امام کعبہ الشیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے گزشتہ روز وزیر شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور ان کی دعوت پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت بھی کی ۔ یہ ملکی تاریخ کا منفرد موقعہ تھا کہ کابینہ کا اجلاس امام کعبہ کی تلاوت سے شروع ہوا جبکہ الشیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے وزرا سے نصیحت آموز خطاب بھی کیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ تاریخی اور منفرد واقعہ رونما ہوا وفاقی وزیر اطلاعات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی کاوشوں سے۔ ہمارے ہاں بہت سے حلقے دینی جماعتوں اور شخصیات کی سرگرمیوں پر اعتراضات کے انبار لگاتے رہتے ہیں۔ سیکولر طبقہ ملکی نظام کو دین سے دور رکھنے کا رونا روتا ہے، سیاسی مخالفین کا اعتراض ہوتا ہے کہ دین کو سیاست سے الگ رکھا جائے، کچھ دینی سکالر جمہوریت کے کفر واسلام کی بحثوں میں الجھ کر عوام کو متنفر کرتے ہیں جبکہ کچھ تکفیری ذہنیت والے تو کچے ذہنوں کو گمراہ کر کے ریاست کے ہی خلاف برسر پیکار کرنے کی مزموم کوشش کرتے ہیں ۔

یہی وجوہات ہیں کہ دینی حلقے سیاسی میدان میں مشکلات کا شکار ہیں اور اس میدان میں ابھی تک وہ کردار ادا نہیں کیا جا سکا اور وہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے جن کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس بارے کوششیں نہیں ہوئیں۔ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب جیسے اعلی تعلیم یافتہ ممبران اسمبلی کے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے سے اب کم سے کم کابینہ اجلاسوں کو تلاوت قرآن سے شروع کرنے کا مسئلہ تو حل ہوا ہے۔ تلاوت سے رحمن ملک اور اعتزاز احسن کے کھلواڑ قوم کی یادوں سے ابھی محو نہیں ہوئے۔

سادہ سی بات ہے کہ کابینہ میں دینی سوچ والا کوئی ہوگا تو ہی امام کعبہ کو وزیر اعظم سے ملانے کے بعد کابینہ اجلاس میں شرکت کا بھی مشورہ دے گا۔ ورنہ ہم تو یہ بھی دیکھ چکے ہیں ماضی میں شرمین عبید چنائے کی فلمیں دیکھانے کے لئے وزیر اعظم ہاوس کو سینما گھر میں تبدیل کر دیا جاتا تھا یا پھر مرد حر وہاں نشیلی محفلیں سجایا کرتے تھے۔ عمومی طور پر ہر دور حکومت میں مذہبی امور کی وزارت تبرک کے لئے کسی دینی ممبر اسمبلی کو دی جاتی ہے لیکن ملکی تاریخ میں یہ بھی شائد پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی دینی شخصیت کو مواصلات جیسی اہم وزارت دی گئی ہے۔ جس کے تحت سی پیک جیسے اہم منصوبہ جات مکمل ہو رہے ہیں ۔ جب چین، جاپان اور دیگر ممالک کے وفود ایک دینی شخصیت سے ملتے ہوں گے تو ضرور انہیں احساس ہوتا ہوگا کہ ملک کا ایک چہرہ یہ بھی ہے ۔ہم پورےیقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اعلی ترین وزارتوں پر فائز یہ دینی شخصیات ضرور اپنے دفاتر میں نمازوں کا اہتمام کرتی ہوں گی اور اسی طرح ملکی و غیر ملکی دوروں میں بھی۔

سادہ سی بات ہے کہ جب سربراہ اپنے معمولات کو اوقات نماز کے حوالے سے ترتیب دے گا تو ضرور اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔کم سے کم اس وزارت کے اعلی حکام میں کچھ تو مثبت تبدیلیاں ہوں گی ۔ جی ہاں معاشرے میں دینی رجحان کے فروغ اور تبدیلی کا یہی طریقہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت دینی جذبہ رکھنے والے افراد ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں، وہ فیصلہ سازی میں شامل ہوں، جہاں اختیارات استعمال ہوتے ہیں وہاں موجود ہوں، جہاں موقعہ ملے دینی روایات اور تعلیمات کے مطابق مشاورت اور اقدامات میں بھرپور حصہ لیں ۔ اسی سے تبدیلی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے لئے ہی محنت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی حافظ عبدالکریم وفاقی کابینہ میں شامل ہو گا تو وہ امام کعبہ کی وزیر اعظم سے ملاقات اور وزراء سے خطاب کا مشورہ دے سکے گا نہیں تو کوئی سیکولر ذہنیت کا وزیر شرمین عبید چنائے کے اعزاز میں تقریب منعقد کرکے اس کی فلم چلانے کے لئے وزیر اعظم ہاوس کو سینما گھر تک بنانے کا اہتمام کرے گا اور دینی طبقہ محض دل جلانے، جلسوں میں پرجوش تقاریر کرنے اور اظہار افسوس کے کچھ نہیں کر سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار ایک مقامی کالج میں ابلاغیات کے استاد ہیں اور مختلف قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہیں.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے