سعودی عرب میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تبدیلیوں کا جو عمل شروع کیا ہے،اس نے بہت سوں کو حیرت زدہ کردیا ہے اور وہ انگشت بہ دنداں ہیں۔

بتیس سالہ ولی عہد سعودی عرب میں جو اقدامات کررہے ہیں،ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔یہ اصلاحاتی اقدامات اپنے حجم کے اعتبار سے زبردست اور حیران کن ہیں۔انسدادِ بدعنوانی کی مہم کے دوران میں محمد بن سلمان نے متعدد سعودی شہزادوں ، موجودہ اور سابقہ وزراء ، میڈیا مالکان ، ٹائکونز ،دانش وروں اور با اثر علماء کو گرفتار کیا ہے۔

ان اقدامات کے ذریعے دراصل محمد بن سلمان ایک ایسی واحد انتظامیہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جو انھیں خارجہ پالیسی اور داخلہ محاذ پر بڑے فیصلوں میں مدد دے۔اس مقصد کے لیے وہ دور رس نتائج کی حامل اہم اصلاحات بھی کررہے ہیں۔

مشترکہ مفادات کا تقاضا ہے کہ امریکا سعودی مملکت میں گہرائی کے حامل ایشوز پر تبدیلی کے لیے ان کی کوششوں کی حمایت کرے اور ان کے ساتھ مل کر پائیدار سیاسی اصلاحات کے نفاذ کے لیے کام کرے۔

ایران

سعودی عرب اور امریکا کے لیے سب سے اہم مہئل۔ یہ ہے کہ ایران مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔اس نے شام میں بشارالاسد کو برسراقتدار رکھنے میں مدد دی ہے۔بہ الفاظ دیگر اسی نے بشارالاسد کو برسراقتدار رکھا ہوا ہے۔لبنان میں حزب اللہ کو سیاسی بالادستی کا اہل بنا دیا ہے۔بحرین میں وہ بدامنی پھیلا رہا ہے۔عراق میں اس نے نیم فوجی گروپوں کے ذریعے داعش کی شکست میں کردار ادا کیا ہے اور یہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ ابھی تک عراقی سرزمین پر موجود ہیں۔ایران نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کو مضبوط کیا ہے۔

اس سب سے ماورا ایران کا جوہری پروگرام بدستور برقرار ہے۔محمد بن سلمان اس سب کچھ کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے ایران کے بارے میں سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور وہ اس پر مشرق وسطیٰ میں اپنی بالا دستی قائم کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ وہ ایران کو محدود کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور اپنے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان قائم شدہ تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کررہے ہیں۔وہ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب ا للہ کے مقابلے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔

محمد بن سلمان معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ویژن 2030ء پر عمل پیرا ہیں۔اس کے تحت بائیو میڈیکل ، مصنوعی ذہانت ، ڈرونز اور روبوٹس وغیرہ کی تیاری کے شعبوں میں تحقیق وترقی کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ان کوششوں کی معاونت اور صنعتی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے 500 ارب ڈالرز کی لاگت سے ایک نیا صنعتی شہر بھی بسایا جارہا ہے۔اس نئے شہر میں جدید تفریحی سہولتیں دستیاب ہوں گی اور جہاں حکام کی مداخلت کے خوف سے آزاد خواتین اور مرد آپس میں گھل مل سکیں گے۔

فوصیل ایندھن

یہ اور اس طرح کے دوسرے اقدامات سے سعودی عرب کو فوصیل ایندھن یعنی تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سعودی عرب کی سرکاری کمپنیوں کے حصص فروخت کیے جارہے ہیں اور خواتین کو آیندہ سال سے کاریں چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان اس طرح کے اقدامات کے ذریعے سعودی عرب کی معیشت اور معاشرت کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

حالیہ گرفتاریوں کے دوران میں گڑ بڑ کرنے والے بعض علماء کو بھی پکڑا گیا تھا۔انھوں نے 24 اکتوبر کو ایک یہ دلیرانہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ ’’ انتہا پسندانہ نظریات ‘‘ کو تہس نہس کردیں گے اور سعودی عرب کو دوبارہ ’’اعتدال پسند اسلام ‘‘ کا گہوارہ بنا دیں گے۔

ایران کے عفریت اور منافرت پر مبنی نظریے کی برآمد پر روک لگانے کے لیے امریکا کو محمد بن سلمان کی حمایت کرنی چاہیے۔اس کے علاوہ سعودی شہریوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ اور قانونی کی حکمرانی کے فروغ کے لیے بھی ان کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
____________________________

ڈاکٹر ٹیڈ گوور، پی ایچ ڈی ، سنٹرل ٹیکساس کالج اور امریکی میرین کور کے اڈے کیمپ پینڈلٹن ، کیلی فورنیا میں سیاسیات کے انسٹرکٹر ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے