ان دنوں مملکت سعودی عرب کی تیزی سے تبدیل ہوتی اندرونی صورت حال اہلِ فکر و نظر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔آج کا سعودی عرب کروٹ لے کر نئی بلندیوں کے سفر کی جانب گامزن ہے۔ نت روز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور اعلیٰ سے ادنیٰ درجے تک کے ذمے داروں اور ان کے عہدوں میں رد و بدل کیا جارہا ہے۔ملکی معیشت سے لے کر دفاع تک تما م شعبوں میں بہتری لانے کے لیے دستیا ب تما م وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔عالمی دنیا کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

ان تمام تبدیلیوں کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تعمیری اور انقلابی سوچ کار فرما ہے۔اس وقت سعودی عرب کی آبادی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔اس میں 70فی صد آبادی تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ان سعودی نوجوانوں کی محبت نے شہزادہ محمد بن سلمان کومضبوط اور طاقتور شخصیت بنا دیا ہے اور اس وقت وہ اپنے تعمیری اقدامات کی بدولت سعودی عرب میں ایک مصلح اور لیڈر کے طور پر پہچانے جانے لگے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے دیگر شہزادوں کے بر عکس اپنی ابتدائی تعلیم دارالحکومت الریاض ہی کے ایک ا سکول میں حاصل کی تھی اور شاہ سعود یونیورسٹی سے وکالت میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم سے فراغت کے بعد وہ ''سرکاری مشاورتی کمیٹی'' سے وابستہ ہوگئے۔جہاں انھوں نے بہت سے اصول و قوانین میں تبدیلی لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ان ہی صلاحیتوں کی بنا پر کم عمری ہی میں انھیں وزیر دفاع کا منصب سونپ دیا گیا۔ پھر جلد ہی اپریل 2016ء میں نائب ولی عہد بھی نامزد کر دیے گئےاور عالمی مبصرین انھیں ایک متحرک ،دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور عوام دوست لیڈر کی حیثیت سے جاننے لگے۔

تبدیلی اور اصلاح کے ایجنڈے پر عمل پیرا محمد بن سلمان عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اندرونی و بیرونی خطرات کو بخوبی بھانپتے ہیں۔ وہ اُمتِ مسلمہ کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالنے اور دنیائے اسلام کی قیادت کے لیے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے وزیر دفاع کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد یمن میں منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرنے اور سعودی عرب کی سرحدوں پر درانداز ی کرنے والے سر زمین حرمین کے دشمنوں کے خلاف زبردست فوجی مہم برپا کی اور شر پسند عناصر کی کمین گاہوں کو ختم کر کے ان کے ناپاک عزائم کو بھی خاک میں ملا دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 2015 ء میں ''اسلامی فوجی اتحاد'' قائم کرنے کا اعلان کیااور اس اتحاد کی قیادت پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کے سپرد کی ۔ ان کی خواہش ہے کہ دنیائے اسلام میں کسی بھی جگہ دہشت گرد کا ناسور جنم لے تو یہ اسلامی فوج اس کا قلع قمع کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑے۔اسلامی عسکری اتحاد کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں اب تک 40 ممالک کی فوج شامل ہو چکی ہے۔پاکستان چونکہ ایٹمی اسلحے سے لیس واحد اسلامی ملک ہے اور اس کی فوج کا شمار بھی دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔اس لیے اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے جنرل راحیل شریف کواسلامی فوج کا ڈھانچا تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی گئی اور شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ فیصلہ ان کی بصیرت کا بھی عکاس ہے۔

سعودی ولی عہد نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے اپنے انقلابی'' ویژن 2030ء'' کے نام سے وسیع تر اصلاحات کے ایک پروگرام کا اعلان کیا۔اس کو دوسرے لفظوں میں ''معاشی اصلاحات '' کا ویژن بھی کہاجا سکتا ہے۔اس کا ایک اہم مقصد سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل کی آمدن سے کم کر کے عالمی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنا اور آمدن کے دوسرے ذرائع پیدا کرنا ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے پانچ فیصد حصص کی فروخت اور 500ارب ڈالرز کی لاگت سے ’’ نیوم ‘‘ کے نام سے جد ید ٹیکنالوجی سے آراستہ شہر بسانے کا منصوبہ بھی اس ویژن کا حصہ ہے۔

اس ویژن کا ایک اہم اور قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ کسی طرح سعودی عرب میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں تا کہ سعودی نوجوان ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔ سعودی عرب میں بیشتر افرادی قوت سرکاری محکموں سے وابستہ ہے اسی نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی ولی عہد نے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے مراعات دینے کا بھی اعلان کیا ہے تا کہ وہ نئی صنعتیں لگائیں اور مملکت میں روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

اس ویژن کے تحت 2030 ء تک تمام سرکاری اداروں میں ''ای گورننس '' (برقی نظم ونسق) کے نظام کا نفاذ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔سعودی ولی عہدویژن 2030ء کی تکمیل کے لیے کس حد تک سنجیدہ و کوشاں ہیں ، اس کا اندازہ حال ہی میں کرپشن کے انسداد کے لیے کیے گئے گرینڈ آپریشن سے کیا جا سکتا ہے ۔سعودی حکام نے بدعنوانیوں کے الزامات میں بلا تفریق 208 افراد کو گرفتار کیا ۔ان میں شاہی خاندان کے کئی افراد بھی شامل تھے۔ان میں سے بعض کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیاہے۔سعودی اٹارنی جنرل کے مطابق گذشتہ ادوار میں سو ارب ڈالرز سے زیادہ کی کرپشن اورسرکاری خزانے میں خرد برد کی گئی تھی اور گرفتار افراد سے ان ہی بدعنوانیوں کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

یہ تو سعودی عرب کی اندرونی کہانی تھی ۔شہزادہ محمد بن سلمان عالمی حالات کو بھی بخوبی سمجھتے اور اس کا بہ خوبی ادراک رکھتے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ منتخب ہوئے تھے ۔اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے خیالات میں انتہا درجے کی شدت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد منظم انداز میں سفارت کاری کا آغاز کیا اور ان کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سخت خیالات کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔انھیں سعودی عرب مدعو کر کے اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا جس سے ان کے ذہن میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے میں کافی حد تک مدد ملی ہے۔اس وقت بھی ان کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان جو خلیج ہے، اسے ختم کیا جائے اورانھیں اعتدال پسندانہ انداز میں ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جائے۔

بہر کیف! سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوشش ہے کہ اُمتِ مسلمہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو ایک بار پھر حاصل کرے۔ سعودی عرب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو۔وہ غیروں کے سہارے کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑا ہوکر عالم اسلام کی نمائندگی کرے۔ لیکن کچھ قوتیں انھیں اور کبھی اصلاحات کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہیں۔وہ کبھی اندرون ملک عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتی ہیں اور کبھی بیرونی قوتوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے ناکام پتے کھیلتی ہیں۔یہ خوف زدہ قوتیں سعودی عرب کے خلاف طرح طرح کے جھوٹے پراپیگنڈے کررہی ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے کی گئی حالیہ کوششوں کو متنازعہ بنانے کے لیےہرزہ سرائی بھی ان کے اسی ایجنڈے کا حصہ تھی۔

لیکن ہر ذی شعور اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جو لوگ ان اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں، وہ ولی عہد محمد بن سلمان سے نہیں بلکہ سعودی عرب کی ترقی سے ناخوش ہیں اور وہ مملکت کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ دوسری طرف ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان انتہائی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُمتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور دفاع الحرمین الشریفین کی خاطر بہتر سے بہتر اقدمات کے ذریعے فتنہ پرور قوتوں کو مسکت جواب دینا چاہتے ہیں۔

ایسے عناصر کی تمام تر سازشوں کے باوجود سعودی ولی عہد کی صلاحیتوں ،بلندہمتی اور جواں مردی کو دیکھ کر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ وقت دور نہیں، جب وہ اپنے انقلابی اقدامات کی بدولت سعودی عرب کو پوری اُمتِ مسلمہ کی نہ صرف ترجمانی بلکہ قیادت کے لیے بھی منظم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ ان شاء اللہ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے