ڈاکٹر عبدالمنعم سعید نے اخبار الشرق الاوسط میں شائع شدہ اپنے ہفتے وار کالم میں لکھا ہے کہ مسلم دنیا میں دہشت گردی کے نظریے کی اصل جڑ بنیاد اخوان المسلمون کی زرخیز سرزمین میں پیوست ہے۔

انھوں نے ایبٹ آباد دستاویزات کے مطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں مئی 2011ء میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فورسز نے چھاپا مار کارروائی کے دوران یہ دستاویزات پکڑی تھیں اور انھیں سی آئی اے نے حال ہی میں جاری کیا ہے۔

ڈاکٹر سعید لکھتے ہیں کہ ’’ان پیپرز میں سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ دہشت گردی کے نظریے کی اصل، جو کسی فرد کے نظریات پر حاوی ہوتی ہے، اخوان المسلمون کے نظریے سے ماخوذ ہے‘‘۔

انھوں نے اس تحریر میں اخوان المسلمون کی تاریخ اور مغربی ممالک میں بالخصوص مسلم آوازوں کو اپنے ہاتھ میں لانے کے لیے دوسروں کو گمراہ کرنے کی سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ انھوں نے حاصل کلام یہ لکھا ہے:’’اخوان المسلمون دہشت گرد گروپوں کی پہلی مادر علمی ہے اور پھر ان کا بڑا اور عالمی اسکول ہے۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری اخوان المسلمون کے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے والے کوئی پہلے یا آخری گریجو ایٹ نہیں تھے‘‘۔

اسامہ بن لادن کے اخوان المسلمون سے تعلق کے بارے میں تو کوئی شُبہ نہیں ہے کیونکہ اس کا تو انھوں نے بہ ذات خود بھی برملا اظہار کیا تھا ۔ اس کا ثبوت ایبٹ آباد دستاویزات اور ان کے پوشیدہ اور ظاہری بیانات سے بھی ملتا ہے۔

امریکی مصنف لارنس رائٹ نے اپنی قابل قدر کتاب ’’ لڑکھڑاتا ٹاور‘‘ (دا لومنگ ٹاور) میں القاعدہ کے بارے میں بڑی اہم معلومات فراہم کی ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ بن لادن کی کیسے اخوان المسلمون کے اصولوں پر نشو ونما ہوئی تھی اور ان کے حقیقی تعلقات سلفیوں سے نہیں، بلکہ اخوان المسلمون سے ہی استوار تھے۔

جہاں تک ایمن الظواہری کے اخوان سے مراسم کا تعلق ہے تو وہ بڑے واضح تھے۔ ان کے اخوان اور سید قطب سے تعلقات تھے اور اس پر کوئی کلام نہیں کرسکتا ہے کیونکہ انھوں نے بہ ذات خود اس کا ذکر اپنی کتاب ’’کھٹی فصل‘‘ ( دا بِٹر ہارویسٹ) میں کیا ہے۔

اگر آپ ان شخصیات اور گروپوں اور بعض رونما ہونے والے واقعات کو ملاحظہ کریں، جیسے سید قطب کی 1965 کی تنظیم، ملٹری اکیڈیمی گروپ، انور السادات کا قتل، الجزائر میں مصطفیٰ بویعلی کا گروپ، شام میں مروان حدید، یوسف القرضاوی، سعد الفقیہ، وجدی غنیم، علی باحوج، عبدالحکیم بلحاج اور علی الصالبی کو دیکھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ یہ سب اخوان المسلمون سے جڑے ہوئے تھے۔

اخوان المسلمون کے روایتی حامی ہمیشہ سے ہی ایک موقف کا اعادہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ جس گروپ کے ارکان نے ہتھیار اٹھائے اور دوسرے لوگوں کو گم راہ یا کافر قرار دے کر قتل کیا، وہ اخوان المسلمون کا حصہ نہیں تھے کیونکہ اس جماعت کے دوسرے ارکان تو مبلغ ہیں جج نہیں ہیں‘‘۔ یہ سب فریب اور دھوکے پر مبنی بہانے ہیں۔

مثال کے طور پر محققین اس بات سے بہ خوبی آگاہ ہیں کہ اخوان المسلمون کے دوسرے مرشدِ عام الہضيبی مصر میں قتل کی تمام خفیہ وارداتوں کے خفیہ حامی رہے تھے۔

اخوان المسلمون کسی شخص کو سید قطب، شکری مصطفیٰ اور محمد عبدالسلام فرج کی طرح بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر اخوان المسلمون ماحول اور زرخیز سرمین مہیا نہ کرتی تو یہ شخصیات پیدا ہی نہیں ہوتیں۔

ڈاکٹر سعید نے درست طور پر لکھا ہے:’’ دہشت گردی کی اصل جڑ بنیاد اخوان المسلمون میں پیوست ہے‘‘۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے