بتیس سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ قدامت پسندی کی دبیز تہوں میں دبی سعودی ریاست کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست کا صدیوں پرانا حلیہ تبدیل ہوکر نئے سانچے میں ڈھل سکے گا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سیاسی نظام میں شاید کوئی خاص تبدیلی نہ آئے، لیکن معیشت کے مستحکم ہونے کے ساتھ انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے امکانات ہیں۔ جس کے نتیجے میں سماجی ڈھانچے میں کلیدی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ تبدیلیاں شاہی خاندان کے اندر گہرے ہوتے اختلافات اور زوال پذیر معیشت کا ردعمل ہیں۔

سعودی معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ نہ تو ماضی کی روایات کے سہارے چل سکتا ہے اور نہ ہی اسے کار از رفتہ نظام حکمرانی کے ذریعے زیادہ دیر تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انسان دیگر جانداروں سے اس لیے مختلف ہے کہ وہ مسلسل ارتقائی عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ آج انسانی معاشرے جس مقام پر ہیں، وہ صدیوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔

اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے سعودی عرب کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاسی وسماجی ڈھانچہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ جب کہ شاہی گھرانے میں پیدا ہونے والے خاندانی اختلافات بھی مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ جس کا ادراک نئی نسل سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو ہے، جو ریاست کے انتظامی نظام میں کلیدی نوعیت کی تبدیلیوں کے ذریعے سماجی ڈھانچہ میں پائے جانے والے حبس کو ختم کرنے کے متمنی ہیں، تاکہ اس کے اثرات سیاسی نظام پر مرتب نہ ہوسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی ولی عہد مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی نسل کی سوچ پچھلی نسلوں کی سوچ سے قطعی مختلف ہے۔ ابھرتی ہوئی نئی نسل کی خواہش ہے کہ ملک کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جائے۔

سعودی ریاست 1744ء میں محمد ابن سعود نے معروف عالم دین عبدالوہاب النجدی کے دینی افکار کی بنیاد پر وسطی جزیرہ نما عرب (نجد اور ریاض کے اطراف کے علاقے) میں قائم کی۔ اس زمانے میں حجاز مقدس (مکہ، مدینہ اور طائف) سلطنت عثمانیہ کا حصہ ہوا کرتا تھا، جہاں تعینات گورنر کا ہاشمی ہونا لازمی تصور کیا جاتا تھا۔

آل سعود نے کئی بار حجاز مقدس پر قبضے کی کوششیں کیں۔ ایک دو بار کامیابی بھی ملی، مگر عثمانی ترکوں نے مصر میں تعینات اپنے گورنر کے ذریعے ہر بار یہ علاقہ ان سے واپس لے لیا، لیکن 1924ء میں جب حسین بن علی (شریف مکہ) نے عثمانی ترکوں کے خلاف عرب نیشنل ازم کی بنیاد پر بغاوت کی، تو آل سعود کو حجاز مقدس پر قبضے کا موقع مل گیا۔ یوں طویل جنگ وجدل کے بعد 1930ء میں حجاز مقدس آل سعود کے زیر نگین چلا گیا اور موجودہ سعودی ریاست وجود میں آئی۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ جنگ شروع ہونے کے چند برسوں کے اندر ہی یہ اندازہ ہونے لگا تھا کہ جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس دوران دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ اول، 2 نومبر 1917ء کو برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر بالفور اور برطانوی یہودیوں کے نمائدے لارڈ روتھس چائلڈ (Rothschild) کے درمیان فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا معاہدہ طے پایا۔

یہ معاہدہ ’’اعلان بالفور‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ دوئم، ماہرین ارضیات کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس خطے میں زیر زمین ایک ایسا سیال ایندھن موجود ہے جو انتہائی سستا اور طاقتور ہے، لہٰذا برطانیہ نے اس خطے سے اپنے مفادات حاصل کرنے کا سامان کیا۔

شاہ عبدالعزیز وسیع سعودی ریاست کے 1932ء میں حکمران قرار پائے۔ ان کا دور حکمرانی 21 برسوں پر محیط تھا۔ اس دوران تیل کے کنوؤں کی کھدائی کا کام شروع ہوا۔ حج سے ہونے والی آمدنی اور چھوٹی موٹی تجارت پر گزارا کرنے والی ریاست کے معاشی حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ 1953ء میں ان کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے شاہ سعود حکمران مقرر ہوئے، مگر 1964ء میں خاندانی جرگے کے فیصلہ کے بعد وہ اقتدار سے دستبردار ہو گئے اور شاہ فیصل بادشاہ بن گئے۔ اس دوران سعودی عرب کی معیشت خاصی مستحکم ہوچکی تھی۔

شاہ فیصل نے عالمی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے سعودی عرب کے انتظامی ڈھانچے میں بعض کلیدی نوعیت کی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی۔ جو سخت گیر مذہبی حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا انھیں 1975ء میں بھتیجے کے ہاتھوں قتل کروا دیا گیا۔ ان کی جگہ شاہ خالد نے لی۔ شاہ خالد فطری طور پر سہل پسند تھے، جس کی وجہ سے وہ اصلاحات سے دامن بچاتے تھے۔ یوں ان کا پورا دور اقتدار سیاسی وانتظامی طور پر status quo کا دور تھا۔ وہ 1982ء میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

ان کی جگہ شاہ فہد مسند نشین ہوئے۔ ان کے دور میں بنیاد پرست عناصر مضبوط ہوئے، کیونکہ ان کی حکومت سے قبل ایران میں انقلاب آ چکا تھا اور خلیجی علاقوں میں پشتینی بادشاہتوں کو خطرات لاحق ہونے لگے تھے۔ ایران اور عراق کی جنگ نے انھیں امریکا کے مزید قریب کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے خارجہ پالیسی پر امریکی اثر ونفوذ بڑھ گیا۔ اندرون ملک تنقید سے بچنے کی خاطر انھوں نے دو اقدامات کیے۔ اول ’’خادم الحرمین الشریفین‘‘ کا لقب اختیار کیا۔ دوئم، مذہبی انتہا پسند قوتوں کو ریاستی امور میں زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کرکے ان کا منہ بند کرنے کی کوشش کی۔

شاہ فہد پر 1995ء میں دل کا دورہ پڑا اور وہ امور مملکت چلانے کے قابل نہیں رہے۔ یوں ریاستی نظم ونسق شاہ عبداللہ کے ہاتھوں میں آ گیا، مگر انھیں بادشاہت 2005ء میں شاہ فہد کے انتقال پر ملی۔ شاہ عبداللہ نے اپنے دور حکومت میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا اور بعض اہم ریاستی شعبہ جات پر اعتدال پسند اہلکاروں کی تعیناتی شروع کی۔ خواتین کو ووٹ کا حق دیا۔

شاہ عبداللہ کے دور میں سعودی عرب معاشی بحران کی گرفت میں آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ خطے میں فقہی اختلافات بھی گہرے ہو رہے تھے۔ عرب بہار (Arab Spring) کے اثرات بھی سعودی معاشرے پر پڑ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ملک میں اندرونی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ شاہ عبداللہ کا 2015ء میں انتقال ہوا۔ ان کی جگہ سلمان بادشاہ بنے، جنھیں وہ ان گنت مسائل ورثے میں ملے، جو ان کے پیشروؤں کے دور میںشروع ہوگئے تھے۔

یہ محسوس کیا جانے لگا کہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں دور رس تبدیلیوں اور اصلاحات کے بغیر نہ تو معاشی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا اور نہ ہی خارجہ پالیسی کو درست سمت دی جا سکتی ہے۔ شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات کو نہ صرف جاری رکھا ہے، بلکہ ان کا دائرہ بھی بڑھایا ہے، مگر ساتھ ہی ایران کے ساتھ تقطیب یعنی polarization میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں مسلم دنیا دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔

گذشتہ برس شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کرنے کے ساتھ اہم انتظامی ذمے داریاں بھی تفویض کی ہیں۔ اس طرح ریاستی انتظام مکمل طور پر 32 سالہ ولی عہد کے ہاتھوں میں آ چکا ہے۔ جن کے بارے میں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر انھوں نے جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے عقل ودانش کی بنیاد پر اصلاحات لانے کی کوشش کی، تو اپنے ملک کا مستقبل مستحکم کرنے کے ساتھ خود بھی تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔ بصورت دیگر ذرا سی لغزش انھیں بدترین ناکامی سے دوچار کر سکتی ہے۔

یہ طے ہے کہ کسی بھی ریاست یا معاشرے کو فرسودہ روایات اور انتظامی ڈھانچے کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چلایا جا سکتا۔ جدید دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ نظم حکمرانی، طرز معاشرت اور سوچ کے دھاروں میں مسلسل تبدیلی لائی جائے۔ ماضی پرستی ایک سراب ہے، جو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتی۔ معاشروں کا آگے کی جانب بڑھنا فطری عمل ہے۔ تاخیری حربے سوائے انتشار اور خرابی بسیار کچھ نہیں دیتے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جب سعودی عرب جیسا بنیاد پرستی کا علمبردار ملک تبدیل ہونے کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، تو پھر ہمیں بھی ماضی پرستی کے سحر سے نکل کر حقائق کا سامنا کرنے میں کس قباحت کا سامنا ہے؟ اس لیے اگر آگے بڑھنا ہے، تو پھر جرأت مندی کے ساتھ سرد جنگ کی پالیسیوں کی جگہ جدیدیت پر مبنی پالیسیاں اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے