دنیا بھر میں قریباً ستر بلند وبالا دیواریں کھڑی کی گئی ہیں۔ان کا واحد مقصد ایک ہی تھا اور وہ ممالک اور کمیونٹیوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنا تھا۔یہ سب کچھ ’’سکیورٹی‘‘ کے نام پر حفظ ِماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے لیکن ان کا حقیقی مقصد بالعموم اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ان میں سے متعدد اسرائیل نے فلسطین کی غیر قانونی طور پر قبضے میں لی گئی سرزمین پر تعمیر کی ہیں یا وہاں تعمیرکی جارہی ہیں۔

اسرائیل کو اس طرح کی دیواروں کی تعمیرمیں اب مہارت تامہ حاصل ہوچکی ہے اور وہ اس علم وفن کو اب امریکا اور دوسرے ممالک کو برآمد بھی کررہا ہے۔ درحقیقت اسرائیل نے سکیورٹی کے تمام شعبے کو فلسطین پر غیر قانونی فوجی قبضے کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔ان تمام برسوں میں اس نے اجتماعی سزا کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔اس نے لاکھوں لوگوں کو پس دیوار ،خنادق یا فوجی چیک پوائنٹس کے اندر محصور کردیا ہے۔اس نے پوری آبادی ہی کے گردا گرد سکیورٹی مشینری لگا دی ہے ،لاکھوں فلسطینیوں پر جنگیں مسلط کی ہیں اور ان پر نئے نئے اسرائیلی ہتھیار آزمائے ہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسرائیل کے اس وسیع تر سکیورٹی بند وبست سے اسرائیلی عوام کو تحفظ کا کوئی احساس ہوا ہے اور نہ ایسا ہوسکتا ہے۔اسرائیل کی مسلط کردہ جنگوں اور تعمیر کردہ دیواروں سے اجتماعی تنہائی کے احساس ہی کو تقویت ملی ہے اور اسرائیلیوں میں اس مقبول عام جذبے کو تقویت ملی ہے کہ ’’ دنیا ہمارے خلاف‘‘ ہے۔تاہم اس مشق سے بھاری مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں اور اب اس کی دنیا بھر میں کامیابی سے مارکیٹنگ کی جارہی ہے۔

امریکی اپنے ہی عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں اور ان میں موقع پرست سیاست دانوں اور خوف کا شکار میڈیا نے خوف وہراس کی کیفیت کو دو چند کیا ہے۔ اس کے پیش نظر امریکا کی مارکیٹ اسرائیل کی سکیورٹی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک فطری گھر بن چکی ہے۔چنانچہ اسرائیل کے سرکاری اور نجی شعبے کی فرموں نے 11 ستمبر 2001ء کے بعد سے تو اربو ں ڈالرز کھرے کر لیے ہیں۔

میڈیا نے پھر یہ نظریہ بھی فروخت کیا کہ امریکا کی دہشت گردی مخالف نام نہاد جنگ تو دراصل اسرائیل کی اپنی جنگ ہی کی عالمی توسیع ہے ،اس کے بعد تو اسرائیلی مینوفیکچرر اور آگے بڑھے اور انھوں نے امریکی خوف وخدشات کی بنیاد پر دولت اینٹھنا شروع کردی۔بہ الفاظ دیگر اب امریکا میں خوف کی صنعت سب سے منافع بخش کاروبار بن چکی ہے جبکہ معیشت زبوں حال ہے اور تن خواہیں سکڑ رہی ہیں۔

امریکیوں میں پولیس کاری

درحقیقت اسرائیل کے نقش پا امریکا کے سکیورٹی آلات پر زیادہ نمایاں اور ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور اس کے عام امریکیوں کے حقوق پر ضرر رساں اثرات سیاست سے کہیں ماورا مرتب ہورہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کا بل ایس 720 اس ضمن میں چشم کشا ہونا چاہیے۔اس بل کا مسودہ اسرائیلی لابی گروپ امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی نے اپنے 2017ء کے لابی ایجنڈے کے تحت تیار کیا ہے۔اس خطرناک بل کے تحت ایسے کسی بھی شخص یا کمپنی کو سزا دی جا سکے گی جو اسرائیل کا فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کی بنا پر بائیکاٹ کرے گا یا کرےگی۔

اس بل کے خلاف ابھی تک تو خاموش زبان ہی میں احتجاج کیا جارہا ہے۔امریکا کے مرکزی دھارے کے میڈیا نے ابھی تک اس معاملے پر امریکی قانون سازوں کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا ہے جبکہ منتخب نمائندے اس قابل افسوس اقدام کی پہلے ہی توثیق کرچکے ہیں۔

امریکی حکومت میں اسرائیلیوں کی دراندازی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ناقدانہ آوازوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کو مزید حوصلہ ملتا ہے کیونکہ یہ ناقدانہ آوازیں ہی اس مسئلے پرسنجیدہ بحث چھیڑ سکتی ہیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں عام امریکی شہریوں کو تو ویسے ہی اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر تمام بحث سے خارج کردیا گیا ہے۔یہ موضوع ہی غیر متعلقہ ٹھہرا ہے ، ہالی وڈ کے پروپیگنڈے سے آلودہ ہوچکا ہے، مذہبی غلط تصورات اور تاریخ کی عدم تفہیم کے سبب اس موضوع میں عام شہری کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر حالیہ برسوں کے دوران میں زیادہ تر لوگ اسرائیلی اثر ونفوذ سے متاثر نہیں ہوئے تو تب بھی اسرائیل امریکی زندگی کا لازمی داخلی جزو بن چکا ہے۔

ایلس سپری نے انٹر سیپٹ میں لکھا ہے کہ ’’ نائن الیون کے حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے عشروں پر محیط تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو انسداد دہشت گردی میں ایک عالمی لیڈر کے طور پر پیش کیا تھا‘‘۔

اس کامیاب پیش کاری پر اسرائیل کی سکیورٹی فرموں نے اربوں ڈالرز کمائے ہیں۔بھاری رقوم کی یہ وصولی دراصل امریکی معاشرے میں پیدا کردہ دہشت گردی کے خوف کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے جبکہ اسرائیل کو دہشت گردی سے نمٹنے والے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

گذشتہ دو عشروں کے دوران میں امریکا کے سیکڑوں وفاقی ایجنٹوں اور پولیس افسروں نے اسرائیل میں تربیت حاصل کی ہے یا انھوں نے اسرائیل کی جانب سے منعقد کردہ سیمی ناروں اور ورکشاپوں میں شرکت کی ہے۔

امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی، ازالہ حیثیت عرفی لیگ ( اے ڈی ایل) اور جیوش انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی امور جیسے گروپ امریکا کی پولیس فورس کو اسرائیل کی پولیس فورس کے ڈھانچے کی طرح استوار کرنے میں کسی نہ کسی شکل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

اسرائیل نے ایک قابض قوت کی حیثیت سے پولیس اور فوج کے درمیان فرق کی لکیر کو دھندلا دیا ہے۔مقبوضہ فلسطین میں مشرقی یروشیلم ایسے علاقوں میں پولیس اور فوج دونوں ایک ہی طرح اور ایک ہی انداز میں کام کرتی ہیں۔وہ کسی بھی اشتباہ یا اشتعال انگیزی پر فسطینیو ں کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیتی ہیں۔ایسے بیشتر واقعات میں گولی چلانے کا کوئی سبب ہی نہیں ہوتا ہے۔

بروکلین کالج میں سماجیات کے پروفیسر اور مصنف ایلکس ویٹالے وفاقی ایجنٹوں اور پولیس افسروں کے اسرائیل کے آئے دن کے دوروں کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:’’جس بہت زیادہ پولیس کاری کا بہت زیادہ تجربہ کیا جارہا ہے اور ان دوروں کے بارے میں جو گفتگو کی جارہی ہے تو یہ ایک ایسی پولیس کاری ہے جو غیر جمہوری سیاق وسباق میں وقوع پذیر ہورہی ہے‘‘۔

اس غیر جمہوری پولیس کار ی کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مقہور فلسطینیوں سے انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اور اکثر انھیں جان بوجھ کر جان سے ہی مار دیا جاتا ہے۔ امریکی حکومت چہ جائیکہ اسرائیل پر فلسطین پر غیر قانونی فوجی قبضے کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالے، وہ اسرائیلی مہارت کو اپنے ہی شہروں میں آزمانے کے لیے پرتول رہی ہے۔درحقیقت امریکی فوج کی طرح پولیس کی مظہریت سے مقامی پولیس اہلکار عوام کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے افراد کے بجائے ایک ’’قابض فورس ‘‘ ہی نظر آنے لگے ہیں۔

اسرائیل اپنے قبضے کے حربوں کو اب امریکا کو برآمد کررہا ہے۔اسرائیلی فوج کے ٹھیکے دار امریکا بھر میں اپنے ذیلی ادارے کھول رہے ہیں۔وہ اپنی نگرانی کی ٹیکنا لوجیز ، دیواروں ، سرحدوں کی نگرانی کے آلات اور متشدد حربوں کی تشہیر کررہے ہیں ۔

میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار

اسرائیلی کمپنی ایلٹا شمالی امریکا ( اسرائیل کی ائیرسپیس انڈسٹری کا ذیلی ادارہ) واحد غیر ملکی کمپنی تھی جس کو امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر دیوار کی تعمیر کا نمونہ تیار کرنے کا ٹھیکا دیا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں اس دیوار کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا اور اسرائیل پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے ٹرمپ کے فیصلہ کن الفاظ کی تائید کی تھی۔تب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا:’’ صدر ٹرمپ درست ہیں۔میں نے اسرائیل کی جنوبی سرحد کے ساتھ ایک دیوار تعمیر کی ہے۔اس نے غیر قانونی تارکین کی آمد کو روک دیا ہے۔یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور یہ ایک عظیم تجویز ( آئیڈیا)ہے‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حمایت پر میکسیکو اور بہت سی امریکی نیتن یاہو سے نالاں تو ضرور ہوئے تھے لیکن اسرائیلی وزیراعظم کو تو مستقبل میں منفعت بخش سرمایہ کاری کے مواقع نظر آرہے تھے۔ درحقیقت اب امریکا کی بارڈر سکیورٹی اسرائیلی کمپنیوں کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔

ان فراخ دلانہ منفعت بخش ٹھیکوں میں سے ایک وہ تھا جو اوباما انتظامیہ نے اسرائیلی کمپنی ایلبِٹ سسٹم کو دیا تھا۔اس کی مالیت ساڑھے چودہ کروڑ ڈالرز تھی۔اس کمپنی نے ایریزونا /سونورا ،امریکا، میکسیکو بارڈر کے ساتھ ٹاورز تعمیر کیے تھے اور نگرانی کے آلات مہیا کیے تھے۔ایلبِٹ نے مبینہ طور پر طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے 2006ء میں ’’ ڈی ایچ ایس‘‘ تزویراتی بارڈر اقدام کے تحت بھی رقم اینٹھ لی تھی۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے محاصرے کو مضبوط بنانے میں مدد دینے والی اسرائیلی فرم مجال سکیورٹی سسٹم امریکا کی سکیورٹی صنعت میں بھرپور طریقے سے فعال ہے ۔یہ ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو امریکا کو میکسیکو سے الگ تھلگ کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر کررہی ہیں۔

اسرائیل کے غیر قانونی حربے اب امریکا کے لیے ایک نمونہ قرار پائے ہیں اور ان کے ذریعے اب امریکی شہروں میں پولیس نظام نافذکیا جارہا ہے،اس کی سرحدوں کی نگرانی کی جارہی ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے بھی اصول وضوابط وضع کیے جارہے ہیں۔

لیکن یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسرائیلی دیواریں دفاع کے لیے نہیں ہیں بلکہ فلسطینی اور عرب سرزمین کو ہتھیانے اور اس کو ضم کرنے کے لیے ہیں جبکہ اسرائیل ’’خطرات‘‘ کے اپنے قومی فوبیا کو ہر کہیں پھیلا رہا ہے۔

دوسری جانب نائن الیون حملوں کے بعد امریکا کے غیر ذمے دارانہ اور متشدد ردعمل نے امریکی خوف وخدشات کو دنیا میں ہر کہیں پھیلا دیا ہے لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کی تنہائی کی پالیسیوں نے اسرائیل کی امریکی حکومت اور معاشرے میں دراندازی کے لیے حقیقی معنوں میں راہ ہموار کردی ہے۔

اس بات کا ثبوت امریکا کے تمام بڑے شہروں ، مختلف سرحدوں اور نگرانی کے نظام میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس نظام میں ہر امریکی شہری کی نگرانی کی صلاحیت ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے