امریکا اور روس کے لیڈروں کے درمیان حالیہ روابط کے بعد سے شام کی صورت حال میں تیزی سے نت روز نئی تبدیلیاں رونما ہور ہی ہیں۔یہ شام میں ایران کے کردار میں بتدریج کمی کی جانب بھی اشارہ ہے اور اس کے لیے مزید ہزیمت کا دیباچہ ہے۔

گذشتہ منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے کوئی ایک گھنٹے تک فون پر بات چیت ہوئی تھی۔اس کے بعد ولادی میر پوتین نے شامی صدر بشارالاسد کو بلا بھیجا تھا اور ان سے مذاکرات کیے تھے۔

ایران نے شام میں اپنی مہم کے لیے اربوں مختص کیے تھے،اب اس جنگ زدہ ملک میں اس کی بالا دستی کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ شامی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں زور پکڑ رہی ہیں۔

سیاسی لچک

روس ، ترکی اور ایران کے صدور نے گذشتہ ہفتے شام میں جاری بحران کے خاتمے کے کی غرض سے ایک مکمل سیاسی عمل کے آغاز کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔انھوں نے روس کے بحر اسود کے کنارے واقع سیاحتی مقام سوچی میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک کانفرنس کے انعقاد سے بھی اتفاق کیا تھا۔

بعض لوگ اس کو ایران کی فتح خیال کرسکتے ہیں لیکن کسی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا اور اس طرح ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہیں گے کہ ایران نے کس طرح شام میں اپنی مکمل بالا دستی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن آج حالات اس کی بڑی ناکامی یا ہزیمت کی خبر دے رہے ہیں۔

ولادی میر پوتین کی میزبانی میں مسئلہ شام پر مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب کھیل روس کے ہاتھ میں آگیا ہے،اس سے تہران گہری تشویش میں مبتلا ہوچکا ہے۔بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ اس نے تو بشارالاسد کو برسر اقتدار رکھنے کے لیے چھے سال تک ایک طویل مہم چلائی ہے۔اب سادہ سی بات یہ ہے کہ ایران روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ رہا ہے ۔وہ امریکا کے ساتھ بھی مختلف امور پر بات چیت کررہا ہے اور شامی حزب اختلاف کے حامی ملک ترکی کے ساتھ بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا ۔اس کے بعد اس بات میں کوئی شُبہ نہیں رہ جاتا کہ ایران کو سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

کچھ لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ امریکا اور روس کے درمیان معاہدے سے شامی بحران کے حل کا خاکا بھی سامنے آئے گا ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوچی میں مذاکرات تہران اور انقرہ کو ماسکو اور واشنگٹن کی صف میں لاکھڑا کریں گے؟اس ضمن میں شکوک برقرار رہیں گے اور ایران اس بات کو واضح طور پر سمجھتا ہے کہ بعد از داعش اس کو شام بھاری قیمت پر حاصل ہوگا۔

روس شام میں برسرزمین اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں کمی لارہاہے ،اس کے بعد ایران کا وہا ں ’’شیعہ ہلال ‘‘کا خواب بھی خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔مزید برآں چین بعد از جنگ شام کی تعمیر نو میں اپنے کردار پر غور کررہا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ مستقبل میں اس ملک میں مزید کردار در آئیں گے اور ایران کا حصہ کم ہوتا چلا جائے گا۔

شام میں ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گرد گروپ قرار دیے گئے سپاہ پاسداران انقلاب بھی شام کی تعمیر نو میں اپنے حصے پر نظریں گاڑ رہے ہیں۔اس سے خطرے کی گھنٹی بج جانی چاہیے کیونکہ اس طرح کے کردار سے ایران کو شام میں اپنے قدم جمائے رکھنے کا موقع مل جائے گا۔

اعلیٰ عالمی مفادات

ایک حقیقت تو یہ ہے کہ روس کے تحفظات و مفادات صرف شام تک محدود نہیں ہیں۔بین الاقوامی اسٹیج پر ماسکو اور واشنگٹن کو ایک مختلف حیثیت حاصل ہے ۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ ماسکو شام کے لیے اپنے اعلیٰ عالمی مفادات کی قربانی نہیں دے گا۔

ٹرمپ اور پوتین کے درمیان فون پر گفتگو دونوں ملکوں کے درمیان شام پر رابطے کی بھی علامت ہے۔امریکا قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام امن مذاکرات میں ایک مبصر کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شام میں ان کے کردار کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے حال ہی میں ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کا ملک کیسے شام میں موجود رہے گا۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق جیمز میٹس نے کہا:’’ شام میں داعش کے خلاف جنگ آزما امریکی فوجی جہادی گروپ کی شکست کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ نہیں لیں گے بلکہ وہ و ہیں موجود رہیں گے‘‘۔ رائیٹرز کے مطابق ا مریکی محکمہ دفاع شام میں قریباً دو ہزار فوجیوں کی تعیناتی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے والا ہے۔

ایران اس بات کو بہ خوبی سمجھتا ہے کہ شام میں امریکا کی موجودگی خطے میں مستقبل کے کسی بھی منصوبے کے لیے مخمصے کا ذریعہ ہوگی ۔اگر سابق امریکی صدر براک اوباما کے عراق سے قبل از وقت انخلا کے خطرناک مضمرات کو ملحوظ رکھا جائے تو اس بات کا کم امکان ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام میں اس غلطی کے اعادے کی اجازت دیں گے۔

الریاض کے تحفظات

روس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اول الذکر شام کے حوالے سے سعودی عرب کے تحفظات کو بھی ملحوظ رکھے گا کیونکہ وہ عرب دنیا کی حمایت کی اہمیت کو بہ خوبی سمجھتا ہے۔صدر پوتین سعودی عرب کی رضا مندی کے حصول کی ہر ممکن کوششیں کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا سے اپنی حالیہ ملاقات میں کہا تھا کہ ان کی حکومت شامی حزب اختلاف کو متحد کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ روس کی حالیہ امن کوششوں کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

ایران کے برعکس بشارالاسد کا برسر اقتدار رہنا روس کے لیے کوئی سرخ لکیر نہیں ہے۔روس شامی بحران کے خاتمے کے لیے سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سمیت علاقائی ریاستوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سے مشرق وسطیٰ میں ایران کے حریف سعودی عرب کے اور زیادہ نمایاں کردار کی اہمیت بھی اجاگر ہوجاتی ہے۔

وہی سعودی عرب ، جس کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’’ مشرق وسطیٰ کا نیا ہٹلر‘‘ قرار دیا ہے۔

سایہ

ایران کے لیے مزید تشویش کا سبب یہ بات ہوسکتی ہے کہ سوچی مذاکرات میں شام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کے تحت امن اور استحکام کے قیام پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔اس پلیٹ فارم کو ایران کے سرکاری میڈیا نے ’’ امریکی اور صہیونی‘‘ سازش قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں شامی بحران کے حل کا سایہ تہران کا پیچھا جاری رکھے گا۔ صدر ولادی میر پوتین نے اس بات پر زوردیا ہے کہ شام کے سیاسی سمجھوتے میں جنیوا سمجھوتے کے فریم ورک کے تحت تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔

ایران کے زخموں پر مزید نمک گذشتہ جمعرات کو الریاض میں مذاکرات میں اس وقت چھڑکا گیا تھا جب شامی حزب اختلاف نے جنیوا امن مذاکرات میں واحد بلاک کو بھیجنے سے اتفاق کیا تھا اور شامی حزب اختلاف کی معروف شخصیت نصرالحریری کو حزب اختلاف کا اعلیٰ مذاکرات کار منتخب کیا گیا تھا ۔نصر الحریری کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر ہر موضوع پر گفتگو کے لیے تیار ہے۔

تہران شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں حزب اختلاف کے منتشر رہنے پر تو یقیناً خوش رہا ہوگا۔

ایران کا مخمصہ

شام میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے اب ایک موقع دستیاب ہوا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ جنیوا مذاکرات میں حتمی سیاسی حل عملی شکل میں سامنے آجائے گا۔

تاہم ایران خطے بھر میں تشدد میں اضافے کے لیے کوشاں ہے۔اگر کشیدگی میں کسی طرح کمی واقع ہوتی ہے تو یہ ایران کے مفادات کے خلاف ہوگی کیونکہ اس طرح تو عالمی برادری کو ایران کے متشدد رویے کے گرد گرہ لگانے کا موقع مل جائے گا۔اس کے متنازع جوہری پروگرام ، بیلسٹک میزائلوں کی ترقی اور مشرق وسطیٰ بھر میں دہشت گردی کی حمایت اور گماشتہ گروپوں کے ذریعے اثرورسوخ پھیلانے کی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی روک لگ جائے گی۔

سعودی ولی عہد نے اپنے مذکورہ بالا انٹرویو میں یہ بات بھی کہی تھی کہ ’’ دنیا نے یورپ سے یہ بات سیکھی ہے کہ ممنونِ احسان کرنے کا رویہ ہمیشہ کام نہیں کرتا ہے‘‘۔اب جب کہ دنیا شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے تو ایران کو اس کم زور عمل کے ذریعے ممنون احسان نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کو بہ ہر صورت روکا جانا چاہیے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے