سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں 1979ء سے پہلے کے دور کا ذکر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ سعودی معاشرے ایسا نہیں ہے کہ اس کو انتہا پسند کیسے ترقی دیتے ہیں۔اس کے بعد انھوں نے یہ تاریخی کلمات کہے:

’’ ہم اس جانب لوٹ رہے ہیں جہاں ہم پہلے تھے۔یعنی اعتدال پسند اسلام کا ملک ،جس کے تمام ادیان کے پیروکاروں اور دنیا کے لیے دَر وا ہیں۔ہم اپنی زندگیوں کے آیندہ تیس سال تخریبی نظریات سے نمٹنے میں نہیں گزار دیں گے۔ ہم انھیں آج ہی تباہ کردیں گے‘‘۔

سعودی ولی عہد کے یہ کلمات بڑی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ جب سعودی عرب ترقی کے عمل میں آگے بڑھ رہا ہے تو یہ اپنی تاریخ اور ثقافت کی بنیاد پر ہی ایسا کرسکتا ہے اور اس کو اپنے دین اور قومی شناخت سے جڑے رہنا ہے۔جاپان نے میجی کی قیادت میں ، چین نے ڈینگ ژیاؤ پنگ اور سنگاپور نے لی کوان ژیو کی قیادت میں ترقی کی اور ان کے لوگ ترقی کی دوڑ میں اس وجہ سے بھی آگے بڑھے کہ انھوں نے اپنے شاندار ماضی پر اپنی کوششوں کی بنیاد رکھی تھی۔اس سے وہ خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوئے اور ان کا ماضی ان کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ وہ خود سے پہلے دوسرے کامیاب ممالک کی ترقی سے بھی متاثر ہوئے اور اس سے ایک طرح سے انھیں ترقی کے عمل میں جلا ملی۔

1979ء سے قبل کا سعودی عرب 2017ء سے بعد کے سعودی عرب کی بنیاد اور ستون ہوسکتا ہے۔تاہم بہت سے غیرملکی سعودی مملکت کے اس روشن تاریخی دور اور سماجی مرحلے سے بے خبر ہیں۔1979ء میں ایران میں خمینی کا انقلاب برپا ہوا تو پھر پورے خطے ہی میں انتہا پسندی ایک وبا کی طرح پھیل گئی تھی۔

1979ء سے قبل تعلیمی نصاب میں کھلے پن ، پُرامن بقائے باہمی اور آزادانہ سوچ پر زوردیا گیا تھا۔پھر بیداری (صحوہ) کی تحریکوں کے مبلغین اور اخوان المسلمون اس حکمت عملی پر حملہ آور ہوگئے۔ انھوں نے اس روشن خیال تعلیمی روح کو تباہ کردیا اور اس کی جگہ ایک ایسے کلچر کو آگے لے آئے جو منافرت اور موت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

میری نسل کے لوگ ۔۔۔ 1970ء کے عشرے کے آخر میں پیدا ہونے والے ۔۔۔اس مرحلے سے گزرے ہیں جب اصل سعودی ثقافت کا درانداز انتہا پسند نظریے سے مقابلہ جاری تھا۔ ہمارے والدین کا کردار اور عمل خالصتاً فطری تھا۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ انھوں نے کبھی نفرت کی تبلیغ کی ہو یا مختلف مذاہب ، فرقوں یا ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا دشمن یا مخالف قرار دیا ہو۔چنانچہ تب فطری طور پر ہماری روح خوش امیدی پر مبنی تھی۔تاہم اسکول میں ہمارا ایک ایسے نظریے سے مقابلہ ہوا تھا جس کا مقصد نفرت پھیلانے والے ایسے لوگ پیدا کرنا تھا جو نصاب ، اساتذہ اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے دوسروں کی مخالفت کریں۔

ہمارے والدین واجداد سعودی عرب کی اس حقیقی پرہیز گاری پر مبنی روح پر عمل پیرا تھے اور یہ سیاست یا اخلاقی برائیوں سے آلودہ نہیں تھی۔یہی وجہ ہےکہ ان پرانی نسلوں کے دروازے دنیا کے لیے کھلے تھے۔ان کے لیے مختلف ثقافتوں میں گھل مل جانا بہت آسان تھا۔ہم نے 1960ء اور 1970ء کے عشروں میں بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے سعودی طالب علموں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتے دیکھا تھا۔یہ طلبہ انتہا پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ہتھے نہیں چڑھے تھے جیسا کہ بعد کی نسلوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا اور سعودی دہشت گردوں نے القاعدہ اور داعش ایسی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔پھر انھوں نے اپنے ہی ملک کے اندر دہشت گردی کے حملے کیے تھے اور اپنے ہی لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

1979ء سے پہلے سعودی عرب کا کلچر معتدل مذہبی تھا ۔یہ زندگی اور مستقبل کے لیے کھلا تھا۔اس نے ان انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کردیا تھاجنھوں نے معاشرے میں دراندازی اور پھلنے پھولنے کی کوشش کی تھی۔پھر رواداری اور برداشت کا یہ کلچر معدوم ہوگیا اور منافرت کا کلچر پھیل گیا۔خوشیوں اور خوش امیدی کے بعد مایوسی ، ناامیدی اور غیر مطلوب موت نے اپنا راستہ نکال لیا تھا۔

اس مرحلے میں سعودی خواتین نے اپنے بہترین تشخص کی عکاسی کی تھی۔انھوں نے ایک مضبوط اور پُراعتماد کردار کو اجاگر کیا تھا۔پھر کیا ہوا؟ وہ محاصرے کے شکار ہو گئیں،ان معنوں میں کہ وہ کیا لباس پہنیں گی اور انھیں کیا طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔پھر ان کا درجہ گھٹا دیا گیا اور ان کی معاشرے میں موجودگی ختم ہو کررہ گئی حالانکہ انھیں اس کی ضرورت تھی۔ اس بات کا تخلیقی فنون پر بھی اطلاق کیا جاسکتا ہے۔وہ پہلے بہت فعال اور خوش حال تھے۔پھر ان کا گلا گھونٹ دیا گیا۔یہ اور بات ہے کہ اس گھٹن کے باوجود سعودی عرب نے طلال مدح اور محمد عبدہ ایسے بڑے فن کار پیدا کیے۔آپ انھیں یہاں سرکاری ٹیلی ویژن چینلز پر نہیں دیکھ سکتے اور ان کے کنسرٹس دیکھنے کے لیے آپ کو سعودی عرب سے باہر جانا پڑتا ہے۔

سعودی عرب 2017ء میں

سعودی عرب کی معاشرتی زندگی کے اس خوش کن مرحلے کے بہت سے عوامل ممتاز اور ممیّز تھے لیکن انھیں ختم کردیا گیا اور ان کی جگہ اجنبی اور درانداز پہلوؤں نے لے لی مگر وہ اس وقت کے نوجوان معاشرے کی روح کے مظہر نہیں تھے۔ انتہا پسندوں نے معاشرے کو نہ صرف یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ پرانا طرز زندگی ناخالص ہے بلکہ انھوں نے سعودی عرب سے باہر بھی اس تاریک تصور کو اجاگر کیا اور اس طرح سعودی مملکت اور مہذب دنیا کے درمیان ایک بڑی ثقافتی خلیج حائل کرنے کی کوشش کی جس کو پاٹنا بہت مشکل امر تھا۔

2017ء میں نیا سعودی عرب 1979ء سے قبل کے خوش نما ماضی سے خود کو جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔اس مقصد کے لیے بڑے اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کیے جارہے ہیں۔ان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ، تعلیمی اصلاحات ، انتہا پسندی اور تشدد کی قوتوں کی بیخ کنی ، فنون کی سعودی عرب میں ان کی فطری جگہ پر واپسی ،نیوم اقتصادی زون ، بحیرہ احمر کا سیاحتی منصوبہ اور ایسے ہی دوسرے اقدامات نمایاں ہیں۔

اب زندگی کو اس کی چکا چوند کے ساتھ بحال کیا جارہا ہے ۔سعودی معاشرہ اپنی سماجی اقدار اور مستقبل کے لیے امید اور خوش امیدی کی بحالی کے بعد اپنے بہترین دور سے گزر رہا ہے۔ 1979ء کی روح کو 2017ء میں زندہ کیا جارہا ہے اور اسی سے قوت حاصل کی جارہی ہے۔

اس سے نہ صرف سعودی عرب کے مفادات کو محفوظ بنایا جاسکے گا بلکہ اس سے خطے اور پوری دنیا کے مفادات کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ سعودی عرب ترقی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور وہ ایرانی ، قطری اور اخوان المسلمون کے منصوبے اور دہشت گرد تنطیموں سے محاذ آراء ہوکر آگے کی جانب بڑھ رہا ہے۔یہ سب انتہا پسندی ، پسماندگی اور موت کے استعارے ہیں اور ان ہی کے مبلغ ہیں۔

اس تناظر میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب ورجین کے بانی رچرڈ برینسن ایسے مستقبل کے مؤجد اور تخلیق کار الریاض کے دورے کررہے تھے تو قاسم سلیمانی ایسے لوگ تہران سے نکل کر خطے میں دہشت گرد ملیشیاؤں کو تعینات کررہے تھے اور تشدد اور موت کے کلچر کو پھیلا رہے تھے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے