یمن کا بڑا بنیادی ڈھانچہ حالیہ جنگ تباہ ہو گیا ہے اورلوگ انتہائی قابل رحم حالت میں زندگی کی بنیادی ضروریات کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں ۔ پریشان حال عوام مدد اور حمایت کے لئے عالمی برادری خاص طورپر مسلم دنیا کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ آج میں اس موضوع پر مسلم دنیا کی بشمول اپنی حکومت کی توجہ مبذول کرا رہا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور وہ اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی مدد کریں۔

یمنیوں کی پریشانیوں کا آغاز اس وقت ہوا جب 2015 میں جنگ چھڑ گئی یہ وہ وقت تھا جب باغیوں نے ملک کی حکومت پر زبردست دبائو ڈالا تھا۔ اس کے نتیجے میں دو قوتیں ابھر کر سامنے آئیں ایک وہ جن کی وفاداری صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ساتھ تھی اور دوسری وہ جو حوثی باغیوں کی تحریک کے ساتھ تھی۔وہ بحران جو ابتدا میں ملکی تھا جلدہی عالمی اہمیت اختیار کرگیا جب داعش او ر القاعدہ بھی یمن کے کچھ علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے ارادے سے اس میں کود پڑے۔ مہلک ہتھیاروں سے لڑی جانے والی اس جنگ میں زبردست نقصان ہوا۔

یمن غریب ترین عرب ملک ہے جس کی آبادی 26 ملین ہے۔ جس میں سے 21 ملین افراد اس المناک جنگ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد افراد کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ ملک کو بد ترین قسم کی فوڈ سیکورٹی کے بحران کا سامنا ہے جہاں 17 ملین یمنی باشندوں کو خوراک کی اشد ضرورت ہے اور 7 ملین افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اسی طرح ہیضے کا مرض پھوٹ پڑنے سے صحت کی صورتحال بدترین ہو گئی ہے اور دو لاکھ افراد اس میں مبتلا ہیں۔ مزید یہ کہ تین ہزار 652 مقامات پر جہاں ویکسی نیشن کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی وہ 2016 کے اوائل سے بند ہیں۔ جس کے نتیجے میں 62 لاکھ بچے جن کی عمریں 15 برس سے کم ہیں ملیریا کے خطرے سے دوچار ہیں۔ المناک جنگ سے ڈرامائی طورپر زندگیوں کے متاثر ہونے کے علاوہ معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو بنیادی طورپر پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ جنگ سے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور اندرون ملک 25 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور ان کے گھر اورذاتی اشیاء راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 2016 میں یمن میں جنگ کے بحران کے نتیجے میں معیشت کا بہت بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے اور اندازہ ہے کہ ملک کو 7.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بہت سے شہروں میں مکانات، اسپتال، اسکول، مارکیٹیں اور یہاں تک کہ تجارت اور سینٹری کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے۔ اسپتال اور اسکول جو یا تو جزوی تباہ ہوئے تھے یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے انہیں اب پناہ گزینوں کے لئے پناہ گاہوں کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے اور یا پھر ان پر لڑنے والے باغیوں اور مسلح گروپوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

اطلاعات سے ظاہر ہو تا ہے کہ مجموعی طورپر 63 طبی مراکز پر حملہ کیا گیا جن میں سے تین کو مسلح گروپس استعمال کر رہے تھے۔ مزید 51 حملے ایسے تھے جن کے بارے میں تصدیق ہوئی کہ ان میں تعلیمی اداروں بشمول اسکولوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 1600اسکولوں میں سے جو بمباری کی زد میں آئے 280 مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 500 کو جنگ کے متاثرین خاص طور پر پناہ گزینوں کے لئے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ باغیوں نے 33 اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اور انہیں رکاوٹوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ بمباری اور جنگ کے بعد اسکولوں کو پہنچانے والے نقصان کا اندازہ 250 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ کے بعد میں معیشت جیسے ملک یمن کی معیشت کا معمول کی معیشت کے ملک سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ تباہ کن جنگ کی صورتحال کے بعد جو پہلی چیز سامنے آتی ہے وہ سماجی اور معاشی ڈھانچے کی ازسر نو تعمیر ہے۔ تاہم وہ ممالک جنہیں جنگ کے بحران کا سامنا ہے یا جن کے اندر پرتشدد تنازع کی لڑائی جاری ہے انہیں معمول کی حالت پر واپس لوٹنے کے لئے زبردست چیلنجز کا سامنا ہے جسے کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی ہمدردی کی بنیادی پر ریلیف جس میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی جیسے خوراک، پانی، پناہ گاہ اور تحفظ شامل ہے ریکوری کا پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد مالی ریلیف شروع ہوتا ہے تاکہ تباہ شدہ معیشت کی تعمیر کا عمل شروع ہو سکے۔ 26مارچ2015 کو وہ بحران جو ریاست کا اندرونی معاملہ نظر آتا تھا بڑھ گیا اور بدترین قسم کی جنگ میں تبدیل ہو گیا جس کے نتیجے میں ملک کے زیادہ تر حصوں میں تشدد پھیل گیا۔

شمال میں صعدہ کے شہروں اور جنوب میں عدن اور تعز بدترین جنگ کی وجہ سے ملبے میں تبدیل ہو گئے۔ صرف چار شہروں میں انرجی کی تنصیبات کی ازسرنو تعمیر کا اندازہ 139 ملین ڈالر لگایا گیا تھا کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ یمن کو اپنے پورے بنیادی ڈھانچے کو از سرنو تعمیر کرنے کے لئے اور بحالی کے عمل کو شروع کرنے اور مکمل کرنے میں کتنے اخراجات اٹھانے پڑیں گے۔ ایک ایسا ملک جو اندرون اور بیرونی جھگڑوں اور پاور کے بحران سے اس قدر سخت متاثر ہوا ہو کس طرح اپنے اتحادیوں کی حمایت کے بغیر بحالی اور تعمیر نو کے عمل سے گزر سکتا ہے۔

اس لئے یمن میں سنگین انسانی بحران کو حل کرنے کیلئے ان ممالک کی جانب سے جن پر یمن کےعوام بھروسہ کرتے ہیں ۔عالمی امداد تیز ترین اور طویل المدتی حل کیلئے بہت ضروری ہے۔ ملک کو جس نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی درجہ بندی کرنے کے لئے ایک منظم کلیئرنس اور بحالی کے لئے عمل کو شروع کرنا ہو گا جو مخصوص علاقوں کو ایک کے بعد ایک منتخب کرکے کیا جائے گا۔ تعمیر نو اور بحالی کے عمل میں بہت زیادہ وقت اور مہارت درکار ہو گی جس کے ذریعے پورے ملک کا احاطہ کیا جا سکے۔ اس لئے ایک منظم حل کی ضرورت ہے جس میں اچھی طرح سوچ سمجھ کر ایک کے بعد ایک علاقہ ترجیحی بنیادیوں پر منتخب کرکے کام کرنا ہو گا۔

یہاں جنگ کے نتیجے میں یمن کے باشندوں کے دل میں مغربی طاقتوں سے متعلق اعتماد کے بحران میں مسائل پیدا کئے ہیں لہٰذا تعمیرات اور بحالی کا عمل مغربی کمپنیوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یمن کے باشندے اس کو اب بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم اگر از نو تعمیر پاکستان کی جانب سے کی جاتی ہے تو مسلمان ملک ہونے کی وجہ سے اس مدد کی ممکنہ طورپر مخالفت نہیں کی جائے گی۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کی مہارت میں پاک فوج بے مثال ہے۔ سوات اور فاٹا میں پاک فوج کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی از سرنو تعمیر اور بھرپور بحالی کا عمل مثالی تھا۔

شمالی یمن کا زمینی علاقہ بہت حد تک فاٹا سے ملتا جلتا ہےاور میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان آرمی یمن میں نہایت موثر انداز بحالی کے آپریشنز کرنے کے لئے بہترین ہے۔ میں مزید یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ سعودی فیصلہ ساز یمن میں تعمیر نو کے عمل کے لئے پاکستان کو مدعو کرنے پر غور کریں تاکہ پاکستان کی مؤثر لاجسٹک سپورٹ کے ذریعے بطور پڑوسی سعودی حکام یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرسکیں۔ اسی دوران میں اپنی دفاعی ٹیم کو بھی یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ یمن کی مدد کرنے کے اس موقع کو جانے نہ دیا جائے۔ جس میں نہ صرف یہ کہ ضرورت مند مسلم قوم کی مدد کا ارادہ شامل ہو بلکہ ایک طویل المدتی اتحادی اور عالمی سیاسی ڈائنامکس میں دوست بنانا بھی شامل ہو۔

یمن میں بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر ایف ڈبلیو، این ایل سی اورممتاز پاکستانی نجی بلڈز کے ذریعے کرانے پر غور کیا جائے۔ انجینئرنگ کور کے ریٹائرڈ حکام اورنجی کمپنیوں کی لیبر فورس کی یمن میں مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا عقل مندی کا تقاضہ ہے۔ میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ اور ابتدائی سروے کا کام اور ریسرچ، تعمیرات اوربحالی کا کام اسی پیچیدگی سے بچنے کے لئے او آئی سی کی نگرانی میں کرایا جائے۔ اس طرح سے پاکستان اپنی مہارت، صلاحیت، انسانی محبت اور یمنی بہن بھائیوں کیلئے احترام کا مظاہرہ کر سکتا ہے جس کی یقیناً عالمی برادری بھی تعریف کرے گی۔ جس وجہ سے میں مسلم اقوام پر زور د ے رہا ہوں وہ مشترکہ طور پر یمن کی مدد کریں اور یہ ہے کہ میں نے عراق کی تباہی کا مطالعہ کیا ہے جہاں بڑھتی ہوئی اموات اور بے بسی کی وجہ سے عوام خطرات کا شکار ہو کر داعش کے رحم و کرم پر چلے گئے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر پاکستان ، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک مل کر یمن میں بحالی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرے تو اسے عراق کے انجام سے بچایا جا سکتا ہے اور یمنی خاندان اپنے گھروں اور زندگیوں میں لوٹ سکتے ہیں۔

مزید براں پاکستان کو چاہئے کہ وہ وزارت امور خارجہ اور وزارت دفاع کے ذریعے یمن میں جس قدر جلد ممکن ہو بحالی کے منصوبے مکمل کرنے کیلئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کرے۔ اس سے مسلم دنیا کوایک مثبت پیغام جائے گا اور مجھے امید ہے کہ اس سے مثبت جوابی رد عمل بھی پیدا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ اس تجویز کو مثبت طور پر دیکھا جائے گا اور یہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے قابل قبول ہو گی۔ جنگ سے پریشان حال یمنی فوری مدد کیلئے مسلم امہ کی جانب دیکھ رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ مسلم ریاستیں اس کو ترجیح کے طور پر دیکھیں گے اور یمن کی تعمیر نو کیلئے تیزی سے کام کریں گی۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں حصہ لینے کے لئے پہلا قدم اٹھائے گی۔ [بشکریہ روزنامہ جنگ]
--------------------------
فاضل مضمون نگار پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، ممبر سینٹ آف پاکستان اور سابق وفاقی وزیر داخلہ ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے