کےبجٹ میں ا ضافہ بھی کردیا تھا۔

قارئین کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ ایرانی رجیم کے ساتھ جو کمپنیاں اور ممالک کاروبار کرتے ہیں،وہ عملی طور پر کسی نہ کسی طریقے سے پا سداران انقلاب کو بھی فنڈز دیتے ہیں۔

حکومت مخالف مظاہرے

آج ایران بھر میں رجیم مخالف مظاہروں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ان میں زیادہ تر کا تعلق معاشی اور شہری ضروریات کے مطالبات سے ہے۔صرف اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ ایرانی عوام پورے ایرانی رجیم کے دھڑن تختہ کے لیے مواقع کی تلاش میں ہیں،اس لیے یہ بات زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی کہ امریکا صرف انسانی حقوق سے متعلق امور ومسائل کو اجاگر کرے اور ایرانی مزاحمتی تحریک کو تسلیم کرے۔

ان اقدامات کے بعد پاسداران انقلاب اپنے داخلی بحران میں الجھ کر رہ جائیں گے اور نتیجتاً انھیں خطے سے نکال باہر کرنا کوئی زیادہ مہنگا سودا نہیں رہے گا۔ایران میں ملّائیت پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرے گی۔وہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان ایران کے بارے میں حکمت عملی پر کوئی تال میل نہ ہونے کا فائدہ اٹھائے گی اور اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرے گی۔

درحقیقت ایرانی رجیم نے بین الاقوامی تنازعات اور بالخصوص مغربی جمہوریتوں کے درمیان عدم اتفاق سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپی لیڈروں سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ تہران کے ایک ایسے بدعنوان رجیم سے مصالحت کے کیوں اتنے مشتاق ہیں جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور جو صرف اپنے ہی عوام کے خلاف جبر وتشدد کی کارروائیوں ، دہشت گردی اور اسلامی بنیادی پرست کے پھیلاؤ کے سہارے زندہ ہے۔

ایک بات تو بڑی واضح ہے اور وہ یہ کہ امریکا اور ایرانی عوام کے قومی مفادات آپس میں گہری مطابقت رکھتے ہیں اور یورپی یونین کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ آمر ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد بہرامی ایران سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ماضی میں اپنے ملک میں سیاسی قیدی رہ چکے ہیں۔اس وقت وہ گلاسگو (اسکاٹ لینڈ) میں مقیم ہیں۔وہ انسانی حقوق کے علمبردار سیاسی کارکن ہیں اور فری لانس صحافی کے طور پر کام کرتے ہیں۔وہ ایران میں انسانی حقوق اور سیاسی صورت حال ، ایرانی رجیم ،اس کی پالیسی اور مشرق ِ وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ @HaBahrami اور بلاگ کا ایڈریس یہ ہے: analyzecom.wordpress.com.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے