سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان دنوں قیاس آرائیوں، مفروضوں اور جعلی خبروں میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کو متعدد عوامل اور بالخصوص لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے استعفے سے بڑھاوا ملا ہے۔

سعد حریری کے بیروت لوٹنے اور اپنے استعفے کو واپس لینے سے پہلے بہت سے لوگوں نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ انھوں نے لبنان کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے کے پیش خیمے کے طور پر وزارت ِعظمیٰ کو چھوڑا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب یہ جنگ اسرائیل کو جادوئی انداز میں ’’آؤٹ سورس‘‘ کر دے گا حالانکہ اس کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہی نہیں اور اسرائیل کو لبنان میں فی الوقت جنگ میں کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ سب کچھ بہت جلد غلط ثابت ہو چکا ہے۔

دوسرے عوامل یہ ہیں: اسرائیل اور سعودی عرب امریکا کے اتحادی ہیں۔ انھیں ایران میں ’’روگ رجیم‘‘ کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور بہت سے پنڈت ایک عرصے سے یہ مفروضہ بھی پیش کر رہے ہیں کہ’’میرے دشمن کا دشمن، میرا دوست ہے‘‘ کے اصول پر سعودی عرب اور اسرائیل فطری اتحادی بن سکتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ ’’کبھی‘‘ معمول کے تعلقات استوار نہیں ہوں گے۔ درحقیقت یہ سعودی مملکت تھی جس نے اپنی علاقائی اور مذہبی اہمیت کے پیش نظر اپنی نوعیت کا اہم امن منصوبہ ’’عرب امن اقدام‘‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔

یہ سنہ 2002ء میں پیش کیا گیا تھا اور اس کے ذریعے اسرائیل کو فلسطینی تنازعے کے حل کے بدلے میں عرب ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کی پیش کش کی گئی تھی۔ مزید برآں سعودی عرب، قطر کی طرح حماس کی شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتا ہے اور وہ ایران، حزب اللہ اور حوثی ملیشیاؤں کی طرح بھی نہیں ہیں جو اسرائیل کی تباہی کے اشتعال انگیز بیان دیتے رہتے ہیں یا اسرائیلیوں کو دھمکاتے رہتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بہت بڑا ’’اگر‘‘ بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی کبھی عرب امن اقدام یا کسی اور منصوبے کے تحت کسی امن معاہدے پر متفق نہیں ہوئے تھے۔

اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار کے آنے کے بعد چیزیں ایک مرتبہ پھر اتھل پتھل کا شکار ہوئی ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حصول کے لیے حتمی معاہدے کے خواہاں ہیں لیکن یہ حقیقت بدستور اپنی جگہ موجود رہے گی کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ متنازعہ امور کو طے کرنا ہوگا اور اس صورت ہی میں وہ عرب ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرسکتا ہے۔

چند ایک اسرائیلی عہدے داروں نے سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں روابط استوار کرنے کی پیش کش کی ہے اور بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ ابلاغ کا سلسلہ پہلے ہی قائم ہو چکا ہے لیکن اس کی الریاض نے کبھی تصدیق کی ہے اور نہ توثیق کی ہے۔

اگر کسی سعودی نے ذاتی حیثیت میں کسی کانفرنس میں گفتگو کی ہے یا اس نے اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے تو اس کا یہ ہرگز بھی مطلب نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات استوار ہو گئے ہیں۔ الریاض نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران میں کسی سعودی عہدے دار نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعض پنڈت اب بھی سچ کے سوا ہر چیز کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔

جہاں تک سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ خواہ یہ ایران ایسی ریاستوں سے یا مسلح ملیشیاؤں اور انتہا پسند گروپوں سے خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے امریکا یا بعض اداروں کے ذریعے معلومات کے تبادلے کے امکان کو مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن اس حوالے سے پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک قیاس آرائی ہے اور اس طرح کی انتہائی حساس معلومات ہمیشہ غیر مصدقہ ہی رہیں گے۔ بہ الفاظ دیگر اگر اس کو درست بھی مان لیا جائے تو کوئی اس کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟ اور اگر یہ بات درست تھی تو پھر اسرائیلیوں نے اس اہم اطلاع کے ایک خفیہ ذریعے کو کیوں بے نقاب کر دیا؟

یقینی طور پر بہت سی ایسی وجوہ ہیں جن کی بنا پر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی حال ہی میں در فنطنی چھوڑی گئی ہے۔ شاید اسرائیلی خود ہی پانی کا ذائقہ چکھنا چاہتے ہیں جبکہ ایران اور قطر اپنے مفاد میں رائے عامہ کو سعودی عرب کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس نے ان دونوں ممالک کے ساتھ ان کی دہشت گردی کی حمایت اور دوسرے ممالک میں مداخلت کی وجہ سے تعقات منقطع کر رکھے ہیں۔

مزید برآں سعودی عرب میں گذشتہ دو سال کے دوران میں اصلاحاتی منصوبے ویژن 2030ء کے تحت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ بعض پنڈت یہ بھی فرض کرسکتے ہیں کہ اس کے تحت سعودی عرب نئے اتحاد وں کی تشکیل اور سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

جہاں تک میں نے سنا اور دیکھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے سعودی عرب کی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ اس سکے کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ سعودی عرب خطے میں امن چاہتا ہے۔ الریاض میں نئی قیادت اور واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے ہوتے ہوئے یہ کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے، اگر اسرائیلی اور فلسطینی باہم تال میل سے کوئی اقدام کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل جے عباس، سعودی اخبار 'عرب نیوز' کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے