تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قبرستان برائے فروخت!!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 11 محرم 1440هـ - 22 ستمبر 2018م
آخری اشاعت: ہفتہ 28 صفر 1439هـ - 18 نومبر 2017م KSA 11:13 - GMT 08:13
قبرستان برائے فروخت!!

کئی مصری ٹی وی چینلز پر ”قبرستان برائے فروخت“کے اشتہار دیکھ کر ہر کس و ناکس کو اچنبھا ہوتا ہے ۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اشتہار میں امیدواروں کو یہ اختیار بھی دیا جاتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو قبرستان کی مطلوبہ رقم نقد ادا کردیں اور چاہیں قسطیں کروا لیں۔ اشتہار اس قدر دلچسپ پیرائے میں دیئے جارہے ہیں کہ مکان سے محروم ہر انسان کے دل میں یہ گدگدی ہونے لگتی ہے کہ اس سے بہتر موقع اور کیا ہو گا، کیوں نہ ایک شاندار گھر کے مالک بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کرلیا جائے۔ انسان کے ذہن میں مذکورہ اشتہار دیکھ کر یہ خواہش بھی پیدا ہونے لگتی ہے کہ اس سے بہتر اسکیم اور کیا ہوگی کہ آپ ایک ایسا مکان حاصل کریں جہاں اپنی زندگی گزاریں اور مرنے کے بعد بھی آپ کی رہائش اسی جگہ ہو جہاں آپ زندگی میں رہا کرتے تھے۔

قبرستان برائے فروخت کے اشتہارات میں جن قبرستانوں کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں وہ متعدد علاقوں کے ان مکانات سے کہیں زیادہ خوبصورت اور شاندار ہوتے ہیں جہاں جیتے جاگتے لوگ اپنی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ پتا نہیں ان اشتہارات کا بنیادی ہدف صرف منافع کمانا ہے یا موت کے کلچر کی مارکیٹنگ کرنا ہے۔ بعض قبرستانوں کی قیمت عوامی محلوں کے مکانات کے آس پاس ہوتی ہے۔ بعض قبرستانوں کی قیمتیں عام گھروں کی قیمتوں سے زیادہ بھی ہوتی ہیں۔

حقیقت حال سے آشنا لوگوں کا کہنا ہے کہ ضمیر فروشوں نے 25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر میں آنے والی بدامنی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مختلف مقامات پر بلا اجازت قبرستان بنا لئے تھے۔ انہوں نے بھاری قیمتوں پر انہیں فروخت کردیا۔ قبرستانوں کی ضرورت کے حوالے سے عوام کا استحصال کیا۔ اب یہ قبرستان اس لئے بھی فروخت کر رہے ہیں تاکہ حکومت مستقبل میں انہیں غیر قانونی قرار دیکر ضبط نہ کرلے۔

آخری بات یہ عرض کرنی ہے کہ مقام ِشکر ہے کہ سعودی وزارت بلدیات ودیہی امور نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس اطلاع کی تردید کردی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی حکومت قبرستانوں پر ٹیکس لگانے جا رہی ہے۔ بشکریہ روزنامہ المدینہ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

قارئین کی پسند