تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیوم اور سعودی نوجوانوں کا مستقبل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 9 ذوالحجہ 1439هـ - 21 اگست 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 12 صفر 1439هـ - 2 نومبر 2017م KSA 22:41 - GMT 19:41
نیوم اور سعودی نوجوانوں کا مستقبل

حال ہی میں سعودی ولی عہد ، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے نیوم منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ ایک اقتصادی زون ہوگا ،جو سعودی مملکت میں رہنے اور کام کرنے کے حوالے سے محفوظ ترین ، سب سے مؤثر اورمستقبل کے تقاضوں کا حامل ہوگا۔ نیوم کا رقبہ مصر اور اردن کی سرحدوں تک پھیلا ہوگا اور یہ پہلا نجی زون ہوگا جس کا طول وعرض تین ممالک تک پھیلا ہوگا۔

سعودی عرب اس منصوبے پر آیندہ برسوں کے دوران میں 500 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس منصوبے کے لیے ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی مہیا کی جائے گی۔یہ اپنی توانائی کی ضروریات میں خودکفیل ہوگا۔ دنیا کی ستر فی صد آبادی اس زون تک آٹھ گھنٹے میں کہیں اور کسی بھی خطے سے بھی پہنچ سکے گی۔الریاض میں حال ہی میں منعقدہ ’’ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس‘‘ میں سعودی ولی عہد نے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اس کے یہی نمایاں پہلو مقامی اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔

اس سے متعلق خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’’ یہ دنیا کی اہم اقتصادی گذرگاہوں کے نزدیک واقع ہوگا ،ان کے ذریعے ہی دنیا کی دس فی صد تجارت ہوتی ہے۔اپنے تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے یہ زون بہت جلد ایک عالمی کاروباری اور معاشی مرکز کے طور پر ظہور پذیر ہوگا اور یہ براعظم ایشیا ، یورپ اور افریقا کو آپس میں ملائے گا ۔اس طرح یہاں علم ، ٹیکنالوجی ، تحقیق اور تعلیم و تدریس سے وابستہ عالی دماغ رہنے اور کام کرنے کے لیے آئیں گے‘‘۔

مذکورہ فورم میں درست طور پر اس کا نام ’’مستقبل کے لیے ایک ویژن‘‘ تجویز کیا گیا تھا۔متحرک اور فعال ولی عہد نے مستقبل میں سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا عزم کیا تھا اور وہ اب یہی کام کررہے ہیں۔وہ سعودی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کا ویژن یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور مالیات کے عالمی رجحانات کا سعودی نوجوانوں کی مہارتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ امتزاج پیدا کیا جائے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ابتدا میں سعودی معیشت کو متنوع بنانے سے گریزاں تھے۔ اگر چہ زیادہ توجہ اب بھی تیل سے آمدن کے ذرائع پیدا کرنے پر مرکوز رہے گی مگر اس پر مکمل انحصار نہیں کیا جائے گا۔اسی لیے انھوں نے اپنے ویژن میں ان شعبوں کی بھی نشان دہی کی ہے جنھیں سعودی معیشت کے دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔وہ بالکل درست طور پر ہُنر اور مہارتوں کی ترقی اور ذاتی کاروباروں پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

علم اور سرمایہ کاری

مستقبل کے اس منصوبے نیوم سے سعودیوں کے لیے ہزاروں نئی ملازمتوں کے دروازے کھلیں گے۔ولی عہد کا سعودی معیشت کو تیل پر مکمل منحصر معیشت سے علم اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت سے تبدیل کرنے کا ویژن حقیقت کا روپ دھار رہا ہے اور یہ ویژن 2030 کا حصہ ہے۔ یہ سعودی عرب کی افرادی قوت کو علم پر مبنی اور سائنسی لحاظ سے پیداواری گروپ میں تبدیل کردے گا اور یہ تعلیم یافتہ رجال نئی نئی معلومات سے کماحقہ استفادہ کرسکیں گے۔

سعودی عرب کا ایک روایتی سرکاری ملازم ، جو صرف گھڑی دیکھتا اور دفتری کاغذی کام ہی میں پھنسا بلکہ الجھا رہتا ہے اور نت روز ٹیکنالوجی کے برپا ہونے والے انقلاب سے اس کو کوئی لینا دینا نہیں تو ایسے سرکاری ملازم کے لیے اس جدید شہر میں کوئی جگہ نہیں ہو گی کیونکہ اس کو تو میرٹ کی بنیاد پر چلا یا جائے گا اور یہاں خصوصی مہارتوں کے حامل لوگ ہی چل سکیں گے۔

سعودی عرب کو ایسی ہُنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے اپنے تعلیمی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کو اپنا نصابِ تعلیم مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔نئے نصاب میں سائنسی علوم پر زیادہ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے اور ایسے تدریسی طریق ہائے کار کو اختیار کیا جانا چاہیے جن سے سعودی نوجوانوں میں جدت پسند بننے کی تحریک پیدا ہو اور ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سعودی نوجوانوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہوگا ۔ انھیں ڈیسک کے پیچھے بیٹھنے والی ملازمتوں سے جان چھڑانا ہوگی اور دو سرا ہر مہینے کے اختتام پر ان کی نظریں اپنی تن خواہوں ہی پر مرکوز نہ رہیں۔اب یہ وقت آگیا ہے کہ زیادہ اچھائی کی طرف توجہ مرکوز کی جائے تا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کو مزید ایجادات اور پیداوار سے فائدہ پہنچایا جاسکے۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کیسے ترقی دے سکتے ہیں تاکہ وہ پیدواری عمل میں زیادہ سے زیادہ تعمیری کردار ادا کرسکیں کیونکہ مذکورہ جدید شہر میں صرف اور صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہنر مندوں اور جدت پسندوں ہی کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ جو لوگ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو ترقی نہیں دیں گے۔ بہ الفاظ دیگر زمانے کے مطابق نہیں چلیں گے،وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

نیوم میں تمام خدمات اور کام 100 فی صد خود کار طریقے سے ہوں گے تاکہ دنیا میں اس کو سب سے فعال اور مؤثر جگہ بنایا جاسکے۔اس خود کار نظام کا تمام قانونی ، سرکاری اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں اطلاق کیا جائے گا۔نیوم کا منصوبہ پائیداری معیارات کے مطابق ہوگا اور رقوم کی منتقلی و ترسیل اور کلیمز وغیرہ کسی کاغذ پر یا کاغذی کارروائی کے بجائے برقی ذرائع سے ہوں گے۔

سعودی عرب اس وقت بڑی اور  دور رس نتائج کی حامل تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہا ہے اور تبوک کا خطہ مرکزِ توجہ بنا ہوا ہے۔تبوک کے مکین خوش قسمت ہیں کہ یہ بہت بڑا منصوبہ ان کے علاقے میں رو بہ عمل آئے گا۔ماضی میں تین بڑے شہر ملازمتوں کے مواقع کے اعتبار سے مرکز توجہ رہے ہیں۔ ان میں پہلے نمبر پر دارالحکومت الریاض تھا۔اس کے بعد مشرقی صوبے میں واقع الدمام اور پھر ساحلی شہر جدہ تھا۔

چند سال کے بعد دنیا کے عالی دماغ تبوک کے علاقے میں واقع نیوم کا رُخ کریں گے۔ یہ علاقہ ایک مختلف کام کرنے کے خواب دیکھنے والوں کے لیے بھی پُرکشش ثابت ہوگا۔ولی عہد شہزادہ محمد اس منصوبے کو کامیاب کرنے کے لیے سعودی نوجوانوں پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ہمیں یقین اور اعتماد ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوگا۔ان کی تقریر ،ان کی پہلے کی بہت سی تقاریر کی طرح حیرتوں اور اچھی خبروں سے بھرپور تھی اور اس میں آنے والے برسوں کے لیے سعودی معیشت کے نقشہ راہ کا خاکا بیان کیا گیا تھا۔
________________________
محمود احمد روزنامہ سعودی گزٹ کے مقامی اور خلیج امور کے انتظامی مدیر ہیں۔ان سے اس پتے پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:
mahmad@saudigazette.com.sa اور ٹویٹر
@anajeddawi_eng.
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند