اگلے روز اخبار سعودی گزٹ میں ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ یہ سعودی عرب میں پیدا ہونے والے تارکینِ وطن کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کے بارے میں تھی۔ یہ تارکینِ وطن محسوس کرتے ہیں کہ ان کا اس ملک سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سعودی مملکت میں گذشتہ عشروں کے دوران میں بیس لاکھ کے لگ بھگ تارکینِ وطن پیدا ہوئے ہیں۔ان میں سے بہت سے تارکین وطنِ کی دوسری اور تیسری نسل کی اولاد ہیں۔ان کے والدین بھی یہیں پیدا ہوئے تھے۔

ان میں سے یہاں ایک کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔اس تارک ِوطن کا نام وسیم بی ہے۔ وہ چالیس سال سے زیادہ عرصے سے اس ملک میں مقیم ہے۔ وہ تین سال کی عمر میں اپنے بڑے بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ یہاں آیا تھا۔ وہ سب یہیں پلے بڑے اور سعودی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔انھوں نے تب تعلیم حاصل کی تھی جب کوئی کوئی سیکھنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ آج وسیم جدہ میں ایک ضعیف العمر سعودی خاندان کا کاروبار سنبھالے ہوئے ہے۔

خاندانوں میں بالعموم اول خویش بعد درویش کی سوچ زوا ل کا آغاز ہوا کرتی ہے اور قوموں میں بھی اگر اس سوچ کو اپنا لیا جائے تو پھر ترقی اور افزودگی کا عمل رُک جاتا ہے اور قوم کی بند گلی کی جانب جانے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

وسیم کا اس خاندان کے ساتھ نوجوانی کے زمانے سے دیانت دارانہ تعلق قائم ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج وہ ان کے تمام مالی امور کا ذمے دار ہے لیکن اب وسیم کو ایک بڑا اور سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ وسیم کے والد نے 35 سال قبل اس کے بڑے بھائیوں اور بہنوں کو سعودی شہریت دلانے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور وہ سعودی شہریت کے حصول میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن وسیم کی اس وقت عمر کم تھی اور اس کے والد صاحب اس کی در خواست نہیں دے سکے تھے۔

پھر وقت گزرتا گیا اور ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وسیم کی شہریت کے حصول کے لیے دائر درخواست بھی کھڑکی سے باہر چلی گئی۔اس وقت شاید اس کے لیے یہ کوئی زیادہ مسئلہ نہیں تھا لیکن عمر ڈھلنے کے بعد جب اس نے اپنے خاندان کے ساتھ الگ سے عملی زندگی کا آغاز کیا تو تب تک اس کی شہریت کے حصول کے لیے درخواست کھوہ کھاتے لگ چکی تھی اور یوں اس کے لیے کئی ایک مسائل پیدا ہوگئے۔ پھر شہریت کے قوانین کو مزید سخت کردیا گیا ۔نئی قدغنیں عاید کردی گئیں اور اس کی سعودی شہریت کے حصول اور یہاں مستقل طور پر بسنے کی خواہش غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگئی۔

جب اس کے بچوں کی اسکول جانے کی عمر تھی تو پھر ان کا سر کاری اسکولوں میں جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔آج اس کا ایک بیٹا پاکستانی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے والا ہے تو وہ گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے کہ وہ اپنے بچے کو کہاں سے اعلیٰ تعلیم دلوائے کیونکہ سعودی جامعات میں غیرملکیوں کے داخلے پر قدغنیں عاید ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو بیرون ملک حتیٰ کہ پاکستان میں بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے نہیں بھیج سکتا کیونکہ اس کا خاندان عشروں پہلے سعودی عرب آگیا تھا اور وہاں ان کے کوئی ایسے عزیز واقارب نہیں جن کے پاس اس بیٹے کو بھیج سکے۔ دوسرا وہ بچہ سعودی عرب ہی میں پلا بڑا ہے اور پاکستان بھی اس کے لیے ایک اجنبی ملک ہوگا۔ اس کا کلچر اس کے لیے غیر مانوس ہو گا۔

سعودی عرب کے ورثے کو صرف اسی کے خون کے ذریعے محفوظ بنانے کی ذہنیت کو اب تبدیل کرنا ہو گا۔

سعودی عرب میں مقیم بہت سے دوسرے تارک وطن والدین ، مائیں اور باپ وسیم ایسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ مغرب کے دور دراز ملکوں سے لے کر ایشیا کے اس آخری کونے تک سے تعلق رکھنے والے ان کے آباء واجداد عشروں پہلے اس ملک میں اٹھ آئے تھے۔وہ دولت کے حصول یا تیل کی آمدن کے عروج کے زمانے میں اپناحصہ اینٹھنے کے لیے یہاں نہیں آئے تھے بلکہ ان میں سے بہت سے تو اس دور سے بھی پہلے یہاں آئے تھے۔بہت سوں نے تو حجاز مقدس اور بہ الفاظ دیگر الحرمین الشریفین کی سرزمین میں مستقل طور پر رہنے کے لیے دشوار گزار سفر کیا تھا۔

لیکن آج وہ سب ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔انھیں ایسے فیصلہ کرنا پڑ رہے ہیں جن سے ان کے خاندان تقسیم ہورہے ہیں۔وہ یہاں سعودی کی حیثیت رہے، سعودی کی حیثیت سے انھوں نے تعلیم حاصل کی،سعودی کی حیثیت سے کام کیا،سعودی ہی کی حیثیت سے عبادت کی لیکن وہ سعودی نہیں ہیں اور انھیں سعودی کے طور پر قبول ہی نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو شہریت کے حصول کے لیے درپیش افسر شاہی کے چیلنجز بھی کوئی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے تارکین وطن تو کسی اور سرزمین کو اپنا وطن بھی قرار نہیں دے سکتے ہیں۔اگر ان کے خاندان کی ان کی اپنی آبائی سرزمین میں پرورش ہوئی ہوتی تو وہ اس کے کلچر، زبان، خوراک اور ہر چیز سے مطا بقت رکھتے۔ اب جب ان کے بچے بڑے ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں، انھیں مزید تعلیم یا ملازمتوں کی ضرورت ہے تو ان میں سے بعض بہ جبر وکراہ سعودی عرب سے اپنا بوریا بستر لپیٹنے اور اپنے معاشروں کو لوٹنے کی کوشش کریں گے جبکہ بعض ان مغربی ممالک کا رُخ کریں گے جن کی ثقافتیں ان کے مزاج سے زیادہ مطابقت رکھتی ہوں گی۔

غیر یقینی مستقبل کے شکار تارکین وطن کو شہریت دینے سے سعودی ویژن 2030ء کو تقویت ملے گی۔ نئے تارکین وطن پر بھی سرمایہ کاری کا اطلاق ہو گا

میں حکام کے سامنے یہ سوال رکھ رہا ہوں۔ کیا یہ درست نہیں ہوگا کہ جن لوگوں کو اس طرح کی غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے، ا نھیں مکمل شہریت یا اس کے حقوق دے دیے جائیں؟ اس سے ویژن 2030ء کو بھی تقویت ملے گی کیونکہ نئے تارکین ِوطن پر بھی سرمایہ کاری کا اطلاق ہوگا۔ چہ جائیکہ ترسیل زر کی شکل میں رقوم یہاں سے دوسرے ممالک میں منتقل کردی جائیں۔

ہم اس توانا ٹیلنٹ اور دولت کو اپنی سرزمین میں کیوں نہیں جذب کرتے اور اس کو غیرملکی سرزمین کی جانب جاتے ہوئے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اگر ہم اپنے معاشرے میں تنوع میں اضافہ کرتے ہیں اور اس کو مختلف ثقافتوں سے مزیّن کرتے ہیں تو اس سے سعودی قوم اور ملک ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ہمیں اس ملک کے ورثے کو صرف اسی کے خون کے ذریعے محفوظ بنانے کی ذہنیت کو اب تبدیل کرنا ہو گا۔

خاندانوں میں بالعموم اول خویش بعد درویش کی سوچ زوا ل کا آغاز ہوا کرتی ہے اور قوموں میں بھی اگر اس سوچ کو اپنا لیا جائے تو پھر ترقی اور افزودگی کا عمل رُک جاتا ہے اور قوم کی بند گلی کی جانب جانے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق اے المعینا ،ایک سعودی لکھاری ہیں۔ ان کا یہ کالم پہلے اخبار سعودی گزٹ میں شائع ہوا تھا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے