امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے القاعدہ کی کوئی پانچ لاکھ دستاویزات کے اجراء کے بعد سے ایران اور اس دہشت گرد تنظیم کے درمیان تعلق ایک مرتبہ پھرموضوعِ بحث ہے۔یہ دستاویزات پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں 2011ء میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے کی گئی چھاپا مار کارروائی کے دوران میں امریکیوں کے ہاتھ لگی تھیں۔

ایران نے امریکا پر نائن الیون حملوں کے لیے القاعدہ کی کیسے معاونت کی تھی،اس پر بڑی کھل کر بحث کی جارہی ہے۔امریکی حکام دو عشروں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان 1991ء سے تعلقات استوار تھے اور اس کی تصدیق اس طومار میں موجود 19 صفحات کو محیط ایک رپورٹ سے بھی ہوئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ جو کوئی بھی امریکا پر حملہ کرنا چاہتا ہے،ایران اس کو دامے، درمے ،سخنے مدد دینے کو تیار ہے‘‘۔

امریکی حکومت کے قائم کردہ 9/11 کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ایرانی حکام 1991ء اور 1992ء میں سوڈان میں کیسے القاعدہ کی قیادت سے ملے تھے۔ اس کے بعد ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی ) کی بغل بچہ لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کے ذریعے القاعدہ کے جنگجوؤں کی لبنان میں عسکری تربیت کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ایران کے اندر سپاہ پاسداران انقلاب کے عسکری تربیت کے کیمپوں کو ایرانی حزب ِاختلاف کی قومی کونسل برائے مزاحمت ایران نے بے نقاب کیا تھا۔

امریکی پراسیکیوٹر ز نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر عاید کردہ فرد جرم میں یہ کہا تھا کہ ایران نے القاعدہ کو 1998ء میں تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر ٹرک بم حملوں میں بھی مدد دی تھی۔ان بم دھماکوں میں 12 امریکیوں سمیت 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ایران نے القاعدہ کے ساتھ اتحاد کے وقت کسی مذہبی سرحد کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔ایران اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی اصول کا پابند نہیں رہتا اور وہ ہدف تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی ضروری حربہ اختیار کر سکتا ہے۔ایران کے کردار کا یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کو بہت کم زیرِ غور لایا گیا ہے۔

سیاست میں عملیت پسندی

ایرانی رجیم کے لیے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لیے تمام ذرائع کو کیسے بروئے کار لایا جائے اور اپنے اثرورسوخ کو مشرقِ وسطیٰ بھر میں کیسے پھیلایا جائے۔ اس میں خطے کی اقوام کو طوائف الملوکی کا شکار کرنا اور ’’بزرگ شیطان‘‘ کے تمام اہداف و اثاثوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ایرانی رجیم امریکا کو اسی ’’شیطان بزرگ‘‘ کے نام سے پکارتا ہے۔

القاعدہ کو جب کسی چیز کی ضرورت پیش آتی تھی یا ہے تو ایران مہیا کردیتا تھا اور ہے لیکن جب اس کے مفادات تبدیل ہوجاتے ہیں تو وہ بڑی آسانی سے اپنا راستہ بھی تبدیل کر لیتا ہے۔مذکورہ بالا 19 صفحات کی رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایرانیوں نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد کیسے القاعدہ کے ارکان کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا تھا۔ایران امریکا کی عراق میں فتح کے بعد اس کے لیے القاعدہ کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا تھا ۔چنانچہ اس نے طویل المیعاد منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔

’’انھوں نے ہمارے بھائیوں کو تاش کے پتے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا‘‘۔رپورٹ میں القاعدہ کے ایک لیڈر کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔ایران نے 2015ء میں اس بات کو عملی جامہ پہنایا تھا اور یمن میں القاعدہ کی مقامی شاخ کے ہاتھوں اغوا شدہ اپنے ایک سفارت کار کے بدلے میں اس دہشت گرد گروپ کے متعدد لیڈروں کا تبادلہ کیا تھا۔اس رپورٹ میں القاعدہ کے ایک لیڈر کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:’’میرے تجربے کے مطابق تو ایرانی رجیم سیاست میں عملیت پسندی کی بہترین مثال ہے‘‘۔

ایران نے کیسے فائدہ اٹھایا؟

ایران اور القاعدہ کا دشمن تو ایک تھا یعنی امریکا لیکن اس کے باوجود ان کے تعلقات میں کشیدگی بھی پیدا ہوئی تھی۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو القاعدہ کے ایک رکن کی جانب سے لکھا گیا ایک خط موصول ہوا تھا۔یہ کسی اور نے نہیں بلکہ اسامہ بن لادن کی بیٹی نے لکھا تھا اور اس میں انھوں نے ایران سے اپنے خاندان کے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

2003؁ ء میں ایران نے مبینہ طور پر امریکا کے ساتھ القاعدہ کے متعدد ارکان کی ایرانی حزبِ اختلاف مجاہدینِ خلق تنظیم کے ارکان سے تبادلے کی کوشش کی تھی۔مجاہدین خلق کے ارکان اس وقت عراق میں مقیم تھے ۔تاہم اس کی یہ کوشش رائیگاں چلی گئی تھی ۔

القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلق داری بظاہر حیران کن لگتی ہے کیونکہ داعش ایسے دوسرے انتہا پسند گروپ شیعوں کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ایرانی شیعہ بھی ان کے خلاف سخت مؤقف کے حامل ہیں لیکن نائن الیون کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ’’القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلق یہ ظاہر کرتا ہے کہ سنی ، شیعہ تقسیم ضروری نہیں کہ دہشت گرد ی کی کارروائیوں میں باہمی تعاون میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ بنے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق 9/11 سے قبل ایرانی انٹیلی جنس نے القاعدہ کے جنگجوؤں کو سرحدی گذرگاہوں سے آرپار جانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا اور ان کے پاسپورٹس پر مہریں نہیں لگائی جاتی تھیں۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قائم ایرانی قونصل خانہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو ویزے جاری کرتا رہا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس سے بھی اس بات کا پتا چلتا ہے کہ 9/11 کے ہائی جیکروں میں سے آٹھ ایران کی سرزمین سے گزر کر امریکا تک پہنچے تھے۔اس کے بعد کسی کو ان دعووں میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ حزب اللہ یا ایران 9/11 حملوں کی منصوبہ بندی سے بے خبر تھے۔ماہرین نے یہ بات بھی نوٹ کی تھی کہ ایران نے کیسے اپنے قلیل اور طویل مدت کے مفادات کے لیے ایک کثیر جہت مہم برپا کی تھی۔

ایران نے حالیہ برسوں کے دوران میں عراق اور شام میں شیعوں کے مقدس مقامات اور مزارات کے ’’ تحفظ‘‘ کے نام پر ملیشیاؤں کو تربیت دی ہے۔بشار الاسد اور نوری المالکی کی حکومتوں کو بچانے کے لیے فرقہ پرستی کی بنیاد پر قائم تنظیموں کی آبیاری کی۔رپورٹس سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ایران نے کیسے اپنے پروردہ گروپوں کو ایسی جگہوں یا مقامات پر تعینات کیا تھا جہاں کوئی مزار ہی نہیں تھا کہ جس کا وہ ’’ تحفظ‘‘ کرسکتے۔

ایران کے گماشتہ گروپوں نے عراق اور شام میں سنیوں کا ہولناک قتلِ عام کیا ہے۔ مزید برآں شام میں جاری خانہ جنگی کے اوائل کے برسوں میں ایران کے حمایت یافتہ اسد رجیم نے مختلف علاقے داعش کے قبضے کے لیے خالی کردیے تھے اور ان دونوں نے شامی حزب ِاختلاف کے نمائندہ گروپوں پر مل کر حملے کیے تھے۔

متعدد انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے کیسے عراق میں القاعدہ کے لیڈر ابو مصعب الزرقاوی کو پناہ دیے رکھی تھی۔پاسدارانِ انقلاب ایران نے ابو مصعب الزرقاوی کو وسائل مہیا کیے اور ان کوتحفظ دیا تھا۔عراق میں ان کی قیادت میں القاعدہ تنظیم ہی داعش کی پیش رو بنی تھی۔پاسداران انقلاب ایران نے القاعدہ کو ایسے وسائل مہیا کیے تھے جس سے اس نے اپنے ڈھانچے کو ازسرنو استوار کیا اور پھر شام سے نکل کر عراق پر تباہ کن حملے کیے تھے اور اس کے ایک بڑے علاقے پر آناً فاناً قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کے پاس تہران اور الزرقاوی کے درمیان تعلق کے دستاویز ی ثبوت موجود تھے۔اس سے اوباما انتظامیہ کے داعش کے عراق کے متعدد شہروں پر قبضے کے بعد بیانیے کے بارے میں بھی شکوک وشبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔

اوباما انتظامیہ کی چشم پوشی

اسامہ بن لادن 2011ء میں مارے گئے تھے۔اس کے بعد اتنے برسوں تک اوباما انتظامیہ نے القاعدہ کی ان دستاویزات سے کیوں اغماض برتا؟ انٹیلی جنس کے اس اہم ذریعے سے استفادہ کیوں نہیں کیا؟

سی آئی اے کے ترجمان ریان ٹراپانی نے بلومبرگ کو ایک انٹرویو میں بتایا:’’ نئی دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران اور القاعدہ کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات کو ہدف نہ بنانے کا سمجھوتا تھا۔دستاویزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن نے القاعدہ کو رقوم ،رجال کار مہیا کرنے اور ابلاغیات ومواصلات کے لیے ایران کو’’مرکزی منبع‘‘ قرار دیا تھا۔

اوباما انتظامیہ نے بن لادن فائلوں کی منتخبہ دستاویزات جاری کی تھیں اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایران اور القاعدہ کے درمیان سخت مخاصمت پائی جاتی ہے۔اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ کو ایران اور القاعدہ کے درمیان اس ضرررساں تعاون کا پورا پورا علم تھا۔ اوباما انتظامیہ نے ان دونوں کے درمیان تعلقات سے متعلق ان اہم انٹیلی جنس رپورٹس کو ایسے وقت میں حاصل کیا تھا، جب مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں ایران بڑے بھرپور انداز میں مداخلت کررہا تھا۔بالخصوص اس نے عراق میں ایرانی حزب اختلاف مجاہدینِ خلق کے خلاف تباہ کن کریک ڈاؤن کیا تھا اور وہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام حدیں پار گیا تھا۔وکی لیکس کے انکشافات سے بھی ایرا ن کی مجاہدینِ خلق تنظیم کے خلاف سازشوں کا پتا چلتا ہے اور مستقبل میں ایسے ہی مزید انکشافات کی توقع کی جاتی ہے۔

غیر معمولی خطرہ

ایران یقینی طور پر القاعدہ کے ساتھ کسی قسم کی تعلق داری سے انکار کرے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ابتدائی طور پر شام اور عراق میں بھی کسی قسم کے کردار سے انکار کیا تھا۔اس کی اس حالتِ انکار نے یہ ثابت کیا ہے کہ کیسے ایران کے مہلک قدموں نے ان دونوں ملکوں پر دوزخ کے دَر وا کردیے ہیں۔

اوباما کا دور لد چکا۔القاعدہ اور داعش بڑی حد تک اپنے تنظیمی ڈھانچے سے محروم ہوچکی ہیں مگر ایران نے ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ایران اور آئی آر جی سی نے اپنی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سی آئی اے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار کے تاریخی فیصلے کے بعد یہ دستاویزات جاری کی ہیں ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے راہ و رسم بڑھانے کی امریکا کی برسوں پرانی حکمت عملی سے بھی دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔اس کا اندازہ آئی آر جی سی کو بلیک لسٹ قرار دینے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ ایک بہت ناگزیر اقدام تھا اور اس پر کسی قسم کی حیل وحجت یا سقم کے بغیر اس کی روح کے عین مطابق عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

یورپی یونین اور امریکا کو اپنے درمیان موجود اختلافات کے باوجود ایران کو عراق اور شام سے نکال باہر کرنے کے لیے مشترکہ کوشش کرنی چاہیے اور یہ کوشش ان پر ایک طویل عرصے سے واجب ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے