کرد لیڈر مسعود بارزانی کے لیے یہ ناگزیر ہوچکا تھا کہ وہ اپنے شہریوں یعنی عراقی کردوں کی ایک الگ اور آزاد ریاست کے قیام کی غرض سے قسمت آزمائی کرتے اور ان کے دیرینہ خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرتے۔

مگر اب تمام تیروں کا رُخ کردستان میں منعقدہ ریفرینڈم کی جانب ہے اور اس کی ناکامی کے اشارے کیے جارہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ مسعود بارزانی نے ایسا کیوں کیا؟پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بھی ان پر مستقبل میں انگلیاں اٹھائی جاتیں اور ان پر اپنے ہی لوگوں کو نا کام کرنے کا الزام عاید کیا جاتا۔انھوں نے گذشتہ چند سال کے دوران میں بغداد حکومت کے ساتھ مل کر سیاسی اور عسکری میدان میں مشترکہ کوششیں کی ہیں۔

یہ بارزانی ہی تھے جنھوں نے دہشت گردی مخالف عالمی اتحاد کے ساتھ تعاون کیا تھا اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردوں کا بھی خون بہا ہے۔

آزادی: ایک غلطی

تاہم ان کا کردوں کے آزاد ریاست کے قیام کےخواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مشن غلط تھا کیونکہ خطے کا کوئی ایک ملک بھی ان کی حمایت کو تیار نہیں ہوا ہے۔اب اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ تمام ریاستیں ایک آزاد اور خود مختار کرد ریاست کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔

اس نکتے کا جنوبی یمن اور خطے میں علاحدگی کے دوسرے منصوبوں پر بھی اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہی کافی نہیں ہے کہ ایک خطے کے لوگوں کی اکثریت اس کی حامی ہے بلکہ ریفرینڈم کے نتائج کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔چنانچہ سعودی عرب ،ترکی اور ایران نے اپنے درمیان اختلافات کے باوجود کردستان کی علاحدگی کی متفقہ طور پر مخالفت کی ہے۔ سیاسی اصطلاح میں ان ممالک نے متحدہ عراق کی حمایت کی ہے اور دوسرے ممالک نے بھی ان کے اس موقف کی خاموش توثیق کی ہے۔

عراقی کردستان کی علاحدگی کے منصوبے کی ناکامی میں ایک اہم پیغام بھی پنہاں ہے۔وہ یہ کہ مقامی یا علاقائی قوتوں کو ریاستوں کے اندر تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ بات صرف کردوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ خطے میں ایران کے ساتھ وابستہ گروپ ،خواہ جنوبی یا وسطی عراق یا کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہیں،ان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔یہ پیغام خطے میں ان ممالک کے لیے بھی ہے جو مختلف ملکوں میں جاری طوائف الملوکی اور افراتفری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور جنگوں کے بطن سے چھوٹی چھوٹی جمہوریائیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب اور عراق کے درمیان بڑھتی ہوئی تعلق داری سے خارجہ پالیسی کو درست سمت میں استوار کیا جارہا ہے کیونکہ ان علاقوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم کسی ایک فریق کے حق میں عراق کی تقسیم کے مخالف ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عراقی کردستان کو کمزور کرنے کے لیے جاری کوششوں کی خاموش حمایت کریں۔عراق میں توازن قائم کرنے کے لیے کردستان کی مضبوطی بہت ضروری ہے اور یہ خطے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

ہم خود مختار کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوششوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ یقینی طور پر عراق اور خطے کے ایک اہم لیڈر ہیں۔تاہم ایسی کرد قوتیں بھی موجود ہیں جو موجود ہ صورت حال کو مسعود بارزانی اور ان کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ترکی ، ایران اور بغداد کی حکومت کردستان اور اس کی حکومت کے خلاف پابندیوں کی منظوری کے ذریعے مسعود بارزانی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔وہ اس کے علاوہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کی بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

اب بات یہ ہے کہ کردوں کا ریفرینڈم کے انعقاد کا فیصلہ غلط ثابت ہوا ہے۔انھوں نے یہ فرض کرنے میں بھی غلطی کی کہ اس کے نتائج کو ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے سبز جھنڈی سمجھا جائے گا۔درحقیقت یہ ایک ایسا قدم تھا جس کا نتیجہ ایک عراقی اور علاقائی ویٹو کی صورت میں نکلا ہے ۔چنانچہ اس علاحدگی کے منصوبے کو ترک کردیا گیا ہے۔

اس کے بعد تو کرد مسئلے کو حل ہوجانا چاہیے تھا ۔اس کو محاذ آرائی اور کشیدگی کے ذریعے نہیں بلکہ اربیل اور بغداد کے درمیان مصالحت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔بعض عراقی فورسز کی جانب سے عراقی کرد لیڈروں کا پیچھا کیا جانا بغداد کے مفاد میں ہے اور نہ یہ حیدر العبادی حکومت کے مفاد میں ہے۔یہ حرکت صرف جلتی پر تیل کا کام کرے گی۔

کردوں کی عراق کے لیے حمایت

آئیے! کردوں کے بغداد کے بارے میں موقف کی یاد تازہ کرتے ہیں۔انھوں نے عراقی فورسز کی حمایت کی تھی۔انھوں نے نوری المالکی کے اقتدار کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی چھوڑنے سے انکاری ہوچکے تھے۔وہ مطلق العنان وزیراعظم کی حیثیت سے تادمِ مرگ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔

امریکا کے عراق پر قبضے کے وقت تشکیل پانے والے سیاسی نظام میں توازن اقتدار کے لیے کرد ایک لازمی حصہ ہیں۔موجودہ بحران سے کردوں اور ان کی علاقائی حکومت کو کمزوری سے دوچار کرنا ایک ایرانی منصوبہ ہے۔یہ الحشد الشعبی ایسی مسلح ملیشاؤ ں کے لیے بھی مناسب ہے کیونکہ یہ بالآ خر ایک ملیشیا ہی ہے اور عراقی فوج سے مسابقت میں ہے اور اس سے عراق کے اتحاد کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

جب تک کہ علاحدگی کے تنازع اور دارالحکومت کی قوتوں کو دیوار سے لگانے کے خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،اس وقت تک بحران کا یہی حل ہوگا کہ جدید ریاست کے قیام اور اس کے آئین کی تشکیل سے متعلق وعدوں کو ایفاء کیا جائے ۔

کیونکہ عراقی ریاست تمام عراقیوں کے لیے ہے۔یہ اکثریت یا طاقت ور مسلح گروپوں کے لیے نہیں ہے۔اس کی اتھارٹی کو آئینی طور پر مینڈیٹ حاصل ہے،یہ کوئی مذہبی ریاست ہے اور نہ یہ کسی ملیشیا اور مسلح قبائل کی دست نگر ہے اور یہ غیرملکی فورسز سے بھی مینڈیٹ حاصل نہیں کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے