سوفٹ بنک کے سربراہ ماسیوشی سن دنیا کے امیر ترین شخص ہی نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیڈر بھی ہیں۔ ان کا بنک جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے لیے عالمی فنڈز کا انتظام کرتا ہے۔

انھوں نے چند روز قبل سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ’’مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس‘‘ میں شرکت کی اور ایک پینل میں گفتگو کے دوران ہمارے ملک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے نیوم منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زرخیز سرزمین، شاندار ساحلِ سمندر اور خوب صورت پہاڑوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک خوب صورت تحفہ ہے اور وہ سورج ہے‘‘۔

جب ان سے نیوم منصوبے کی کامیابی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: ’’جی ہاں ہم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا لیں گے۔ وہ ایک تیز فہم نوجوان ہیں۔ وہ مستقبل کا ایک خوش نما ویژن رکھتے ہیں۔ ہم فنڈز اور سرمایہ کاری کے بھاری حجم سے کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔

ان کے ان کلمات کے جواب میں ولی عہد نے کہا: ’’میں دو کروڑ شہریوں میں سے ایک ہوں۔ ان کے بغیر میری کچھ حیثیت نہیں ہے۔ انھوں نے مجھے تحریک دی اور مجھے آگے کیا ہے۔ سعودی عرب کی 70 فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر نوجوان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام کریں تو وہ ایک مختلف ملک کی تخلیق کر سکتے ہیں اور ہم دنیا میں ایک مضبوط ترین ملک بن جائیں گے۔ اگر وہ غلط راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم ناکام ہو جائیں گے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ نوجوان پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ ذہانت کے حامل ہیں اور وہ اپنے ملک سعودی عرب کے لیے ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ ہم دنیا کے مستقبل میں سعودی عرب کے لیے ایک محفوظ مقام حاصل کرنے کے خواہاں ہیں‘‘۔

ماسیوشی سن جس جوش وجذبے کا اظہار کر رہے تھے، وہ ان سب حاضرین کی آنکھوں میں بھی نظر آ رہا تھا، جب وہ نیوم اور اس کی کامیابی کے بارے میں انھیں گفتگو کرتے ہوئے سن رہے تھے اور یہ سب نوجوان قیادت کے جوش وجذبے اور لگن کا مرہونِ منت ہے۔ اب ایک بار پھر ہم شہزادہ محمد بن سلمان کی نیوم اور اس کو شروع کرنے کے بارے میں منطق سے متعلق الفاظ کو نقل کرتے ہیں:

’’آج ہمارے پاس شاندار مواقع موجود ہیں۔ سعودی عرب سے باہر بھی ایک مانگ موجود ہے اور اس کی مالیت ایک سو ارب ڈالرز ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سو ارب ڈالرز کی غیر معمولی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ ہم تین براعظموں کے سنگم پر واقع ہیں اور فضائی اور بحری ٹرانسپورٹ روٹس کے اہم اور خصوصی محل وقوع کے حامل ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دنیا کی 10 فی صد تجارت بحیرہ احمر کے ذریعے ہوتی ہے۔ ہمارا ایک شاندار فطری ماحول ہے، پہاڑ اور وادیاں، ساحل سمندر اور جزیرے ہیں۔ موسم سرما میں پہاڑ برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ موسم گرما میں درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے اور یہ دوسرے خلیجی شہروں اور دارالحکومتوں سے 10 ڈگری کم ہی ہوتا ہے۔ ہم مضبوط سیاسی عزم اور پختہ عوامی عزم وہمت کے مالک ہیں۔ سعودی عرب میں کامیابی کے تمام عوامل کچھ عظیم تر کام کرنے کے لیے موجود ہیں‘‘۔

’’ان تمام مواقع، عناصر اور قریب قریب تمام سرزمین کے خالی ہوتے ہوئے ہم نے یہ سوچنا شروع کیا تھا کہ ہم ایک شہر کو روایتی انداز میں کیسے بسا سکتے ہیں؟ ہمارے پاس ایک ایسی نئی نسل کو بنانے کا موقع موجود ہے جس کو نئے طرز ِزندگی، شہروں، ٹیکنالوجیز، صحتِ عامہ اور خدمات دستیاب ہوں‘‘۔

’’جو شخص کوئی تمنا نہیں رکھتا، کسی قسم کی آرزو سے محروم ہے تو وہ کوئی منفرد کام نہیں کر سکتا اور جو کوئی کنویں کا مینڈک بننے پر ہی اصرار کرتا ہے اور اس سے باہر کی سوچ نہیں رکھتا ہے، وہ روایت پسندی اور کلاسیکیت سے ہی خود کو جڑا رکھے گا۔ وہ روایت پسندی کے مسائل سے راہ فرار اختیار نہیں کرے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ صرف تمنا اور خواہش ہی کامیابی کا عامل نہیں بن سکتی ہے بلکہ سنجیدہ خواب دیکھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو حقیقت اور فرد کی زندگی کو تبدیل کردیتے ہیں۔ تبدیلی کے مقصد کے لیے ہم اپنے آیندہ تیس سال کو انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے نہیں گزار دیں گے یا محدود تر اور چھوٹے چھوٹے معاملات ہی میں الجھ کر نہیں رہ جائیں گے۔ ہماری شناخت اور دین نے کبھی ہمیں اچھا بننے سے نہیں روکا ہے۔ ہم انتہا پسندی اور مایوسیاں پھیلانے والے عناصر (کی منفی سرگرمیوں) کے باوجود بہتر بننے کی کوشش کریں گے۔ اگر آپ مجھ سے ان سماجی برائیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک مایوس شخص اور ایک انتہا پسند، دونوں ہی اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے