گذشتہ چند برسوں کے دوران میں بیسیوں درخواستوں کے بعد یو ٹیوب نے بالآخر القاعدہ کے یمنی نژاد انتہا پسند انو ر العولقی کی پچاس ہزار ویڈیوز کو حذف کر دیا ہے۔انور العولقی سنہ 2011ء میں یمن میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔یہ ایک مثبت قدم ہے لیکن اس نے بہت سے اہم سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں اور انھیں نظر انداز کرنا مشکل ہے یا انھیں قالین کے نیچے بھی نہیں چھپایا جاسکتا۔

پہلا سوال یہ ہے کہ ان ویڈیو ز کی تشہیر پر پابندی میں اتنی تاخیر کیوں کر دی گئی ہے؟میرے خیال میں اس فیصلے کی تاخیر میں مالیاتی اور ثقافتی وجوہ کارفرما ہیں۔ فیس بُک ، ٹویٹر اور یوٹیوب ایسی سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے مالکان اوّل و آخر کاروباری ہیں۔وہ نفع و نقصان کی بنیاد پر ہی سوچتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب مالیاتی مفادات کی بات آتی ہیں تو وہ اس معاملے میں بہت کم زور واقع ہوئے ہیں۔انتہا پسندوں کی ویڈیو ز معاشروں کے تحفظ کے لیے بہت خطرناک ہیں۔یوں تو ان کےحق اور مخالفت میں بڑے تندو تیز اور سخت نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں۔بہت سے موقر ٹیلی ویژن چینلوں اور نیوز ویب سائٹس نے ان ویڈیو کو نشر کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ میڈیا پلیٹ فارمز کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی آماج گاہ نہیں بنانے چاہتے تھے۔

دہشت گردوں کا میڈیا پروپیگنڈا اس نظریے پر مبنی ہے کہ ( ابو بکر ) بغدادی اور (ایمن ) الظواہری کی توہین اس وقت تک جائز ہے جب تک ان کی تمام کی تمام تقریریں نشر کی جاتی ہیں اور وہ ہرکسی کے لیے دستیاب ہوں گی اور ان کے ذریعے نو عمر لڑکوں کو پیغا م دیا جاسکے گا۔میڈیا ذرائع پھر ایسی ویڈیو کے مرکزی پیغام کو رپورٹ کرتے ہیں جبکہ وہ اس کے تمام بیمار نظریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

ایک پیشہ ور اور اخلاقیات کا پابند میڈیا یہی کچھ کررہا ہے جبکہ اس کے برعکس سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے ان تمام معیارات کو مکمل طور پر تہس نہس کردیا ہے اور لوگ کو ہر اس چیز کو شائع کرنے کی اجازت دی ہے ، جو وہ شائع کرنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ کھلی جگہ کا آئیڈیا بہت عظیم اور تاریخی ہے اور اس سے انسان کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہوگیا ہے لیکن اس سے خطرناک ویڈیوز کو کسی روک ٹوک کے بغیر شائع کرنے کا حق بھی حاصل ہوگیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد تو دہشت گرد سوشل میڈیا کے اسٹار بن چکے ہیں۔

لاکھوں ناظرین

داعش ، النصرہ ، حزب اللہ اور حرکۃ النجباء کے انتہا پسندوں کی ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتہا پسندوں کی نوجوانوں تک رسائی پر توجہ مرکوز ہے ۔وہ ان کی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے لیے مناسب جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال میں مہارت کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔

تاہم اگر سوشل میڈیا کے ذرائع یہ سب کچھ نہ ہونے دیتے تو پھر کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا؟جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ یہ مالیاتی سبب کی بنا پر ہوتا ہے۔ انور العولقی کی ہزاروں ویڈیوز کے لاکھوں ، کروڑوں ناظرین تھے اور ان ناظرین کو کھو دینا ہی وہ پہلو تھا جس پر ان ویب سائٹس کے انتظامی عہدہ دار نفع ونقصان کی بنیاد پر سوچنے پر مجبور ہوئے۔اس لیے وہ ان ویڈیوز کو ہٹانے میں متردد تھے اور وہ ایسے مطالبات کو تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لے رہے تھے جن کے نتیجے میں انھیں بھاری مالی نقصان ہوسکتا تھا۔ ان کے لیے یہ اعتراف بھی مشکل تھا کہ ناظرین کی تعداد اور بھاری آمدن میں تعلق اس ہچکچاہٹ میں کارفرما ہے۔ چنانچہ انھوں نے ثقافت کا سہارا لیا اور کہا کہ ان کا حقیقی محرک تو ثقافتی ہے اور اس کا تعلق تقریر اور اظہار رائے کی آزادی سے ہے۔یہ ایک اور نکتہ ہے جس پر بحث کی ضرورت ہے۔

وہ انتہا پسندی اور تشدد کو الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں حالانکہ وہ باہم جڑے ہوئے ہیں۔وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ صرف ان ویڈیوز کی ممانعت ہے جن سے قتل اور جسمانی تشدد کی کھلے عام شہ ملتی ہے جبکہ یہ سب کچھ اظہار رائے کی آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ انتہاپسندانہ نظریات وہ ہیں جن سے نفرت پھیلتی اور ذہن آلودہ ہوتے ہیں اور جن سے قتل عام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

تشد د کسی خالی جگہ میں پیدا نہیں ہوتا۔لوگ اچانک ہی اٹھ کھڑے نہیں ہوتے اور دہشت گرد بن کر دوسرے لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیتے ہیں یا ان پر ٹرک چڑھانے شروع کر دیتے ہیں۔

انتہا پسندانہ نظریات وہ ہیں جن سے تشدد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ان نظریات کے پروپیگنڈے کو روکنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تشدد کا مقابلہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک قاتل کو غیر مسلح کرنا ہے۔وہ غیر مسلح تو ہوجائے گا لیکن قتل کرنے کا ارادہ تو اس کے ذہن میں موجودر ہے گا۔

یہ نظریہ ہم پر تو واضح ہے کہ لیکن یہ مغربی حکومتوں پر اس طرح واضح نہیں ہے جہاں معروف انتہا پسند رہ رہے ہیں۔ یہ انتہا پسند الٹا ان مغربیوں پر الزام عاید کرتے ہیں ،جو ان کے انٹرویو کرتے ہیں ۔ انھوں نے انھیں شہریت اور محفوظ پناہ گاہیں دے رکھی ہیں۔ وہ یہ سب کچھ انسانی حقوق اور اظہار رائے کے بینر تلے کرتے ہیں۔

ارفع محرکات ، تباہ کن نتائج

ان کے محرکات ارفع لیکن ان سے انتہا پسندوں کے ان نظریات کی طرح بہت تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ان کی وہ سوشل میڈیا پر آزادانہ تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ اس سے وہ نوجوان زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں جو ایک ایسے کلچر کا حصہ ہیں جہاں نفرت پھیلانے اور عدم رواداری پر کوئی سزا نہیں دی جاتی ہے۔ایسے ماحول میں ان پر اثر انداز ہونا یا ان کی ہمدردی حاصل کرنا یا انھیں بھرتی کرنا بہت آسان ہے ۔ہم ان باتوں سے دہشت گردوں کے خاندانوں کے بیانات سے بھی آگاہ ہوئے ہیں اور وہ اپنے بچوں کی بہت خوف ناک کہا نیاں بیان کرتے ہیں۔

ان سب کی کہانی ایک ہی جیسے انداز میں اور الفاظ سے شروع ہوتی ہے اور وہ یہ کہ’’ ہمارے بیٹے نے آن لائن ویڈیو ز دیکھنا شروع کی تھیں اور وہ مسلمانوں کے قتل عام سے بہت متاثر ہوا تھا‘‘۔ یہ پہلا جذباتی بیان ہوتا ہے اور اس کے بعد کی کہانی تو سب کے لیے جانی پہچانی ہے۔

تشدد اور انتہا پسندی کو اظہار رائے کی آزادی جیسی حساس اخلاقی اقدار سے گڈ مڈ کرنے سے کچھ غیر لچک داری بھی پیدا ہوئی ہے۔ بالخصوص جب مشرقِ وسطیٰ کے شہریوں کی جانب سے ان سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ان کے ان اقدار کے بارے میں ارادوں پر ہی شک کا اظہار شروع کردیا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے باسیوں کے ان حقوق کے احترام کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ دہشت گرد گروپ ان کے بچوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرتے ہیں ، ان کے فوجیوں پر حملے کرتے ہیں اور ان کے ملکی استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایک طویل عرصے کے بعد ان ویڈیو ز پر پابندی ایک مثبت قدم ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے ۔گذشتہ چند برسوں نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انتہا پسندی کی ایک طویل ثقافتی تاریخ ہے اور اس کو ابلاغی مہارتوں سے تقویت ملی ہے۔ اس خلا کو اگر رواداری کے فروغ ، پُرامن بقائے باہمی اور ہمدردی پر مبنی تقریروں سے پُر نہیں کیا جاتا ہے، تو پھر انتہا پسند اس کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بچوں کو ان اقدار کی بالکل ابتدائی سطح سے تعلیم دی جانی چاہیے۔اس طرح ہی ہم منافرت کے کلچر کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ابتدائی تعلیم کے اثرات لوگوں کے ذہنوں میں برسوں تک برقرار رہتے ہیں۔
_____________________
ممدوح المہینی العربیہ نیوز چینل کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ یہ ہے: @malmhuain.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے