ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ محاذ آرائی کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔یمن سے حوثیوں کا سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل ایک خطرناک فوجی پیش رفت ہے اور اس کو ایران کے ساتھ لبنان ، شام اور عراق میں جاری علاقائی تنازعات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔

تنازع کے پُرامن حل کے لیے تمام سفارتی ذرائع ناکام ہوچکے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران شام سے اپنی ملیشیاؤں اور فورسز کو نکالنے سے انکار کر چکا ہے۔قبل ازیں ایرانی عراق سے بھی انخلا سے انکار کرچکے ہیں ،وہاں وہ لڑرہے ہیں اور انھوں نے خود مختار کردستان کے علاقے کی جانب چڑھائی کی قیادت کی تھی۔

ایران نے عراق ، شام ، لبنان اور یمن میں لڑائیوں کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔علاقائی ممالک اور امریکا ایسی حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں جیسی ایران نے ان ممالک میں اختیار کررکھی ہے اور وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ان ممالک کے علاقوں کو کنٹرول کررہا ہے۔امریکیوں کو حزب اللہ کی متشدد سرگرمیوں اور قتل وغارت کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔انھوں نے اپنے ایجنٹ کے ساتھ اس طرح معاملہ طے کرنے کی کوشش کی کہ اس نے پارٹی لیڈروں کو اغوا کر لیا ہے یا انھیں قتل کردیا ہے جبکہ مصر اور خلیجی ممالک نے حزب اللہ کو سیاسی اور اقتصادی طور پر محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

دو منظرنامے

ایران نے اپنے مخالفین کو دو پالیسیوں میں سے ایک اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ایک یہ کہ تنازع کے منبع سے براہ راست محاذ آراء ہوجائیں اور یہ ایرانی رجیم ہے یا پھر وہ علاقائی سطح پر اپنے گماشتے پید اکریں اور ان کے ذریعے گماشتہ جنگوں میں الجھ جائیں۔ پہلے آپشن پر عمل درآمد کا امکان کم ہے۔یعنی ایران کے ساتھ جنگ ۔اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر ایران براہ راست مسلح حملہ کرتا ہے تو پھر اس کا دفاع کیا جائے۔

تاہم موخر الذکر منظر نامہ تہران کی اپنے بحرانوں کے انتظام کی حکمت عملی سے لگا نہیں کھاتا ہے۔اس کا ایک تاریخی ثبوت یہ ہے کہ 1990ء کی دہائی میں جب افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں طالبان کے ایک حملے میں آٹھ ایرانی سفارت کار ہلاک ہو گئے تھے تو اس کے بعد ایران نے وہاں طالبان سے براہ راست جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ اس نے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا اور وہاں مستقل مزاجی سے کام کرتے ہوئے مقامی ملیشیائیں تشکیل دی تھیں۔

عراق جیسے ممالک میں ایران کی واضح بالادستی کے باوجود عراقی فوج اس کی حمایت میں مقامی مسلح طاقتوں یا گروپوں سے محاذ آرا نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اس کو سیاسی لیڈروں کے تنوع اور ایران کے اثر ورسوخ دونوں کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ بات واضح ہے کہ ایران عراقی فورسز اور شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کی ہدایت کاری کا فریضہ انجام دے رہا ہے اور انھوں نے اس کی رہ نمائی میں کرکوک اور دوسرے علاقوں سے کرد البیش المرکہ فورسز کو نکال باہر کر دیا ہے۔

یہ صرف عراق ہی کی جنگ نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی جنگ ہے لیکن اس میں کردوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ انھوں نے آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد پے در پے سیاسی اور فوجی غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ ایرانیوں نے ان غلطیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی دولت سے مالا مال اور تزویراتی لحاظ سے اہمیت کے حامل علاقوں کی جانب کامیابی سے مارچ کیاہے۔

اب خطے کے ممالک کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا کہ وہ اپنی حامی ملیشیاؤں کے ذریعے طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش کریں۔شام اب ایسے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جب نظم ونسق اور برسرزمین صورت حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ایرانی ملیشیائیں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں لوگوں کا بے دریغ قتل عام کررہی ہیں۔
ماضی میں ان میں سے بیشتر علاقوں میں آباد لوگ شامی رجیم کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ان ملیشیاؤں کا مقصد یہ ہے کہ برسر زمین سکیورٹی کی صورت حال کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ شامی رجیم اپنی عمل داری قائم کرنے کے لیے درکار فوجی اور سکیورٹی کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے۔

ایک بڑا منصوبہ

اس صورت حال میں علاقائی ممالک کو یہ احساس ضرور ہوا ہو گا کہ انھیں ایک بڑے ایرانی منصوبے کا سامنا ہے۔ اس کے تحت وہ شام کو خود شام پر کنٹرول کے علاوہ عراق ، لبنان اور دوسرے علاقوں میں سرحدوں پر کنٹرول کے لیے استعمال کررہا ہے۔اس پالیسی کے ردعمل میں ایسے کوئی ذرائع موجود نہیں ہیں کہ جن سے ایران کو شام سے نکالا جاسکے یا ا س کو کم زور کیا جاسکے۔یہ اور بات ہے کہ روس اور شامی رجیم اس ضمن میں کوئی وعدہ بھی کر لیں گے۔اس صورت میں شام ملیشیاؤں کی آماج گاہ ریاست بن کر رہ جائے گا۔

ایرانیوں کے نزدیک گماشتہ پالیسی نفع بخش ہے کیونکہ وہ حزب اللہ پر سرمایہ کاری کو ایک ہراول دستے یا آرمی پر سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔دراصل حزب اللہ ایرانیوں کا سب سے طویل المیعاد اور مہنگا منصوبہ ہے اور اس پرا ن کے 70 کروڑ ڈالرز سالانہ اٹھ جاتے ہیں۔یمن میں ان کے گماشتہ حوثیوں پر کہیں کم خرچہ آتا ہے ۔وہاں ایک حوثی جنگجو کا ہفتے میں صرف دو ڈالرز خرچ آتا ہے۔

ایران کی توسیع پسندی کے ساتھ محاذ آرائیوں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس کا کوئی توڑ یا سد جارحیت نہیں ہے۔ایرانی اور ان کے اتحادی اب زیادہ خطرناک بن چکے ہیں ۔ وہ لبنان میں حریری کیمپ کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔انھوں نے حوثیوں کی میزائل صلاحیتوں میں اضافہ کردیا ہے اور وہ اب سعودی عرب کے قلب میں واقع علاقوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نہیں چاہتا ہے۔اس آپشن کے معدوم ہونے کے بعد پھر ایک ہی حربہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جن ممالک میں صورت حال ابتر ہے،خانہ جنگیاں ہورہی ہیں اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے تو وہاں مقامی ملیشیاؤں کو مضبوط کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے