سعودی عرب میں عوام نے حال ہی میں شہزادوں ، کاروباری شخصیات اور سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں اور ان کے اثاثے منجمد کیے جانے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔

حال ہی میں تشکیل شدہ انسداد بدعنوانی کمیشن نے فوری اور فیصلہ کن اقدام کیا ہے اور اپنے اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ زیادہ بد عنوان لوگوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا او ر اپنے دائرہ کار کو وسیع کرے گا۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کرپشن عرب بہار کے پیچھے ایک اہم محرک تھی اور ہمیں اس سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔شاید اس کی سب سے بڑی مثال جدہ میں 2009ء میں طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب تھا جس کےنتیجے میں 130 افراد مارے گئے تھے۔

اس واقعے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ رشوت نے اس تمام معاملے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور شہری حکام نے رشوت لے کر شہر کے ان علاقوں میں بھی مکانات بنانے کی اجازت دے دی تھی جو رہائش کے لیے مختص ہی نہیں تھے۔اس وقت شائع شدہ ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں نے سرکاری محکموں میں رشوت ستانی اور بدعنوانی کی دوسری کارفرمائیوں کو بے نقاب کر دیا تھا اور یہ سب کچھ کوئی واضح پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔

ایک اور بڑی مثال ایک بڑے خیراتی ادارے میں ہونے والی بدعنوانیوں کی تھی۔اس ادارے کو کروڑوں ریال فنڈز کے طور پر دیے جاتے تھے لیکن اس کے ڈائریکٹروں نے اول خویش بعد درویش کے مصداق خیراتی ادارے کی رقوم کا رُخ اپنے اور اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے کی طرف پھیر دیا تھا۔

حاجت مندوں میں کچھ تقسیم کرنے کے بجائے اس خیراتی ادارے کے کرتا دھرتا اپنے سفروں کی جھوٹی کہانیاں بیان کرکے خود رقوم وصول کر رہے تھے۔ وہ اپنے سفری ایام کی تفصیل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے یا پروازوں میں سفر کا خرچہ بڑھا دیتے تھے۔چونکہ حساب کتاب اور احتساب نام کی کوئی چیز نہیں تھی،اس لیے وہ صاف بچ نکلے۔

ادارہ برائے انسداد بد عنوانی

مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے فرمان کے تحت بدعنوانی کے انسداد کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا۔اس ضمن میں شاہ عبداللہ نے مارچ 2011ء میں ایک شاہی فرمان جاری کیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد تمام مالی اور انتظامی بدعنوانیوں سے نمٹنا اور بدعنوان عناصر کے بارے میں رپورٹ کرنا تھا اور مملکت میں شفافیت کے اصولوں کو فروغ دینا تھا۔

اس وقت قومی اتھارٹی برائے انسداد بدعنوانی کے چیئرمین نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سرکاری اداروں میں بد انتظامی اور دوسری غلط کاریوں پر قابو پانے کے لیے کسی سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی استثنا حاصل نہیں ہوگا۔

ادارے کے سربراہ محمد بن عبداللہ الشریف نے کہا تھا کہ ’’ ہم جہاں کہیں کرپشن ہوگی ،اس کو ہدف بنانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔چھوٹی اور بڑی مچھلیاں کسی امتیاز کے بغیر ہمارے کریک ڈاؤن کی زد میں آئیں گی اور شاہ عبداللہ کی ہدایات کی روشنی میں کسی کو بھی احتساب کے اس عمل سے باہر نہیں کیا جائے گا‘‘۔ لیکن بد قسمتی سے اس ادارے نے کسی غلط کاری کو گذشتہ برسوں کے دوران میں بے نقاب نہیں کیا تھا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک حالیہ فرمان کے تحت نو تشکیل شدہ کمیشن نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں فوری اقدام کیا ہے اور اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کرپشن ، منی لانڈرنگ اور رشوت خوری میں ملوث مشتبہ افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے اور بہت سوں دوسروں کو بھی ملک سے باہر نہ جانے کے نوٹس جاری کردیے گئے تھے۔

عوام کا کردار

ایک کاروباری شخصیت حسین کا کہنا ہے کہ عوام کو بھی متعلقہ حکام کو بدعنوانیوں سے خبردار کرنے کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

’’اس ضمن میں ہر کسی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ خواہ کوئی سرکاری افسر ہے ، کاروباری ، عام شہری یا صحافی ہے یا کوئی عالم ہے،ان سب کو بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اسکول کے نصاب میں سرکاری فنڈز کے تحفظ اور ان کے دیانت داری سے استعمال سے متعلق اسباق شامل کیے جانے چاہییں‘‘۔ ان کا کہنا تھا۔

مونا نامی ایک وکیل کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ملازمین پر اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی پابندی عاید کردی جائے تو اس طرح ان کے ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کے راستے کو بند کیا جاسکتا ہے۔

ان کی رائے تھی کہ ’’ سرکاری اداروں کو اپنے ہاں شفافیت اور پائیداری پر مبنی انتظامی نظام قائم کرنا ہوگا۔اس سے ان شعبوں کے تعیّن میں مدد ملے گی جہاں کرپشن ہوسکتی ہے۔انھیں تمام ملازمین کو انسداد بدعنوانی کی تربیت دینی چا ہیے اور جو لوگ کرپشن کی نشان دہی کرتے ہیں،ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو اس پیغام کو عام کرنا چاہیے کہ ٹھیکا اسی کو ملے گا جس کی بولی سب سے زیادہ ہوگی نہ کہ رشوت کی بنا پر کوئی ٹھیکا دیا جائے گا‘‘۔

ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم علی نے انسداد بدعنوانی کی مہم شروع کرنے پر شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس مہم سے لوٹی گئی رقوم اور جائیدادیں ان کے جائز وارثوں کو لوٹائی جاسکیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ عوام نے 1980ء کے اوائل کے بعد سے بڑے پیمانے پر ڈکیتی ہوتے دیکھی ہے ۔اب تک بہت ہوچکا۔قصور واروں کو جیلوں میں ڈالا جائے۔انھوں نے عوام کو جو دکھ، درد دیے ہیں،اس کے مقابلے میں ان کو دی جانے والی سزا بہت کم ہوگی ‘‘۔

حکام کا کرپشن کے خاتمے کے لیے موجودہ عزم ایک اچھا نقطۂ آغاز ہے اور عوام اس کی تائید کررہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طارق اے المعینا ایک سعودی لکھا ری ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے