سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گیارہ انتہا پسند شخصیتوں اور دو انتہا پسند اسلامی تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا۔

حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کافی تاخیر سے کیا گیا۔ الاخوان المسلمون اس جماعت کے بانی ہیں اور قطر اسکا سرپرست ہے۔ اسی طرح ورلڈ اسلامک کونسل بھی پہلی جماعت کی جڑواں بہن ہے۔

اصولاً دونوں جماعتوں کو کافی پہلے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا جانا چاہئے تھا۔ خصوصاً انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز دنیا بھر میں مسلم معاشروں کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ یہ القاعدہ تنظیم کی پیدائش کے ساتھ ہی معرض وجود میں آ چکی تھی۔ اسکے تمام رہنما خطے اور دنیا بھر میں اعتدال پسند روایتی اسلام کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتے رہے ہیں۔

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز عرب ممالک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے منصوبے کا دوسرا نام ہے۔ انتہا پسند مذہبی جماعتیں اسے کثیر جہتی سرگرمیوں میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ سیاسی جہادی دعوے، اشتعال انگیزی، مسلح جماعتوں کی تشکیل اور قانونی دینی اداروں کے حریف اداروں کا قیام اس کی نمایاں علامتیں ہیں۔

ایسے وقت میں جبکہ القاعدہ کے ارکان دھماکوں اور خونریزی کی پالیسی پر عمل پیرا تھے، ایسے وقت میں جب ابو مصعب الزرقاوی اسلام کے نام پر لوگوں کی گردنیں اتار رہے تھے۔ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز 2004ء کے دوران قطر میں متمکن رہی۔ یہ انتہا پسند اسلام کا منصوبہ تھا۔ اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے مفتیان نے فتوے دیئے۔ تشدد کو جائز قرار دیا۔ روایتی علماء اور مفتیانِ کرام نے بے حیثیت بنانے والی فکری جنگ میں حصہ لیا۔ معروف علماء کی قدر وقیمت کو نقصان پہنچایا گیا۔ انکے فتوﺅں کو احمقانہ قرار دیا گیا۔

ہمارے قارئین کو یاد ہو گا کہ سعودی عرب کے روایتی سلفی علماء نے نویں دہائی میں ہی جہادی کارروائیوں کی حرمت کے فتوے دیئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاست کے فرمانروا سے بغاوت کرکے اس طرح کارروائیاں کرنا جائز نہیں جس پر انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے مفتی خفا ہو گئے تھے۔ انہوں نے خودکش دھماکوں کو نہ صرف یہ کہ جائز قرار دیا تھا بلکہ اسلامی فقہ سے اسکے دلائل بھی پیش کئے تھے۔

الاخوان اور قطر کی نگرانی میں انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز نے اسلامی دنیا کے بڑے شرعی دینی اداروں کو تہہ وبالا کرنے کی مہم چلائی۔ سعودی عرب میں موقر علماء بورڈ اور مصر میں جامعہ الازہر کے دارالافتاء کو بے وقعت بنانے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے اُس زمانے میں انتہا پسندانہ دینی فتویٰ اکیڈمیاں قائم کیں۔ القاعدہ اور داعش نے اپنے اپنے فتویٰ صدر کرنے والے ادارے بنائے۔ ان جماعتوں نے اعلان کیا کہ انکے فتوﺅں کا دائرہ مقامی حدود تک محدود نہیں بلکہ انکے فتوے پوری دنیا کیلئے ہیں۔ بین براعظمی ہیں۔

افغانستان میں جب القاعدہ نے جنم لیا اُسی زمانے میں 1987ء میں لندن میں یورپی افتاء کونسل قائم کی گئی۔ کیا یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ یوسف القرضاوی اسکے صدر بنے اور قرة داغی انکے نائب قرار دیئے گئے؟ یہ دونوں شخصیات ہی آئندہ 20 برسوں کے دوران انتہا پسندانہ افکار کی قیادت کرتی ہوئی پائی گئیں۔

جس طرح القاعدہ نے مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک میں اپنی شاخیں قائم کیں اسی طرح خلیجی ممالک، عراق، لبنان، شمالی افریقہ، فرانس، جرمنی، بیلجیئم، برطانیہ اور آئرلینڈ میں بھی انتہا پسند فقہی اکیڈمیوں اور تنظیموں کی شاخیں قائم کی گئیں۔ ان اکیڈمیوں سے مختلف ممالک کی شخصیات منسلک ہوئیں۔ اس اتحاد نے اکیڈمیوں کے پلیٹ فارم سے انتہا پسند جماعتوں کو مذہبی جواز اور سند مہیا کی۔

اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں کہ دہشت گردی کے باب میں سب سے خطرناک چیز انتہا پسندانہ افکار ہیں تو ہمیں یہ بات بھی اچھی طرح سے سمجھ لینا پڑے گی کہ اگر مذکورہ مذہبی شخصیات نہ ہوتیں تو دنیا بھر میں مسلح جماعتیں نہ پھیلتی۔ اگر مذکورہ فقہ اکیڈمیاں اور دینی ادارے نہ ہوتے تو دنیا بھر میں انتہا پسند علماء کی سرپرستی نہ ہو پاتی۔ اگر ریاست ِ قطر اس قسم کی تنظیموں اور اداروں کی میزبانی نہ کرتا اور خطیر رقمیں فراہم کرکے انہیں فنڈ مہیا نہ کرتا اور ابلاغی وفطری پھیلاﺅ کی سہولتیں نہ دیتا، ضمیر خریدنے کیلئے مطلوب بجٹ نہ پیش کرتا تو ایسی حالت میں ہماری دنیا دہشت گردی سے محفوظ رہتی۔ بشکریہ الشرق الاوسط
--------------
عبدالرحمان الراشد عالمی شہرت یافتہ صحافی ہیں۔ وہ لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الشرق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف اور العربیہ نیوز چینل دبئی کے جنرل مینجر رہ چکے ہیں۔ الشرق الاوسط کے ساتھ اب بھی کالم نگار کی حیثیت سے ان کی وابستگی برقرار ہے اور وہ اس کے لیے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے